بعقوبہ

بعقوبہ عراقی صوبے "دیالی" کا مرکز ہے اور یہ وہ شہر ہے جہاں سے صدام حسین نے اس شہر کی فوجی چھاؤنی سے علامتی طور پر ایک ٹینک کا گولہ داغ کر عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کا آغاز کیا تھا۔

بعقوبہ شہر بغداد کے شمال مشرق میں پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ صوبہ دیالی کا صدر مقام ہے۔ یہ شہر ایران کے صوبوں کرمانشاہ اور ایلام کی سرحد پر واقع ہے۔ 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق، بعقوبہ کی آبادی 467,895 افراد پر مشتمل ہے، جن میں اکثریت سنی عربوں کی ہے جبکہ آشوری مسیحی بطور اقلیت موجود ہیں۔ دریائے دیالہ، جو دریائے دجلہ کی مشرقی ندیوں میں سب سے اہم ہے، اس شہر کے کنارے سے گزرتا ہے۔ یہ دریا، جسے سیروان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایران کے صوبوں کرمانشاہ اور کردستان سے جاری ہوتا ہے۔

بعقوبہ شہر بغداد-اربیل ریلوے لائن اور بغداد-کرمانشاہ (ایران) شاہراہ پر واقع ہے۔⁠[1]کھجور کے باغات اور زرخیز زمینوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سےاس شہر نے بغداد کے مشرقی دروازے کے عنوان سے نمایاں اہمیت حاصل کی ہے۔⁠[2]

عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ سے پہلے، عراقی فوج کے گراؤنڈ فورسز کے چھٹے آرمرڈ ڈویژن کا صدر مقام بعقوبہ کی "سعہ" نامی فوجی چھاؤنی میں واقع تھا۔

22 ستمبر1980 کو صدام حسین کی طرف سے بعقوبہ کی چھاؤنی میں T-72 ٹینک کا علامتی گولہ داغے جانے کے ساتھ ہی عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کا آغاز ہوا اور "بعقوبہ" بغداد اور شمالی عراق کے درمیان ایک گزرگاہ ہونے کے ناطے براہ راست اس جنگی تبدیلیوں کا حصہ بن گیا۔⁠[3]

جنگ کے دوران، بعقوبہ کی فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات متعدد بار بمباری کا نشانہ بنیں۔ فروری 1984 میں، عراقی فضائی حملوں کے جواب میں، ایران نے بعقوبہ کی فوجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔⁠[4] نیز، بعقوبہ کے قریب واقع "ناصریہ" فضائی اڈے پر بھی بمباری کی جاتی تھی جس کا فضائی دفاعی نظام انتہائی حساس تھا۔⁠[5] عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران، بعقوبہ ان محوروں میں سے ایک تھا جن کے ذریعے عراقی فوج کی بیشتر فوجی نقل و حمل ہوتی تھی۔ ایران کے پائلٹوں نے 10 ستمبر 1980 کو ایرانی پایلٹوں نے بعقوبہ کو خانقین سے ملانے والے پلوں پر بمباری کر کے زینل کش اور خان لیلی میں موجود عراقی فوج کے بریگیڈز کا ان کی کمانڈ سے رابطہ منقطع کرنے میں کامیابی حاصل کی۔⁠[6] کرکوک-بعقوبہ روڈ کے پل کی تباہی بھی ان کارروائیوں میں سے تھی جو ایران کے جنگی طیاروں نے جنگ کے آغاز میں انجام دیں۔⁠[7]

عراقی فوج نے اس علاقے کو دفاعی لحاظ سے انتہائی مضبوط بنا رکھا تھا۔ اس شہر کے ارد گرد دفاعی مورچوں جیسی مضبوط فوجی چوکیوں کے ساتھ گھیراؤ والی خاکریز، توپ خانے کے پلیٹ فارم، ٹینکوں سے براہ راست فائرنگ کے مقامات اور عقبی حصے میں سپلائی ڈپو تعمیر کیے گئے تھے۔⁠[8] 11 جولائی 1987 کو، بعث حکومت کے مخالف عراقی مجاہدین نے اس شہر کی گورنری کی عمارت پر حملہ کر کے اس کا کچھ حصہ تباہ کر دیا۔⁠[9]

اس کے علاوہ بعقوبہ،مجاہدین خلق (منافقین) نامی تنظیم کی سرگرمیوں کے اہم مراکز میں سے ایک تھا۔ عراقی فوج نے ان مناففقین کی افواج کی تربیت کے لیے اس میں "اشرف چھاؤنی" کے نام سے ایک بڑی چھاؤنی تعمیر کر رکھی تھی⁠[10]

بعثی حکومت کے زوال کے بعد بھی بعقوبہ علاقے نے اپنی فوجی حیثیت برقرار رکھی ہے۔ عراق کی نئی فوج کے چھٹے ڈویژن کا ہیڈکوارٹر بعقوبہ میں قائم ہے، جو چار بریگیڈز پر مشتمل ہے۔⁠[11]

2014 میں، داعش نے عراق کے کچھ حصوں پر قبضے کے بعد صوبہ دیالی کو اپنی سرگرمیوں کے مراکز میں سے ایک مرکز بنا لیا اور بعقوبہ پر قبضے اور اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حملوں کے باوجود، اسے مکمل طور پر قبضے میں لینے میں ناکام رہی۔⁠[12] بعقوبہ کے علاقے میں داعش کی پیش قدمی، جو ایران کی سرحد کے قریب تھی، کی وجہ سے ایران کی افواج ان کے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہو گئیں۔⁠[13] بعد ازاں، داعش کی مسلسل شکست اور پسپائی کے ساتھ، بعقوبہ کے مقبوضہ علاقے بتدریج آزاد کرا لیے گئے۔⁠[14]

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] حسنی، عبدالرزاق، العراق، قدیماً و حدیثاً، صیدا، 1958، ص 11-9
  • [2] ابن طقطقی، محمد، الفخری، بیروت: دارصادر؛ ایڈمز، آر۔ ایم، اطراف بغداد، ترجمہ صالح احمد علی و دیگران، بغداد، 1984، ص 336
  • [3] پورداراب، سعید، تقویم تاریخ دفاع مقدس، ج 2: غرش توپ‌ها، تہران: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 2005، ص 15؛ فصلنامہ بررسی‌های نظامی، سال سوم، شمارہ 11، ص 14
  • [4] جنگ ایران و عراق از نگاه مطبوعات جهان، ج 15: تحول در صحنه جنگ، تہران، انتشارات شکیب، 2009، ص 134۔
  • [5] میلیتاری ویب سائٹ، بمباران پایگاه هوایی ناصریه، 8 اپریل 2008: http://www.military.ir/
  • [6] تاریخ نبردهای هوایی دفاع مقدس، ج 1، تہران: مرکز انتشارات راهبردی، 2014، ص 286
  • [7] پورداراب، سعید، سابق، ص 236
  • [8] کورڈزمین، انتھونی و ابراہم ویگنر، درس‌های جنگ مدرن، ج 1: جنگ ایران و عراق، ترجمہ حسین یکتا، تہران: مرزوبوم، 2011، ص 351
  • [9] لطف اللہ زادگان، علیرضا، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب چهل و نہم: تصویب قطعنامه 598، زمینه‌های سیاسی و نظامی، تہران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2008، ص 557
  • [10] یزدان فام، محمود، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب پنجاہم: اسکورت نفتکش‌ها، دخالت مستقیم امریکا در جنگ، تہران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1999، ص 636
  • [11] نامی، محمدحسن، محمدپور، علی، جغرافیای کشور عراق با تأکید بر مسائل ژئوپلیتیک، تہران، انتشارات سازمان جغرافیایی نیروهای مسلح، 2008، ص 467
  • [12] روزنامہ دنیای اقتصاد، شمارہ 3226، 19 جون 2014
  • [13] باشگاہ خبرنگاران جوان، کوڈ خبر 7173997، 16 دسمبر 2019
  • [14] خبرگزاری جمہوری اسلامی، آزادسازی بعقوبہ از دست تروریست‌ها، 30 جون 2014

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا