مسلط شدہ جنگ کے مہاجرین کے امور کی فاؤنڈیشن

مسلط شدہ جنگ کے دوران مہاجرین کے امور کا ادارہ، جنگ کے ابتدائی مہینوں میں " بنیادِ امورِ جنگ زدگان" (جنگ زدہ افراد کے امور کا ادارہ) کے نام سے، جنگ کے متاثرین کی صورتحال کو منظم کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا۔

عراق کے ہمہ جانبہ حملے کے آغاز کے ساتھ ہی، جنگ سے متاثرہ صوبوں کی ڈیڑھ ملین (15 لاکھ) سے زائد آبادی ہمسایہ صوبوں اور دارالحکومت کی طرف ہجرت کر گئی۔ یہ افراد ایک طرف تو اپنا تمام گھریلو سامان اپنے رہائشی شہروں میں چھوڑ کر خالی ہاتھ ہجرت کر آئے تھے، اور دوسری طرف نئے رہائشی شہروں کی ثقافت سے ناواقف تھے اور انہیں مختلف مشکلات کا سامنا تھا۔ اسی بنا پر، 28 جنوری 1981 کو (اس وقت کے) وزیراعظم محمد علی رجائی کے حکم پر، وزارتِ داخلہ کے سیاسی و سماجی امور کے معاون سید مصطفی میر سلیم کو جنگ زدہ افراد کے امور کی دیکھ بھال کا ذمہ دار منتخب کیا گیا۔⁠[1]   پہلے مرحلے میں مہاجرین کی رہائش کے لیے اوسطاً تین سے پانچ ہزار افراد کی گنجائش والے کیمپ قائم کیے گئے اور مہاجرین کے درمیان ضروری اشیاء کے خریداری کوپن تقسیم کیے گئے۔⁠[2]

بعد ازاں، میر سلیم کی تجویز پر اور جنگ زدہ افراد کے امور کے بہتر انتظام کے لیے " مسلط شدہ جنگ کے مہاجرین کی فاؤنڈیشن" کے قیام کا منصوبہ کابینہ میں پیش کیا گیا، جس کی 4 اپریل 1981 کو کابینہ نے منظوری دے دی۔ اس کے قیام کا بل اسلامی مشاورتی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور 4 جون 1981 کو " جنگ کے متاثرین کے امور کی فاؤنڈیشن کے قانون" کے تحت اس ادارے نے باقاعدہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔⁠[3]

اس قانون کے مطابق، یہ ادارہ " شورائے عالی بنیادِ جنگ زدگان" (جنگ زدگان فاؤنڈیشن کی سپریم کونسل) کی نگرانی میں چلایا جاتا تھا۔ اس کونسل کے اراکین میں وزیرِ داخلہ کا بااختیار نمائندہ، خوزستان اور ملک کے مغربی صوبوں کے نمائندوں کے ذریعے متعارف کرائے گئے تین جنگ زدہ افراد، وزیرِ صحت کا بااختیار نمائندہ، تنظیم برائے بہبود کے سربراہ کا بااختیار نمائندہ، ہلالِ احمر کے سربراہ کا بااختیار نمائندہ، امام خمینی امدادی کمیٹی کے سربراہ کا بااختیار نمائندہ، تمعیری جہادِ  کے سربراہ کا بااختیار نمائندہ اور شہید فاؤنڈیشن کے سربراہ کا بااختیار نمائندہ شامل تھے۔⁠[4]

اس ادارے کے قیام کا مقصد مادی اور معنوی لحاظ سے جنگ زدہ علاقوں اور جنگ زدہ افراد کی صورتحال کی دیکھ بھال، ان کے معاشی، طبی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی مسائل کا حل، رہائشی مقامات پر ان کے لیے روزگار کی فراہمی، ان سے متعلقہ دیگر امور کی انجام دہی اور جنگ کے بعد جنگ زدہ علاقوں کے مسائل کے حل کے ممکنہ راہ حل پیش کرنا تھا۔⁠[5]

امام خمینی (رح) نے 24 نومبر 1981 کو اس ادارے کے عہدیداروں سے ملاقات میں اس ادارے کے کام کی اہمیت اور نقائص کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے اس ادارے کی کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیا اور فرمایا کہ جنگ زدہ افراد کی خدمت میں کچھ کمیاں موجود ہیں جنہیں دور کیا جانا چاہیے۔⁠[6]

" ادارہ برائے امور جنگی مہاجرین" نے 1982 کے وسط تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، لیکن مسلط شدہ جنگ کے تسلسل اور اس کے نتیجے میں جنگ زدہ افراد سے متعلقہ سرگرمیوں میں وسعت کے باعث ادارے کی سرگرمیوں میں بھی تبدیلیاں لائی گئیں۔ اساسنامے (آئین) کی تبدیلی کے ساتھ ادارے کا نام بدل کر " بنیادِ امورِ مہاجرینِ جنگِ تحمیلی" یعنی " مسلط شدہ جنگ کے مہاجرین کے امور کی فاؤنڈیشن" رکھ دیا گیا۔⁠[7]

نئے اساسنامے کے مطابق، یہ ادارہ وزارتِ محنت و سماجی امور کے ماتحت آگیا، اور اس کی اہم ترین سرگرمیوں کو چھ محوروں میں تقسیم کیا گیا: رفاہی پروگرام، رہائش، تعلیم و تربیت، جنگ زدہ افراد کے درمیان اسلامی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کے لیے فنی امور، صحت، اور روزگار کی فراہمی و تلاش۔⁠[8] مذکورہ ادارے نے جنگ کے اختتام تک کام کیا اور جنگ زدہ افراد کی ضروریات اور حالات کے پیش نظر " شورائے اشتغالِ مہاجرینِ جنگِ تحمیلی" (مسلط شدہ جنگ کے مہاجرین کی کونسل برائے روزگار) جیسے ذیلی ادارے بھی قائم کیے۔⁠[9]

جنگ کے خاتمے پر، " مسلط شدہ جنگ میں ادارہ برائے امور جنگی مہاجرین" کو " ستادِ بازسازی و نوسازی مناطقِ جنگی" (جنگ زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کا ہیڈ کوارٹر) میں ضم کر دیا گیا۔⁠[10] اس ادارے نے جنگ زدہ شہروں کے باسیوں کی ضروریات کی فراہمی، مہاجرین کی واپسی کے لیے زمینہ تیار کرنے⁠[11]، مہاجرین کے روزگار کے لیے ضروری قرضہ جات کی فراہمی،⁠[12] اور مہاجرین کی ان کے سابقہ رہائشی شہروں میں منتقلی کے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی⁠[13]   جیسے شعبوں میں کام کیا۔

بنیادِ امورِ مہاجرین کی رپورٹ کے مطابق، ادائیگیوں کی سب سے بڑی رقم مہاجرین کے راشن، رہائشی امداد اور بجلی و پانی کے بلوں سے متعلق تھی۔ صوبہ خوزستان نے جنگ سے متاثرہ افراد کو سب سے زیادہ نقدی ادائیگیاں کیں، جبکہ باختران (کرمانشاہ) اور فارس کے صوبے، استحقاق کو مد نظر رکھتے ہوئے نسبتا کم مراعات کے حقدار قرار پائے۔⁠[14]

ستادِ بازسازی و نوسازی مناطقِ جنگی کا نام 1997 میں تبدیل کرکے " دفترِ امورِ مناطقِ بازسازی شدہ جنگِ تحمیلی" (مسلط شدہ جنگ کے بحال شدہ علاقوں کے امور کا دفتر) رکھ دیا گیا⁠[15] اور اب یہ وزارتِ داخلہ کے " معاونتِ توسعہ مدیریت و منابع" (مینجمنٹ ڈویلپمنٹ اور ریسورسز ونگ) کا ذیلی ادارہ ہے۔⁠[16]

 

 

 


حوالہ جات

  • [1]. روزنامہ اطلاعات، شمارہ 16346، بدھ 28 جنوری 1981، ص 4؛ فرهنگنامۂ نہادهای انقلاب اسلامی (انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ریولوشن انسٹی ٹیوشنز)، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 2008، ص 22 اور 27۔
  • [2]. روزنامہ اطلاعات، شمارہ 16363، بدھ 18 فروری 198، ص 11
  • [3]. قانون " بنیادِ امورِ جنگ زدگان"، منظور شدہ 4 جون 1981
  • [4]. فرهنگنامۂ نہادهای انقلاب اسلامی، ص 22
  • [5]. آرٹیکل 3، قانون " بنیادِ امورِ جنگ زدگان"، منظور شدہ 4 جون 1981
  • [6]. صحیفۂ امام، جلد 15، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رہ)، 1999، ص 382 اور 383
  • [7]. فرهنگنامۂ نہادهای انقلاب اسلامی، ص 23
  • [8]. ایضاً
  • [9]. ضابطہ کار (آئین نامہ) " تشکیلِ شورائے اشتغالِ مہاجرینِ جنگِ تحمیلی"، منظور شدہ 24 جنوری 1988
  • [10]. فرهنگنامۂ نہادهای انقلاب اسلامی، ص 23
  • [11]. ضابطہ کار " تمام وزارت خانوں، اداروں، تنظیموں اور سرکاری و نیم سرکاری کمپنیوں کو آبادان اور خرم شہر کے شہروں کی تنصیبات اور متعلقہ یونٹس کی تعمیرِ نو، ضروری خدمات کی فراہمی اور تحمیلی جنگ کے مہاجرین کی واپسی کے لیے زمینہ سازی کا پابند بنانا، منظور شدہ 23 مئی 1989" ۔
  • [12]. " مسلط شدہ جنگ کے مہاجرین کے روزگار کے لیے کریڈٹ سہولیات (قرضوں) کا ایگزیکٹو ضابطہ کار، موضوع برائے شق 5، تبصرہ 3، قانونِ بجٹ 1989 کل ملک، منظور شدہ 5 اگست 1989" ۔
  • [13]. قرارداد " مسلط شدہ جنگ کے مہاجرین کو ان کے سابقہ رہائشی شہروں میں منتقل کرنے کے لیے تین ریال کے فنڈز کی فراہمی اور مختص کرنا (صدر کے خصوصی نمائندے کا فیصلہ) "
  • [14]. ملک گیر " مسلط شدہ جنگ میں ادارہ برائے امور جنگی مہاجرین" بنیادِ امورِ مہاجرینِ جنگِ تحمیلی کی کارکردگی (سرکاری رپورٹ)، تہران، بنیادِ امورِ مہاجرین، 1990، ص 35 تا 61 اور 63
  • [15]. فرهنگنامۂ نہادهای انقلاب اسلامی، ص 24
  • [16]. " وزارتِ داخلہ کے معاون برائے مینجمنٹ ڈویلپمنٹ اور ریسورسز، ناصریان کے حکم سے علی رضا ساری مسلط شدہ جنگ کے بحال شدہ علاقوں کے امور کی نگرانی کے ذمہ دار مقرر ہوئے"، وزارتِ داخلہ پورٹل، خبر نمبر 113125

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع