آپریشن ایچ 3
عراق کے تین فضائی اڈوں کو، جو اس ملک کے مغربی حصے (یعنی ایران کے بالکل مخالف سمت میں)اور اردن کی سرحد پر واقع ہیں، ایچ-3 (H-3) کہا جاتا ہے۔
ان تین اڈوں کی تفصیل کچھ یوں ہے: "الولید" جو مرکزی اڈے کی حیثیت رکھتا ہے، "الموراسانہ" شمال مغرب میں اور "الطبعات" مرکزی اڈے کے جنوب مغرب میں واقع ہے[1] ، یہ تینوں اڈے اردن کی سرحد سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مثلث (Triangle) تشکیل دیئے ہوئے ہیں۔ سن 1935 میں موصل سے حیفا (اسرائیل) تک تیل کی پائپ لائن کے راستے میں "ایچ-3" کے پمپنگ اسٹیشن پر طیاروں کی لینڈنگ کے لیے ایک رن وے بنایا گیا تھا، جسے 1970 کی دہائی میں اسرائیل کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وسعت دی گئی اور یوں ایچ-3، عراقی فضائیہ کے اہم اڈوں میں سے ایک قرار پایا۔[2]
22 ستمبر 1980 کو ایرانی سرحدوں پر عراقی فوج کے حملے اور مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد، عراقی فضائی اڈوں پر ایرانی فضائیہ کے جوابی حملوں نے دشمن کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے طیاروں کا ایک حصہ مغربی عراق میں واقع مذکورہ مثلث میں منتقل کر دے۔ اکتوبر 1980 کے وسط میں ایسی دستاویزات اور شواہد ملے جن سے تصدیق ہوئی کہ عراقی طیارے ملک کے مغربی حصے میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔[3] ایلوشین-28 بمبار طیارے، ٹوپولیف-16 اور 22، اور مگ-23 اور سوخو-20 جنگی طیارے ان طیاروں میں شامل تھے جو مغربی عراق میں ایچ-3 کے اڈوں پر منتقل کیے گئے۔[4]
فضائیہ کے آپریشنل ڈپارٹمنٹ نے ایچ-3 پر حملے کا منصوبہ اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔ ایران کے قریب ترین ایئر بیس یعنی "شہید نوژہ" (ہمدان) سے ایچ-3 تک کا فاصلہ تقریباً 850 کلومیٹر تھا اور ایرانی جنگی طیاروں کا ایندھن اس فاصلے کو طے کرنےکے لیے ناکافی تھا۔[5]
ایچ-3 پر حملے کے لیے تین منصوبوں پر غور کیا گیا۔ پہلا منصوبہ کویت اور سعودی عرب کی سرحدی پٹی سے حملہ اور پھر طیاروں کی شام میں لینڈنگ تھا۔ دوسرا منصوبہ بغداد کے شمال سے براہِ راست پرواز اور پھر شام میں لینڈنگ اور تیسرا منصوبہ عراق اور ترکی کی سرحدی پٹی اور پھر وہاں سے شام کی طرف سے ایچ-3 اڈوں پر حملہ کرنا تھا۔ پہلا منصوبہ سعودی عرب کے اوواکس (AWACS) کی موجودگی اور آپریشن کے لیک آوٹ ہو جانے کے امکان کی وجہ سے، جبکہ دوسرا منصوبہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کی وجہ سے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ تیسرے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی منظوری دی گئی۔[6]
منصوبے کے مطابق، 14 فینٹم طیاروں نے "شہید نوژہ" بیس سے اڑان بھرنی تھی اور جھیل ارومیہ کے جنوب میں دو بوئنگ-707 طیاروں سے فضا میں ایندھن بھرنا تھا، پھر شمالی عراق کے راستے ترکی کی سرحد کے بالکل ساتھ ساتھ رہتےہوئے شام تک جانا تھا۔ وہاں دوبارہ فضا میں ایندھن بھر کر ہدف کی طرف بڑھنا تھا اور بمباری کے بعد واپسی پر پھر ایندھن بھر کر ترکی اور عراق کی سرحد کے راستے وطن واپس آنا تھا۔ منصوبے کے مطابق دو بوئنگ-747 ری فیولر طیارے آپریشن سے پہلے شام بھیجے جانے تھے تاکہ واپسی پر تہران آتے ہوئے فینٹم طیاروں کو ایندھن فراہم کر سکیں۔ جھیل ارومیہ کے اوپرمحو پرواز ٹینکر طیاروں کی فضائی حفاظت کی ذمہ داری اصفہان بیس کے ایف-14 اور تبریز بیس کے ایف-5 طیاروں کے سپرد تھی۔[7]
یکم نومبر 1980 کو 14 فینٹم طیارے شہید نوژہ بیس سے اڑے اور جھیل ارومیہ پر ایندھن بھرا، لیکن مشن لیک آوٹ ہو جانے کی وجہ سے آپریشن منسوخ کر دیا گیا۔ دوسری بار 7 فروری 1981 کو دوبارہ فینٹم طیارے بمباری کے مشن پر روانہ ہوئے، لیکن جھیل ارومیہ کے اوپر خراب موسم اور برف باری کے باعث حدِ نگاہ واضح نہ ہونے کی وجہ سےیہ مشن بھی منسوخ کرنا پڑا۔[8]
4 اپریل 1981 کو تیسری بار، 8 اصلی اور 2 ریزرو فینٹم طیارے الولیدایئر بیسز پر بمباری کے لیے روانہ ہوئے۔ جھیل ارومیہ پر ایندھن بھرنے کے بعد 8 فینٹم طیارہ شمالی عراق کے راستے آگے بڑھے اور شام پہنچ کر پہلی بار ایندھن بھرا، پھر سفر کو جاری رکھتے ہوئے عراقی سرحد کے متوازی جنوب کی طرف بڑھنے لگے۔[9] منصوبے کے مطابق عین اسی وقت تبریز بیس سے تین ایف-5 طیاروں نے عراق کی کرکوک آئل ریفائنری پر بمباری کی تاکہ دشمن کی توجہ اصلی مشن کی طرف جانے کی بجائے اس حملے کی طرف مبذول ہو جائے۔[10]
پھر فینٹم طیارے تین گروپوں میں تقسیم ہو گئے؛ پہلے گروپ کے تین طیاروں نے شمالی بیس پر، دوسرے گروپ کے دو طیاروں نے جنوبی بیس پر اور تیسرے گروپ کے تین طیاروں نے مرکزی بیس (الولید) پر حملہ کیا۔[11]بمباری کے بعد، ایک فینٹم طیارہ، طیارہ شکن گن کی زد میں آ کر فنی خرابی سے دوچار ہو گیا جسے دمشق (شام) کے شمال مشرق میں واقع "پالمیرا" بیس پر لینڈنگ کرنا پڑی۔[12]
باقی فینٹم طیارے واپسی کے راستے میں دوبارہ ہوا میں ایندھن بھر کر باحفاظت ایران کی حدود میں داخل ہوئے اور 4 گھنٹے 50 منٹ کی پرواز[13] اور 6000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد شہید نوژہ ایئربیس پر لینڈ کر گئے۔[14]
امریکی انٹیلی جنس حکام نے ایچ-3 کی اس بمباری کے دوران 3 عدد انٹونوف-12 ٹرانسپورٹر طیارے، 1 عدد ٹوپولیف-16 بمبار، 4 عدد مگ-21، 5 عدد سوخو-20، 8 عدد مگ-23، 2 عدد میراج ایف-1 اور 4 عدد مل-8 ہیلی کاپٹروں کی تباہی کی تصدیق کی۔[15] اس کارروائی میں دو مصری پائلٹ، ایک مشرقی جرمنی کا باشندہ اور چودہ عراقی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ انیس عراقی، چار مصری اور دو اردنی شہری زخمی ہوئے۔[16]
آپریشن ایچ-3 کی پشتپناہی، معاونت اور انجام دہی کے لیے مختلف اقسام کے 54 جنگی، ری فیولر اور ٹرانسپورٹ طیاروں اور فضائیہ کے 75 پائلٹوں نے شرکت کی تھی۔[17]
منابع و ارجاعات:
- [1] مهرنیا، احمد، حمله به الولید، تهران: سوره مهر، چ هفتم، 2013، ص39.
- [2] www.wikipedia.org/wiki/H-3_Air_Base
- [3] ماهنامه همشهری پایداری، ش139، مارچ 2015، ص69.
- [4] مهرنیا، احمد، سابق، ص27.
- [5] ماهنامه همشهری پایداری، سابق.
- [6] سابق، ص69.
- [7] مهرنیا، احمد، سابق، ص39-35
- [8] ماهنامه همشهری پایداری، سابق، ص70؛ مهرنیا، احمد، سابق، ص45.
- [9] مهرنیا، احمد، سابق، ص152-141.
- [10] سابق، ص153 و 154.
- [11] سابق، ص170 و 171
- [12] سابق، ص181-179.
- [13] سابق، ص85 و 191 و 194.
- [14] ماهنامه همشهری پایداری، ش40، فروری 2010، ص15.
- [15] سابق، ص214 و 222.
- [16] مهرنیا، احمد، سابق، ص214 و 222 و 223.
- [17] سابق، ص 214