آپریشن بیت المقدس 2

بیت المقدس 2 آپریشن عراق کے صوبہ سلیمانیہ کے شمال میں واقع شہر ماووت کے مغرب میں موجود بلندیوں کو آزاد کروانے کے مقصد سے کیا گیا۔ یہ آپریشن 15 جنوری 1988 کو پاسداران انقلاب اسلامی نے رمز " یا زہرا (س) " کے تحت انجام دیا۔

جنوبی محاذوں پر ایران کے آپریشنل راستے 1987 کے آخر تک بند ہو چکے تھے۔ اس لیے پاسداران انقلاب نے آپریشن کرنے کے لیے اپنی جنگی صلاحیت کا ایک حصہ شمال مغربی محاذوں کی طرف، خصوصا عراق کے صوبہ سلیمانیہ کے مشرق کی طرف بھیج دیا۔⁠[1]

نصر 4 آپریشن (مئی 1987) کے ذریعے شہر ماووت پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس سے اس علاقے کے بائیں بازو میں آپریشن کرنے کا راستہ بن گیا۔ یہ علاقہ قلعہ چولان دریا کے مشرق تک پھیلا ہوا تھا۔ پھر نصر 8 آپریشن (ستمبر 1987) میں گردہ رش کی بلندی پر قبضہ ہو گیا جس سے قلعہ چولان دریا کو عبور کرنا ممکن ہو گیا۔ نیز دریائے مغرب میں داخل ہو کر شمال مغرب اور جنوب کی طرف رسائی ممکن بھی ہو گئی۔

سابق آپریشنوں میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں، ان سب نے مل کر ایران کی افواج کو عراق کے شہر ماووت کے شمال مغرب میں موجود بلندیوں پر وسعت اختیارات کا موقع فراہم کر دیا۔ اس وجہ سے مزید کئی بلندیوں پر قبضے کے لیے بیت المقدس 2 آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی۔⁠[2]   اس آپریشن کا نام پہلے بیت المقدس 1 رکھا گیا تھا۔ لیکن تہران میں موجود جنگ کے پروپیگیشن سٹاف نے اس نام کو بیت المقدس 2 قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خرمشہر کو آزاد کرانے والا آپریشن بیت المقدس کے نام سے ہوا تھا، اس لیے اس آپ آپریشن کا نام " بیت المقدس 2" رکھا گیا۔⁠[3]

بیت المقدس 2 آپریشن کا علاقہ سلیمانیہ کے شمال میں تھا۔ اس میں ہرمدان میدان کا عمومی علاقہ اور ویولان، گوجار، قمیش، دولبشک، الاغلو کی بلندیاں نیز آمِدیَن کی بلندی شامل تھیں۔ اس آپریشن میں آپریشنل علاقے کے جنوب اور مغرب کی طرف پیش قدمی کا منصوبہ تھا۔ اس کا مقصد شہر سلیمانیہ اور قلعہ دیزہ کے علاقے میں واقع " دوکان" ڈیم کے قریب پہنچنا تھا۔⁠[4]

جہاد سازندگی نے نصر 8 آپریشن میں فوجیوں کی رسد کے لیے ایک انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقے میں سڑک تعمیر کر دی تھی۔ بیت المقدس 2 آپریشن میں شامل افواج نے بھی یہی سڑک استعمال کی۔⁠[5]

اس علاقے کی زمینی صورت حال اور قلعہ چولان دریا کی وجہ سے اس کے دو حصے (مشرقی اور مغربی) بن گئے تھے۔ اس لیے بیت المقدس 2 آپریشن کے لیے دو کیمپ بنائے گئے: نجف اور قدس۔⁠[6]   آپریشن کے دوران 40 میٹر چوڑا قلعہ چولان دریا شدید بارشوں کی وجہ سے طغیانی کا شکار ہو گیا۔ پورا علاقہ ڈیڑھ میٹر برف سے ڈھک گیا۔⁠[7]

پاسداران انقلاب کی بہت سی یونٹیں اس آپریشن میں شریک تھیں۔ اس لیے آپریشن کی قیادت الگ الگ طور پر دو کمانڈروں اور دو کیمپوں کے سپرد کی گئی۔ قمیش کی بلندیوں کے محور کی ذمہ داری نجف کیمپ کو دی گئی۔ آمِدیَن کی بلندیوں کے محور کی ذمہ داری قدس کیمپ کو دی گئی۔

آمِدیَن کے محور میں درج ذیل یونٹیں قدس کیمپ کے ماتحت تھیں:

ڈویژن 10 سید الشہداء 15 بٹالینز کے ساتھ، ڈویژن 27 محمد رسول اللہ (ص) 8 بٹالینز کے ساتھ، ڈویژن 31 عاشورا 8 بٹالین کے ساتھ، ڈویژن 32 انصار الحسین 7 بٹالینز کے ساتھ، ڈویژن 52 قدس 5 بٹالین، ڈویژن 57 حضرت ابوالفضل (ع) 4 بٹالیز کے ساتھ اور بکتر بند بریگیڈ 20 رمضان (خشایار ٹینکوں کی 2 کمپنیاں، یہ بکتر گاڑیاں فوجی نفری کو لے جانے والی تھیں) ۔

قمیش کے محور میں درج ذیل یونٹیں نجف کیمپ کی طاقت تشکیل دے رہی تھیں:

ڈویژن 5 نصر 12 بٹالین کے ساتھ، ڈویژن 21 امام رضا (ع) 10 بٹالینز کے ساتھ، ڈویژن 55 شہداء 6 بٹالینز کے ساتھ اور بریگیڈ 12 قائم (عج) 5 بٹالینز کے ساتھ، بریگیڈ 18 الغدیر 5 بٹالینز کے ساتھ، بریگیڈ 35 امام حسن (ع) 8 بٹالیز کے ساتھ، بریگیڈ 48 فتح 5 بٹالینز کے ساتھ۔

مجموعی طور پر 15 یونٹوں پر مشتمل ان دو کیمپوں کی طاقت 104 بٹالین تھی۔⁠[8]

چونکہ بیت المقدس 2 آپریشن ایران کا 1987 میں سالانہ بڑا آپریشن تھا اور یہ پہلی بار شمال مغربی محاذوں پر کیا جا رہا تھا، اس لیے اس وقت کے پاسداران انقلاب کی زمینی فوج کے کمانڈر علی شمخانی کے علاوہ پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر محسن رضائی بھی آپریشنل کیمپ میں موجود تھے۔⁠[9]

موسم سرما، برف باری اور ناقابل گزر بلندیوں میں آپریشن کرنے کی مشکلات کے باوجود بیت المقدس 2 آپریشن جمعہ 16 جنوری 1988 کی رات 1:15 بجے رمز " یا زہرا (س) " کے ساتھ شروع ہوا۔ پہلے کیمپ نجف کی یونٹوں نے کارروائی کی۔ اس کے بعد قدس کیمپ کی افواج نے تین محوروں ویولان، ہرمدان میدان اور قمیش کی بلندی پر قدم رکھا۔⁠[10] ایک انوکھے اقدام میں کانٹے دار تاروں اور ضروری آلات کی مدد سے قلعہ چولان دریا پر 200 میٹر لمبا پل نصب کر دیا گیا۔ یہ پل دریا کے پانی کی سطح سے 40 میٹر بلند تھا۔ سپاہی دس دس افراد کی تعداد میں اس پل کو عبور کرتے تھے۔⁠[11]

آپریشن کے پہلے مرحلے میں مجاہدین نے 29 حساس بلندیوں پر قبضہ کر لیا۔⁠[12] اس مرحلے میں ہرمدان میدان اور قامیش، دری، شفره، مشکینہ، باساوا کے گاؤں آزاد ہو گئے۔ نیز 1598، 1652، 1449، 1225، 1473، 1045، 990، 993 اور 1139 میٹر بلند پہاڑیاں، نیز گوجار کی پانچوں بلندیاں، واویلان کی تینوں بلندیاں، شیلانہ کی وادی اور کوخہ بین دولا و گلالہ کی دوہری بلندیاں بھی آزاد ہو گئیں۔ ان بلندیوں کے آزاد ہوتے ہی شہر ماووت کے مغرب میں 110 مربع کلومیٹر رقبہ ایران کی افواج کے قبضے میں آ گیا۔⁠[13]

بیت المقدس 2 آپریشن کو جاری رکھنے میں درپیش مشکلات میں دشمن کی پھرتی اور چوکسی، دریا کے طغیانی کے باعث " گردہ رش" کی سڑک اور پل کا تباہ ہو جانا، آپریشن کے پچھلے حصے کا بند ہو جانا اور شدید مسلسل برف باری شامل تھی۔⁠[14] اس کے باوجود آپریشن کا دوسرا مرحلہ 18 جنوری 1988 کی صبح سویرے شروع ہو گیا۔ اس مرحلے میں بھی خراب موسم کے باوجود گوجار کی پہاڑی سلسلے کی تین دیگر چوٹیاں اور قامیش وادی پر واقع 1100 اور 115 میٹر کی بلندیاں آزاد اور کلیئر کر دی گئیں۔ نیز شہر ماووت کے مغرب میں مزید 20 مربع کلومیٹر رقبہ ایران کے قبضے میں آ گیا۔⁠[15] اس مرحلے میں عراق کو جب ایران کی اس علاقے میں کوششوں کا علم ہوا تو اس نے نئی یونٹیں اور ضروری سامان اس علاقے میں منتقل کر دیے۔⁠[16] عراق نے پہلی اور پانچویں کور کے کمانڈو بریگیڈز، ڈویژن 24 کی کمانڈو بٹالین اور 413 پیادہ بریگیڈ کو استعمال کرتے ہوئے ماووت کی بلندیوں کی طرف جوابی حملہ کیا۔ لیکن اس کی 80 فیصد سے زیادہ افواج ختم ہو گئیں۔ دشمن کے بچے ہوئے افراد خوف زدہ ہو کر علاقہ چھوڑ گئے۔⁠[17]

آپریشن کا تیسرا مرحلہ 21 جنوری 1988 کو شروع ہوا۔ ایرانی فوجیوں نے زاب کوچک وادی کو عبور کیا⁠[18] اور خراب موسم کے باوجود شہر ماووت سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اہم اور اسٹریٹجک بلندی " کرکر" کے ساتھ ساتھ 2482، 2545 اور 2301 میٹر بلند پہاڑیوں اور ویسی کی پہاڑی زنجیروں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔ نیز مرکزی چوٹی اور یولان سے ویسی تک کا جوڑنے والا پہاڑی کنارہ بھی ان کے قبضے میں آ گیا۔ اس مرحلے میں عراق کے مزید 15 مربع کلومیٹر رقبے کو آزاد کرایا گیا۔ شمالی عراق میں واقع قلعہ دیزہ بھی بائیں بازو پر ایران کی افواج کی گرفت میں آنے کے بعد ان کی براہ راست نظر اور فائر کی زد میں آ گیا۔ نیز اس مرحلے میں ضرون، گلان کے گاؤں اور قوچان میدان آزاد ہو گئے۔ شہر ماووت جو نصر 4 آپریشن میں تو آزاد ہو چکا تھا، لیکن ابھی تک دشمن کی نظر اور گولہ باری کی زد میں تھا، اب مکمل طور پر 10 کلومیٹر کے دائرے میں دشمن کی نظر سے باہر ہو گیا۔⁠[19]

بیت المقدس 2 آپریشن میں عراقی فوج کی درج ذیل یونٹیں تباہ ہوئیں:

83 اور 603 پیادہ بریگیڈ، بریگیڈ 412 کی پہلی بٹالین اور 7 نسیان ٹینک بٹالین (80 فیصد تک)، لشکر 39 کی کمانڈو بٹالینیں، بریگیڈ 81 کی پہلی بٹالین (50 فیصد) اور 53 آرٹلری بٹالین (30 فیصد)، پہلی کور کی پہلی کمانڈو بریگیڈ، صدارتی گارڈ کی تھرڈ اسپیشل فورس بریگیڈ اور لشکر 41 کی کمانڈو بٹالین (70 سے 90 فیصد تک) ۔ 15 ٹینک اور بکتر بند افرادی گاڑیاں، 70 مارٹر، 21 گاڑیاں، 16 طیارہ شکن ہتھیار، ایک رازیت ریڈار، بڑی تعداد میں مواصلاتی اور انجینئرنگ کے آلات، نیز مختلف اقسام کے ہلکے ہتھیار اور گولہ بارود مال غنیمت میں حاصل ہوئے۔ دشمن کے 2000 اہلکار مارے گئے یا زخمی ہوئے اور 200 قید ہوئے۔⁠[20]

اس آپریشن میں آمِدیَن، ویولان، گوجار، قمیش، سوئی پہاڑی اور گردہ شیلان کی بلندیوں پر قبضے کے بعد عراق کی سرزمین کے اندر ان علاقوں تک آمد و رفت ممکن ہو گئی جو آزاد کرائے گئے تھے۔⁠[21]

بیت المقدس 2 آپریشن میں فوج کی ہوائی امداد (آرمی ایوی ایشن) نے 25 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 828 گھنٹے پرواز کی۔ اس دوران 2141 اہلکار، 1120 زخمی اور 65 ٹن گولہ بارود اور رسد کی ترسیل کی گئی۔ 3 ہیلی کاپٹر دشمن کی گولی کی زد میں آئے۔⁠[22]

بیت المقدس 2 آپریشن میں کامیابی کے عوامل میں سے ایک پاسداران انقلاب کی توپ خانے کی درست فائرنگ تھی۔⁠[23]

 

 


حوالہ جات

  • [1]. اردستانی، حسین و یدالله ایزدی، روزشمار جنگ ایران و عراق (کتاب پنجاه و سوم، نبرد بزرگ زمستانی در جبهه شمالی)، ج 1، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2019، ص 25۔
  • [2]. پوراحمد، احمد، جغرافیای عملیات ماندگار دفاع مقدس، تهران، بنیاد حفظ آثار ونشر ارزش‌ های دفاع مقدس، چ دوم، 2011، ص 391۔
  • [3]. اردستانی، حسین و یدالله ایزدی، سابق، ص 47
  • [4]. ہمشہری آن لائن، «آشنایی با عملیات بیت‌ المقدس 2»، 3 مارچ 2013، www. hamshahrionline. ir/news/203740۔
  • [5]. سابق.
  • [6]. پوراحمد، احمد، سابق، ص 409
  • [7]. ہمشہری آن لائن، سابق.
  • [8]. سابق.
  • [9]. اردستانی، حسین و یدالله ایزدی، سابق، ص 47
  • [10]. پوراحمد، احمد، سابق، ص 409 و 410
  • [11]. ہمشہری آن لائن، سابق.
  • [12]. پوراحمد، احمد، سابق، ص 411
  • [13]. سابق، ص 412.
  • [14]. سابق، ص 415.
  • [15]. سابق، ص 412.
  • [16]. سابق، ص 411.
  • [17]. سابق، ص 413 و 414.
  • [18]. سابق، ص 411.
  • [19]. سابق، ص 412.
  • [20]. سابق، ص 413.
  • [21]. ہمشہری آن لائن، سابق.
  • [22]. اردشیرزاده، کریم، حماسه‌ ‌ های ماندگار هوانیروز در دفاع مقدس، تهران، نودید طراحان، 2009، ص 155 و 156۔
  • [23]. پوراحمد، احمد، سابق، ص 414۔

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع