شینوک ہیلی کاپٹر

شینوک ہیلی کاپٹر اٹلی میں بنایا گیا جس نے عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ایرانی فورسز کی پشتیبانی اور فضائی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا۔

سی۔اچ-47 شینوک، جو اٹلی کی کمپنی آگسٹا بیل نے بوئنگ امریکا کے تحت لائسنس کے ساتھ تیار کیا، دنیا کے طاقتور ترین ہیلی کاپٹروں میں شمار ہوتا ہے۔ شینوک، دو کیپٹنوں کے علاوہ، 44 سپاہیوں، یا 24 مریضوں کو اسٹریچر پر، یا 23450 پاؤنڈ سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے⁠[1] اور اس کی رفتار 288 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ شینوک کو ہلکے اور درمیانے توپخانے کی نقل و حمل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے تباہ شدہ ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے تخلیہ کا کام بھی کیا جاتا ہے۔⁠[2]

شینوک 1971 میں ایرانی فضائیہ کا حصہ بنا۔⁠[3] 1973 میں بری فوج کے طیاروں کا چارٹ بنایا گیا اور اسی کے مطابق اٹلی کی کمپنی آگستا بیل سے بھاری شینوک ٹرانسپورٹر ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا فیصلہ کیا گیا۔⁠[4] شینوک ہیلی کاپٹر اصفہان میں واقع عمومی پشتیبانی بیس پر، دو ڈویژنوں کی شکل میں اور ہر ڈویژن میں تین پروازی کمپنیوں کے ساتھ تعینات کیے گئے۔⁠[5] 1978 تک بری فوج کے پاس 90 شینوک⁠[6] اور فضائیہ کے پاس 5 شینوک تھے۔⁠[7]

اسلامی انقلاب کی کامیابی اور کردستان میں بحران کے آغاز کے بعد، بری فوج کے ہیلی کاپٹروں نے حکومتی فورسز کی حمایت کی۔فروری مارچ 1979 میں زمینی راستے سے کردستان تک رسائی ممکن نہ تھی، کیونکہ مواصلاتی سڑکیں علیحدگی پسند عناصر کے کنٹرول میں تھیں۔⁠[8] مثال کے طور پر، سردشت شہر 1979 سے 1981 تک دو سال تک ضدانقلاب کے محاصرے میں رہا، اور اس شہر کے چھاؤنی کی رسد زمینی فوج کے ہیلی کاپٹروں، جن میں شینوک بھی شامل تھا، کے ذریعے پہنچائی جاتی تھی۔⁠[9] کردستان میں فوجی فورسز کی پشتیبانی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مقبوضہ علاقوں کو ضدانقلاب گروہوں کے قبضے سے آزاد نہ کرا لیا گیا۔ چنانچہ 1982 کے اختتام تک بیل-214 اور شینوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تقریباً 60 ہزار گھنٹوں پر مشتمل 82324 آپریشنل پروازیں انجان دی گئیں۔⁠[10]

31 ستمبر 1980 عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ، زمینی فوج نے فضائیہ کے ساتھ مل کر خوزستان اور ملک کے مغربی حصے میں عراقی فوج کو روکنے میں کردار ادا کیا۔⁠[11] جب عراقی افواج دریائے کارون سے عبور کر کے آبادان کی طرف بڑھیں، تو اکتوبر 1980 میں زمینی سڑکیں دشمن کے قبضے میں آ گئیں اور ان پر آمد و رفت ناممکن ہو گئی۔ آبادان جزیرے تک واحد رابطہ دریائےبہمن شیر تھا، لیکن وہ بھی ماہشہر بندرگاہ سے بہت دور تھا۔ اسی لیے فوجی دستوں کی منتقلی کے لیے سب سے مناسب ذریعہ ہیلی کاپٹرہی تھا۔ زمینی فوج کے کچھ ہیلی کاپٹر، جن میں 3 شینوک بھی شامل تھے، ماہشہر بندرگاہ میں تعینات کیے گئے۔ وہ فوجی اور عوامی دستوں کو ضروری سازوسامان کے ساتھ ماہشہر سے خسروآباد چوکی اور جزیرہ آبادان کے چوئیبدہ علاقے تک پہنچاتے تھے، اور واپسی پر جنگ زدہ لوگوں اور زخمیوں کو ماہشہر منتقل کرتے تھے۔⁠[12]

خوزستان کی آزادی کی سلسلہ وار کارروائیوں کے آغاز کے ساتھ،زمینی فوج نے آرمی اور سپاہ پاسداران کے دیگر یونٹوں کے ساتھ شرکت کی۔ ثامن الائمہ آپریشن اور آبادان کے محاصرے کے خاتمے کے دوران اکتوبر 1981 میں، 46 ہیلی کاپٹروں، جن میں 4 شینوک بھی شامل تھے، کے ذریعے 600 گھنٹے پرواز کر کے مجاہدینِ اسلام کی پشتیبانی کی گئی۔⁠[13]

December 1981 میں طریق القدس آپریشن میں بھی ہوانیروز کے 40 مختلف ہیلی کاپٹروں، جن میں 4 شینوک شامل تھے، نے 4862 گھنٹے پرواز کر کے فوج اور سپاہ پاسداران کے 4812 افراد کو منتقل کیا۔⁠[14]

فتح المبین آپریشن اور بستان کی آزادی کے دوران اپریل 1982 میں بھی 16 شینوک دیگر زمینی فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ساتھ، 3500 آپریشنل پرواز کے ذریعے 2840 فوجیوں کو منتقل کرنے میں استعمال ہوئے۔⁠[15] بیت المقدس آپریشن کے دوران، جومئی جون 1982 میں ہوا اور جس کے نتیجے میں خرمشہر آزاد ہوا، زمینی فوج نے 95 مختلف ہیلی کاپٹروں، جن میں 16 شینوک شامل تھے، کے ساتھ 5180 گھنٹے پرواز کر کے ایرانی دستوں کی پشتیبانی کی۔⁠[16]

دفاعِ مقدس میں زمینی فوج کی سب سے وسیع موجودگی خیبر آپریشن سے متعلق ہے، جومارچ 1982 میں ہورالعظیم کے علاقے میں جزائر مجنون پر قبضے کے لیے انجام دیا گیا۔⁠[17] اس آپریشن میں اصفہان کے عمومی پشتیبانی اڈے سے تعلق رکھنے والے 12 شینوک⁠[18] اور فضائیہ کے 5 شینوک نے حصہ لیا۔⁠[19] خیبر آپریشن میں پہلی رات شینوک اور بیل-214 کے پائلٹوں کے توسط سے نجف ہیڈکوارٹر کی اصلی دستوں کی شبانہ ہیلی برن، نہایت اہم تھی۔ شینوک اور بیل-214 کے پائلٹوں نے 10 راتیں اصفہان میں، نائٹ وژن عینک کے بغیر شبانہ پرواز کی مشق کی۔ آخری رات پرواز کے لیے اصفہان سے اہواز کا راستہ مقرر ہوا اوروہ رات 11 بجے جنوب کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں ہیلی کاپٹر کی لائٹ بجھا کر اہواز ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اور وہاں تعینات ہو گئے⁠[20] پھر، 22 فروری 1984 کی دوپہر کو اہواز سے پرواز کر کے مقررہ مقامات پر اترے، جہاں ہیلی برن کے ذریعے جزائرمجنون جانے کے لئے بڑی تعداد میں افراد پہلے سے تیار تھے۔ اسی رات آپریشن کے رمز کے اعلان کے بعد 6 شینوک ہیلی کاپٹراور ہر ہیلی کاپٹر میں 60 مجاہدین پرواز کے لیے تیار ہوئے اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ جزیرے کی طرف روانہ ہوئے اور 14 منٹ کی پرواز کے بعد مقررہ سڑک پر فوجیوں کو اتار دیا۔

خیبر آپریشن کے دوران زمینی فوج نے جفیر کے عمومی علاقے اور مجنون جزائر کے درمیان ایک پل قائم کیا اور شینوک اور 214 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دن رات فوجیوں کی نقل و حمل، رسد پہنچانے، گولہ بارود اور سامان منتقل کرنے میں اپنی پوری طاقت استعمال کی⁠[21]۔ اس آپریشن میں 98 ہیلی کاپٹروں، جن میں 12 شینوک شامل تھے، نے 1291 گھنٹے پرواز کی اور فوج اور سپاہ پاسداران کے 19 ہزار 400 افراد کو مجنون جزائر تک پہنچایا۔⁠[22]

بدر آپریشن میں بھی، جو 20 مارچ 1985 میں مجنون جزائر کے علاقے میں ہوا، اصفہان کے عمومی سپورٹ اڈے کے 8 شینوک ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔⁠[23] آپریشن شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے رامہرمز اور رامشیر کے علاقے میں مشقیں کی گئیں۔ یہ مشقیں دن اور رات کے مختلف اوقات میں ہوتی رہیں، جن میں 214 اور شینوک ہیلی کاپٹر ہلی برن کی مشقیں کرتے رہے۔ اس سے پائلٹوں کا اعتماد بڑھا، فوج کی کارکردگی بہتر ہوئی اور ہلی برن کا وقت کم سے کم ہو گیا۔⁠[24]

پورے چھ روزہ بدر آپریشن کے دوران، تمام 214 اور شینوک ہیلی کاپٹروں نے مجنون جزائر میں فوجیوں کو اتارنے اور زخمیوں کو ٹیکٹیکل ایمرجنسی سے اہواز اور ماہشہر کے اسپتالوں تک پہنچانے کا کام کیا۔⁠[25] بدر آپریشن میں 49 ہیلی کاپٹروں، جن میں 8 شینوک شامل تھے، نے 7165 مجاہدین، 75 ٹن گولہ بارود اور 1659 زخمیوں کو منتقل کیا۔⁠[26]

21 جولائی 1985 کو ہوانیروز کا ایک شینوک ہیلی کاپٹر، جس میں تین افراد سوار تھے، مراغہ سے پرواز کے بعد آذربائیجان شرقی کے راستے پیرانشہر اور حاج عمران سے ہوتا ہوا عراق لے جایا گیا اور اس کے پائلٹوں نے پناہ لے لی۔⁠[27]

1984 تک ایران کے تمام آپریشنز زمینی فوج اور سپاہ پاسداران کے مشترکہ طور پر ہوتے تھے، لیکن اس کے بعد یہ دونوں ادارے الگ الگ کارروائیاں کرنے لگے۔⁠[28] اس کے باوجود والفجر-8 آپریشن میں، جس کی قیادت سپاہ پاسداران کر رہی تھی اور جس کے نتیجے میں دریاےفاو پر قبضہ ہوا، زمینی فوج نے 80 ہیلی کاپٹروں، جن میں 10 شینوک شامل تھے، کے ساتھ 3938 گھنٹے پرواز کر کے مجاہدین کی مدد کی۔⁠[29]

دفاع مقدس میں شینوک کی آخری شرکت مرصاد آپریشن میں تھی، جو جولائی 1988 میں ہوا۔ اصفہان کے عمومی سپورٹ اڈے کے 12 شینوک، زمینی فوج کے دوسرے ہیلی کاپٹروں کے ساتھ، 425 گھنٹے پرواز کرتے رہے اور 3360 مجاہدین کو ہلی برن کیا۔⁠[30]

مجموعی طور پر، دفاع مقدس کے دوران شینوک ہیلی کاپٹروں نے 98 ہزار گھنٹے پرواز کی۔⁠[31]

دفاع مقدس کے بعد بھی زمینی فوج کے ہیلی کاپٹر، جن میں شینوک بھی شامل ہے، قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد میں استعمال ہوتے رہے۔ مثال کے طور پر 1990 کے رودبار شہر کے زلزلے میں ایک شینوک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔⁠[32]

اس وقت شینوک ہیلی کاپٹر اب بھی اصفہان میں زمینی فوج کے چوتھے اڈے پر موجود ہیں⁠[33]، اور ان کی مرمت بھی وہیں کی جاتی ہے۔⁠[34]

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] زینلی، نصرالله، آماد و پشتیبانی (لاجسٹیک) ہوایی در دفاع مقدس، تہران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2015، ص 237۔
  • [2] اردشیرزادہ، کریم، حماسه‌های ماندگار ہوانیروز در دفاع مقدس، تہران، نوید طراحان، چ اول، 2009، ص 258۔
  • [3] رحمتی‌نیا، مهدی، «بالگردهایی برای روز مبادا»، ماہنامہ صف، ش 441مارچ 2018، ص 30۔
  • [4] معارف جنگ، تہران، انتشارات ایران سبز، 2014، ص 256۔
  • [5] سابق، ص 259۔
  • [6] درویشی، فرہاد، تجزیہ و تحلیل جنگ ایران و عراق، ج 1: ریشه‌های تهاجم، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1999، ص 95۔
  • [7] زینلی، نصرالله، سابق، ص 266۔
  • [8] معارف جنگ، ص 260۔
  • [9] سابق، ص 262 تا 264۔
  • [10] قضات، رحمان، «نقش ہوانیروز در دفع غائلہ ضدانقلاب از منطقه کردستان»، ماہنامہ صف، شم 364، مارچ، اپریل 2011 ، ص 79۔
  • [11] معارف جنگ، ص 262 تا 264۔
  • [12] سابق، ص 264۔
  • [13] اردشیرزادہ، کریم، سابق، ص 54۔
  • [14] سابق، ص 56۔
  • [15] سابق، ص 66۔
  • [16] سابق، ص 56، 64، 66 و 71۔
  • [17] شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها: نگاهی به تاریخ ہوادریا و حماسه اسکادران‌های ہواناو، بالگرد و بال ثابت در جنگ تحمیلی،تہران، دفتر پژوهش‌های نظری و مطالعات راهبردی نیروی دریایی، 2021، ص 221۔
  • [18] اردشیرزادہ، کریم، سابق، ص 96۔
  • [19] رحمتی‌نیا، مهدی، سابق، ص 31۔
  • [20] اردشیرزادہ، کریم، سابق، ص 98۔
  • [21] سابق، ص 99۔
  • [22] سابق، ص 101۔
  • [23] سابق، ص 103۔
  • [24] سابق، ص 103۔
  • [25] سابق، ص 104
  • [26] سابق، ص 107
  • [27] نخعی، ہادی و حمیدرضا مشہدی فراہانی، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب 37: توسعه روابط با قدرت‌های آسیایی، تہران، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2004، ص 469 و 470
  • [28] علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق: ج 2، تہران، نشر مرزوبوم، چ اول، 2012، ص 120۔
  • [29] اردشیرزادہ، کریم، سابق، ص 115
  • [30] سابق، ص 167۔
  • [31] معارف جنگ، ص 277۔
  • [32] انصاری، محمد، من یک سربازم، تہران، سازمان عقیدتی سیاسی ارتش، 2017، ص 161 و 162۔
  • [33] «ہوانیروز: ہوانیروز نیرویی در تمام عرصہ ہا»، ماہنامہ صف، ش 455،جولائی 2019، ص 25
  • [34] «روی پای خود ایستادہ ایم»، ماہنامہ صف، ش 455،جولائی 2019، ص 30

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا