ریلوے

دفاعِ مقدس کے دوران ریلوے نے نقل و حمل اور جنگی محاذوں کی رسد   اور پشت پناہی میں اہم کردار ادا کیا۔

ریلوے کا آغاز 1814 میں انگلستان میں ہوا جس کے موجد جیمز اسٹیفنسن تھے اور انہوں نے بھاپ سے چلنے والا پہلا انجن بنایا۔⁠[1]   ایران میں ریلوے کا آغاز 1888 میں تہران سے حرم عبدالعظیم (شہرِ رے) تک کی ریل لائن سے ہوا۔⁠[2]   سال 1927 میں بندر شاہپور (امام خمینی) سے بندر شاہ (ترکمن) تک ملک گیر ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور 1937 میں مکمل ہوا۔⁠[3] اس ریل راستے نے 4,380,440 ٹن سامان اور گولہ بارود منتقل کر کے دوسری عالمی جنگ میں اتحادیوں کی جانب سے سوویت یونین کو مدد پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔⁠[4]

مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی، ریلوے نے اپنی سہولیات کا ایک بڑا حصہ جنگی ساز و سامان کی نقل و حمل اور فوج، سپاہِ پاسداران اور بسیج کے اہلکاروں کی منتقلی کے لیے وقف کر دیا۔ یہ کام ان حالات میں انجام دیا گیا جب جنوبی، شمال مغربی اور یہاں تک کہ مرکز کے تمام اسٹیشن دشمن کی فضائی بمباری اور توپ خانے کے حملوں کی زد میں تھے۔ فوجیوں یا فوجی محمولات کو لے جانے والی ٹرینیں کم سے کم وقت میں اور مخصوص حالات کے تحت رات کے وقت روشنیاں بند کر کے حرکت کرتی تھیں۔ یہ اس وقت تھا جب صوبہ لرستان کے علاقے کے زیادہ تر اسٹریٹیجک پل یا سامان اتارنے والے اسٹیشن پے در پے حملوں کی وجہ سے تباہ ہو چکے تھے یا ان کی تنصیبات اور تکنیکی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ مسافر ٹرینوں کی گنجائش صرف 600 افراد کی تھی لیکن جنگ کے دوران جنوب کی طرف جانے والی ہر ٹرین بعض اوقات 1400 سے زائد فوجیوں کو جنگی علاقوں تک منتقل کرتی تھی۔⁠[5] ان حالات میں چھ افراد والے ڈبے یا بوگی میں 8 یا 9 افراد ایک ساتھ بیٹھتے تھے۔ بعض اوقات رش کی زیادتی کی وجہ سے کچھ لوگ راہداریوں میں بھی بیٹھتے اور وہیں سوتے تھے۔⁠[6]

اسی طرح فوج کے ہیڈ کوارٹر کی درخواست پر " جنگی ٹرینیں" کے عنوان سے خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں جن کے ذریعے ہر قسم کا ہلکا اور بھاری گولہ بارود بشمول ٹینک محاذوں تک منتقل کیے گئے۔⁠[7]

زخمیوں کی منتقلی بھی دفاعِ مقدس میں ریلوے کے اقدامات میں سے ایک تھی۔ ریلوے نے " ہسپتال ٹرین" کے نام سے مشہور بوگیوں کے 5 سیٹ اس کام کے لیے وقف کیے جن میں سے ہر ایک میں ایک آپریشن تھیٹر اور مریضوں کے لیے 200 بستر موجود تھے۔ آپریشنز کے وقت بھی روزانہ تین یا چار ٹرینیں، جن میں سے ہر ایک 300 سے 400 زخمیوں کو لے کر جاتی تھی، جنگ کی پشتیبانی کرتی تھیں۔⁠[8]

محاذ پر سڑکوں کی تعمیر کے شعبے میں بھی ریلوے نے شرکت کی۔ ریلوے نے اپنے سڑک سازی کے گروہوں کے ذریعے جنگی علاقوں میں پینتیس کلومیٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کیں یا سڑکوں اور بنکروں کی تعمیر کے لیے روزانہ سینکڑوں ٹن ریت اور بجری (ضرورت کے وقت روزانہ 160 سے 170 بوگیاں) محاذوں تک منتقل کیں۔⁠[9]

ریلوے نے بنکروں کی تعمیر میں بھی حصہ لیا⁠[10] اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلامی افواج کے دفاعی بنکروں کی تعمیر کے لیے 40 لاکھ ٹراورس (ریل کی پٹری کے نیچے بچھائے جانے والے لکڑی کے بڑے تختے) روانہ کیے۔ ریلوے کے گوداموں کو سپاہِ پاسداران کی جہادِ خود کفالت کے حوالے کرنا، متحرک پلوں کی تعمیر اور سڑک سازی کی بھاری مشینری جنگ کے لیے فراہم کرنا بھی مسلط کردہ جنگ کے دوران ریلوے کی دیگر پشتیبانی خدمات تھیں۔⁠[11]

دفاعِ مقدس کے آخری دو سالوں میں جب فضائی جنگ اور شہروں پر بمباری میں شدت آئی تو پناہ گاہوں کی ضرورت دگنی ہو گئی۔ اس دور میں ریلوے نے اپنی چند مضبوط اور بڑی عمارتیں، بشمول تہران کا مرکزی اسٹیشن اور اپنی عمارتوں کی زیریں منزلیں پناہ گاہوں کے طور پر فراہم کیں، جس سے بمباری اور میزائل حملوں کے وقت سینکڑوں افراد کی جانیں بچ گئیں۔ اس کے علاوہ ریلوے نے پناہ گاہیں تعمیر بھی کیں؛ تہران شہر کے محکمہ تعلیم کے مختلف علاقوں کے اسکولوں میں پناہ گاہوں کی تعمیر⁠[12] اور مجموعی طور پر 38 پناہ گاہیں اسی سلسلے کی مثالیں ہیں۔⁠[13]

جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے خاندانوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرنا ریلوے کا ایک اور اقدام تھا۔ نیز ساری کے مقام پر خزر آباد میں ریلوے کا تفریحی مرکز جنگ کے آغاز سے ہی جنگ زدگان کے اختیار میں دے دیا گیا جو جنگ کے خاتمے کے کئی سال بعد تک ان کے پاس رہا۔⁠[14]

عراقی فوج نے کئی بار میزائل اور فضائی حملوں کے ذریعے ایران کے ریلوے نیٹ ورک پر حملہ کیا اور زیادہ تر نقصان صوبہ لرستان (مرکز اندیمشک) اور جنوبی علاقے (مرکز اہواز) اور خرم شہر اسٹیشن کو پہنچا۔ اہم فضائی حملوں میں سے ایک جس کی وجہ سے ریلوے لائن منقطع ہو گئی، جنوری 1987 میں " تلہ زنگ" پل (درود اور اندیمشک کے درمیان) پر عراق کا فضائی حملہ تھا۔⁠[15] البتہ ریلوے نے پل کے شمالی جانب ایک عارضی اسٹیشن اور پیدل چلنے والوں کے لیے ایک ذیلی پل تعمیر کر کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں مسافروں اور فوجیوں کی منتقلی کا سلسلہ بحال کر دیا۔⁠[16] ایک اور موقع میں 25 نومبر 1986 کو عراق کے طیاروں نے دزفول، اندیمشک اور اس شہر کے ریلوے اسٹیشن پر حملہ کیا۔⁠[17]   اس بمباری کے دوران، جو عراق کے 54 جنگی طیاروں کے ذریعے کی گئی اور ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ تک جاری رہی، اندیمشک اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔⁠[18]

مسلط کردہ جنگ کے دوران، مجموعی طور پر لرستان سے جنوب تک کے علاقوں میں 120 تکنیکی عمارات اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا؛ تقریباً 650 دفتری اور رہائشی عمارتیں یا تو سو فیصد تباہ ہو گئیں یا انہیں کلی طور پر نقصان پہنچا۔⁠[19]

  جنگ کے دوران ریلوے کے دیگر اقدامات میں تباہ شدہ تنصیبات، پلوں اور ریل لائنوں کی مرمت اور بحالی کے لیے انجینئرنگ اور ماہرین کے گروپوں کی روانگی شامل تھی؛ ان میں ایک سو دن کی مدت میں اہواز - خرمشہر کی 120 کلومیٹر ریل لائن کی بحالی قابلِ ذکر ہے۔⁠[20]

جنگ کے وقت سامان کی برآمدات اور درآمدات کے شعبے میں قطور ریلوے پل (مغربی آذربائیجان اور ترکی کی سرحد) کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ قطور کے سٹریٹجک پل کو تباہ کرنا، جو ایران اور یورپ کے درمیان رابطے کا پل تھا، عراق کے اہم اہداف میں شامل تھا۔⁠[21]   عراقی فضائیہ نے 6 مرتبہ؛ 13 مارچ 1986، 7 مئی 1986، 17 مئی 1986، 26 مئی 1986، 18 جنوری 1987 اور 26 فروری 1988 کو⁠[22] حملوں کے دوران اس پل کے کنکریٹ کے ستونوں کو نقصان پہنچایا۔⁠[23] ریلوے کے ملازمین کی کوششوں سے پل کے نیچے ایک زمینی سڑک بنائی گئی اور بوگیوں کو پل کے دونوں اطراف کے درمیان اس سڑک کے ذریعے ' ٹائٹن' نامی طاقتور ٹرکوں کی مدد سے منتقل کیا گیا۔ اس طرح ایران اور ترکی کا ریلوے راستہ بحال رہا۔⁠[24]

جنگی محاذوں سے جنگی قیدیوں کو تہران منتقل کرنا ریلوے کا ایک اور اقدام تھا جو مسلح افواج کی حفاظت اور نگرانی میں انجام دیا جاتا تھا۔⁠[25]

مجموعی طور پر آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں ریلوے کے ذریعے فوج، سپاہِ پاسداران اور بسیج کے 7,747,660 اہلکار اور 37,471.36 ٹن فوجی ساز و سامان منتقل کیا گیا۔⁠[26] اس کے علاوہ ریلوے کے 12 ہزار ملازمین نے دفاعِ مقدس کے دوران رضاکارانہ طور پر محاذوں پر شرکت کی، جن میں سے 247 شہید، 5 جاوید الاثر (لاپتہ)، 290 اسیر اور 1241 زخمی ہوئے۔⁠[27]

مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد، جنگی علاقوں کی بحالی کی ضرورت کے پیشِ نظر ریلوے کے ' وار سپورٹ ہیڈ کوارٹر' نے 1988 میں اپنے ورکنگ گروپس میں ' وار انجینئرنگ اور ری کنسٹرکشن ہیڈ کوارٹر' کے نام سے ایک سیکشن کا اضافہ کیا اور 1994 تک بحالی کے تمام کاموں کی پشتیبانی کی۔ اس ہیڈ کوارٹر کی سرگرمیاں صرف جنگی نقصانات تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ پورے ملک میں تعمیر و مرمت کے تمام شعبوں بشمول رودبار شہر کے زلزلے (1990) سے ہونے والی تباہی کی بحالی میں بھی فعال رہا۔⁠[28]

جنگ کے بعد ریلوے نیٹ ورک کی ترقی کا عمل جاری رہا۔ منجملہ بافق سے بندر عباس تک 633 کلومیٹر طویل راستہ 1995 میں، تہران - گرمسار - مشہد کی دوسری لائن 926 کلومیٹر طویل 2001 میں، اور ملک کا 800 کلومیٹر طویل مشرقی ٹرانزٹ روٹ جو بندر عباس کو ملک کے شمال مشرق سے جوڑتا ہے، 2005 میں مکمل ہوئے۔⁠[29]

اس وقت ہمدان - سنندج ریلوے منصوبہ جو کردستان کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑتا ہے، میانہ - اردبیل ریلوے اور رشت - کاسپین ریلوے، ریلوے کے زیرِ تعمیر منصوبوں میں شامل ہیں۔⁠[30]

 


حوالہ جات

  • [1]. مکملی، محمدکاظم، تاریخ جامع راه‌ آهن، تہران، روابط عمومی راه‌ آهن جمهوری اسلامی ایران، ج 1، 1998، ص 109.
  • [2]. مکملی، محمدکاظم، تاریخ جامع راه‌ آهن، تہران، روابط عمومی راه‌ آهن جمهوری اسلامی ایران، ج 2، 2000، ص 267.
  • [3]. داودی، آرش، حماسه جاوید: نقش راه‌ آهن در هشت سال دفاع مقدس، تہران، روابط عمومی راه‌ آهن جمهوری اسلامی ایران، 2016، ص 27 اور 30.
  • [4]. ایضاً، ص 32 تا 34.
  • [5]. ایضاً، ص 67
  • [6]. «نقش راه‌ آهنی‌ ها در دفاع مقدس»، ویب سائٹ مشهد چهره، 26 مئی 2023، www. mashhadchehreh. shahraranews. ir/fa/news/5057
  • [7]. داودی، آرش، ایضاً، ص 67.
  • [8]. ایضاً، ص 68.
  • [9]. ایضاً، ص 66.
  • [10]. اسماعیل‌ زاده، صمد اور غلام حسن امیربیگی، لجستیک، تہران، ایران سبز، 2018، ص 130
  • [11]. داودی، آرش، ایضاً، ص 66.
  • [12]. ایضاً، ص 66.
  • [13]. ایضاً، ص 67.
  • [14]. ایضاً، ص 68
  • [15]. ایضاً، ص 70.
  • [16]. ایضاً، ص 71
  • [17]. معما، محمد، غرش رعد: زندگینامه سرتیپ خلبان عبدالحمید نجفی، تہران، عماد فردا، 2015، ص 251.
  • [18]. داودی، آرش، ایضاً، ص 70
  • [19]. ایضاً، ص 70.
  • [20]. ایضاً، ص 71.
  • [21]. ایضاً، ص 73
  • [22]. غلامی، برات علی، پدافند هوایی، روزشمار دفاع مقدس، ج 2، تہران، انتشارات ایران سبز، 2020، ص 447، 460، 463، 464، 537 اور 650
  • [23]. داودی، آرش، ایضاً، ص 244
  • [24]. ایضاً، ص 74 اور 244 تا 247.
  • [25]. ایضاً، ص 69.
  • [26]. ایضاً، ص 67.
  • [27]. ایضاً، ص 69.
  • [28]. ایضاً، ص 263.
  • [29]. «تاریخچه راه‌ آهن ایران»، تین نیوز شبکه خبری تحلیلی صنعت حمل‌ ونقل، 30 اکتوبر 2022، www. tinn. ir/39429
  • [30]. «رشد 3 برابری خطوط ریلی کشور بعد از انقلاب»، ویب سائٹ تحلیل بازار، 7 فروری 2022، www. tahlilbazaar. com/news/134093

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع