فکہ
فکہ ایک ریگستانی علاقہ ہے جو صوبہ خوزستان کے شمال مغرب اور صوبہ ایلام کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ عراق کے ایران پر حملے کے ابتدائی ایام میں یہ علاقہ دشمن کے قبضے میں چلا گیا تھا اور پھر اسی جنگ کے دوران اس علاقے کا ایک حصہ ایران کے قبضے میں آ گیا اور ایک حصہ عراق کے قبضے میں رہا۔
فکہ جنوب سے چزابہ اور بستان تک، مشرق سے میشداغ اور رقابیہ کی بلندیوں تک، شمال مغرب سے عین خوش اور موسیان تک، شمال مشرق سے برقازہ تک اور مغرب سے عراق کے صوبہ العمارہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ دو حصوں میں تقسیم ہے: شمالی فکہ اور جنوبی فکہ۔ جنوبی فکہ کا حصہ صوبہ خوزستان اور ضلع دشت آزادگان میں آتا ہے۔ شمالی فکہ کا حصہ صوبہ ایلام اور شہر دہلران کی حدود میں آتا ہے۔[1]
فکہ کا علاقہ نرم ریتلی زمین پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کا زیادہ تر حصہ ریتلی ٹیلوں اور صحراؤں پر محیط ہے، جو ریت سے ڈھکے ہیں۔ جنوبی حصے میں یہ ریت زیادہ ہے، جس پر چلنا بہت مشکل ہے۔ تاہم شمالی حصے میں قدرتی اور قابل کاشت زمین بھی موجود ہے۔ جنوبی فکہ میں گاؤں بہت کم ہیں اور وہاں صرف چند خانہ بدوش قبائل رہتے ہیں۔ لیکن شمالی فکہ میں مٹی کی بہتر زرخیزی کیفیت، دریائے دویرج اور موسمی بارشوں کی وجہ سے کچھ گاؤں آباد ہیں۔[2]
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے سے پہلے جنوبی فکہ میں ایک سرحدی چیک پوسٹ تھی۔ یہ چیک پوسٹ چنانہ-فکہ روڈ کے آخر میں ایک کھلے میدان میں واقع تھی اور عراق کی الفکہ چیک پوسٹ کے مدمقابل تھی۔[3] 16 ستمبر 1980 کو اس چیک پوسٹ کو عراقی فوج کی گولہ باری اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ عراقی بکتر بند اور توپ خانے کی فوجوں کے حملے 21 ستمبر 1980 تک جاری رہے۔ ان حملوں کا مقابلہ سوسنگرد رجمنٹ اور شیراز کی 37ویں بکتر بند بریگیڈ کی جنگی یونٹ نے کیا۔[4]
عراق کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد فکہ، شمالی خوزستان پر عراقی فوج کے حملے کے اہم محوروں میں سے ایک تھا۔ عراق کی پہلی مکینیکل ڈویژن کو یہ مشن سونپا گیا تھا کہ وہ فکہ سے گزر کر دریائے کرخہ اور شوش کی طرف حملہ کرے اور دریائے کرخہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اہواز-اندیمشک سڑک کو کاٹ دے، اس طرح شمال کی جانب سے اہواز کا محاصرہ مکمل کرلے۔[5] شیراز کی 37ویں بکتر بند بریگیڈ کی جنگی یونٹ کی مزاحمت کے باوجود فکہ چیک پوسٹ 23 ستمبر 1980 کو دشمن کے قبضے میں آ گئی۔ 26 ستمبر 1980 تک فکہ کا مکمل علاقہ عراق کی پہلی مکینیکل ڈویژن کے قبضے میں چلا گیا۔[6]
آپریشن فتح المبین کے ذریعے اندیمشک، دزفول اور شوش کے مغربی علاقے آزاد کرا لیے گئے۔ لیکن فکہ کا ایک حصہ دشمن کے قبضے میں ہی رہا۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران فکہ علاقے میں دو بڑے آپریشنز والفجر مقدماتی اور والفجر 1 اور دو محدود آپریشنز ظفر 4 اور عاشورا 3 کیے گئے۔
آپریشن والفجر مقدماتی، غزیله پل پر قبضہ کرنے اور شہر العمارہ تک رسائی حاصل کرنے کے مقصد سے 6 فروری 1983 کو جنوبی فکہ میں شروع کیا گیا۔ اس میں مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے ایرانی افواج پہلے مرحلے کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہ کر سکیں۔ ان رکاوٹوں میں وسیع بارودی سرنگوں کے میدان، مضبوط خاردار تاریں، نہریں، دشمن کی پوزیشنوں تک زیادہ فاصلہ، ریتلی زمین کے باعث افواج نقل و حرکت میں مشکلات، علاقے کا کلیئر نہ ہونا اور دونوں فوجوں (پشتیںانی اور حملہ آور دستوں) کا آپس میں عدم ارتباط اور نیز رات کی تاریکی اور چاند کی روشنی نہ ہونا شامل تھے۔
آپریشن والفجر 1 بھی شمالی فکہ میں شہر العمارہ کو خطرہ پیدا کرنے کے مقصد سے 10 اپریل 1983 کو شروع کیا گیا۔ یہ آپریشن چند روز بعد بغیر طے شدہ اہداف حاصل کیے ختم ہو گیا۔[7]
چھوٹے پیمانے پر آپریشن ظفر 4 یکم جولائی 1985 اور عاشورا 3 16 اگست 1985 بھی فکہ علاقے میں دشمن کی جنگی یونٹوں کو تباہ کرنے کے لیے کیے گئے۔ لیکن ان سے کوئی خاص فوجی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔[8]
1986 تک فکہ علاقے کا زیادہ تر حصہ ایران کی افواج کے قبضے میں تھا۔ 30 اپریل 1986 کو عراقی فوج نے فکہ علاقے میں ایرانی افواج کی پوزیشنوں پر حملہ کر کے 7 کلومیٹر تک پیش قدمی کر لی۔ ایرانی افواج نے 2 مئی 1986 کو فکہ کے مقبوضہ حصے کو آزاد کروانے کے لیے کارروائی شروع کی، لیکن حملہ آور بٹالینز کے آپس میں عدم ارتباط کی وجہ سے تمام اہداف حاصل نہ ہو سکے، لیکن ہاں دشمن کی پیش قدمی روک دی گئی۔ دشمن کی افواج 20 مئی 1986 کو اپنی دفاعی لائنوں کی کمزوری کی وجہ سے اپنی ابتدائی پوزیشنوں پر واپس لوٹ گئیں۔[9]
12 جولائی 1988 کو عراقی فوج نے ایک بار پھر فکہ میں ایرانی افواج کی پوزیشنوں پر حملہ کیا اور ایران کی سرزمین میں پیش قدمی کرنے، قیدی اور مال غنیمت حاصل کرنے کے بعد اس نے سرحدی بلندیوں کی طرف عقب نشینی اختیار کر لی[10] اور فکہ کی سرحدی چیک پوسٹ جنگ کے خاتمے تک دشمن کے قبضے میں رہی۔
جنگ کے خاتمے اور دشمن کے بین الاقوامی سرحدوں کی طرف پسپا ہونے کے بعد فکہ علاقے کے مقبوضہ حصے دشمن کے قبضے سے نکل آئے۔
جنگ کے ختم ہونے کے بعد 1990 کے آخر میں اس علاقے میں شہداء کی لاشوں کی تلاش شروع ہوئی۔ جن یونٹوں نے فکہ علاقے میں آپریشن کیے تھے، انھوں نے وہاں چھاؤنیاں قائم کر لیں اور اپنی یونٹوں کے شہداء کی لاشوں کی تلاش شروع کر دی۔[11]
حسن باقری (غلام حسین افشردی) مجید بقائی اور کچھ دیگر کمانڈروں کے ساتھ 29 جنوری 1983 کو مذکورہ بلندیوں کی شناخت کے لیے فکہ علاقے میں داخل ہوئے۔ وہ نہر شاخہ کے بائیں جانب، دریائے دویرج کے قریب ایک ٹیلے پر ایک مورچے میں بیٹھ کر مشاہدہ کر رہے تھے اور علاقے کے نقشے کو سمجھ رہے تھے کہ ایک 120 ملی میٹر مارٹر کا گولہ ان کے مورچے پر آ لگا جس کے نتیجے میں حسن باقری، مجید بقائی اور ان کے تین ساتھی شہید ہو گئے۔[12]
فکہ علاقے میں شہداء کی لاشوں کی تلاش کے دوران کچھ تلاش کرنے والے جوان خود بھی شہید ہو گئے۔ ان میں سید علی موسوی، علی محمودوند، مجید پازوکی، محمود غلامی، سعید شاہدی، عباس صابری اور حسین صابری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سید مرتضی آوینی 9 اپریل 1993 کو سعید یزدان پرست کے ساتھ " روایت فتح" پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران اسی علاقے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے شہید ہو گئے۔[13]
فکہ کے شہداء کا مقتل فکہ چیک پوسٹ اور چزابہ کے درمیان، طاووسیہ چیک پوسٹ کے مغرب میں اور فکہ-چزابہ روڈ سے 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس مقتل میں زمین کا ایک حصہ جو بارودی سرنگوں سے بالکل پاک ہے اور ریتلی حالت میں خاردار تاروں سے گھیرا ہوا ہے، اسے ارد گرد کے بارودی سرنگوں کے علاقوں سے الگ کر کے ایک محفوظ راستہ بنا دیا گیا ہے۔ فکہ کا مقتل ہر سال " راہیان نور"، محرم اور عاشورا کے ایام میں زائرین کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔[14]
حوالہ جات
- [1]. پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی 1- خوزستان در جنگ، تهران، صریر، 2010، ص 158.
- [2]. سابق؛ گروه نویسندگان، فکه، تهران، بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش های دفاع مقدس، چ دوم، 2006، ص 11.
- [3]. پورجباری، پژمان، سابق، ص 160.
- [4]. سلیمانی خواه، نعمت الله، روزشمار جنگ ایران و عراق، تصمیم صدام به جنگ علیه ایران، لغو یک جانبه معاهده 1975 الجزایر، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 2015، ص 1033، 1066، 1098، 1125 و 1180؛ حسینی، سیدیعقوب، تیپ 2 لشکر 92 زرهی در آغاز جنگ تحمیلی (عین خوش، پای پل کرخه)، تهران، ایران سبز، 2013، ص 65، 66، 69 و 78.
- [5]. انصاری، مهدی، روزشمار هجوم سراسری عراق، فصل نامه مطالعات جنگ ایران و عراق، نگین ایران 9، شماره 9، سال سوم، تابستان 2004، ص 95.
- [6]. حسینی، سیدیعقوب، سابق، ص 103، 242-243.
- [7]. گروه نویسندگان، سابق، ص 12 و 14؛ اردستانی، حسین، تجزیه و تحلیل جنگ ایران و عراق ـ ج 3: تنبیه متجاوز، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2000، ص 44 تا 46؛ پورجباری، پژمان، سابق، ص 158.
- [8]. گروه نویسندگان، سابق، ص 12، 14، 15.
- [9]. حاجی خداوردی خان، مهدی، روزشمار جنگ ایران و عراق، تداوم استراتژی دفاع متحرک عراق - اشغال مهران، تهران، سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2018، ص 47-49، 131، 534.
- [10]. جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار- عملیات نیروهای زمینی در هشت سال دفاع مقدس، تهران، سوره سبز، چ سی و پنجم، 2014، ص 155.
- [11]. گروه نویسندگان، سابق، ص 41-42.
- [12]. لطف الله زادگان، علی رضا، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب بیست و سوم، والفجر مقدماتی- دستگیری سران حزب توده و تیرگی روابط ایران و شوروی، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 2013، ص 487 و 488.
- [13]. پورجباری، پژمان، سابق، ص 159
- [14]. سابق