میزائلوں کی جنگ
ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ کے دوران، دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کا استعمال کیا۔ البتہ ایران کی جانب سے میزائلوں کا استعمال دشمن بعثی کے مقابلے میں بہت محدود تھا۔
عراق نے اپنی ہمہ جانبہ جارحیت کے آغاز یعنی 22 ستمبر 1980سے ہی ایران کے غیر فوجی اور رہائشی علاقوں کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ان حملوں میں دزفول وہ شہر تھا جس پر سب سے زیادہ میزائل حملے کیے گئے۔ دزفول پر پہلا میزائل حملہ بدھ 8 اکتوبر 1980 کی نصف شب کو ہوا۔ اس حملے میں عراق نے دزفول کے رہائشی علاقوں پر چار ' فراگ' موشک داغے۔ اس کے نتیجے میں 500 گھر اور دکانیں تباہ ہوئیں جبکہ 350 افراد شہید و زخمی ہوئے۔ ان زخمیوں میں 30 ایسے شیر خوار بچے تھے جن کی عمر 6 ماہ سے بھی کم تھی۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران عراق نے دزفول کی طرف کل 122 فراگ میزائل داغے۔[1]
فراگ میزائل، جسے ' لونا' بھی کہا جاتا تھا، سوویت یونین کا ساختہ تھا۔ اس کی لمبائی 9 میٹر اور اس کے دھماکہ خیز وار ہیڈ کا وزن 455 کلوگرام تھا۔[2] اس کی رینج کی حد 65 کلومیٹر تھی۔ چونکہ اس میزائل کا نشانہ بہت دقیق نہیں تھا، اس لیے اسے شہروں اور گنجان آباد علاقوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ہر حال میں کسی نہ کسی ہدف کو نشانہ بنا سکے۔[3]
26 اکتوبر 1982کو ایران اور دزفول کی جانب عراق کا پہلا ' اسکاڈ' میزائل داغا گیا۔[4] اسکاڈ-بی میزائل کی لمبائی 11.25 میٹر اور وزن 6300 کلوگرام تھا۔ اس کی رینج 290 سے 300 کلومیٹر کے درمیان تھی۔[5] جنگ کے آغاز میں عراق کے پاس اسکاڈ کے 8 میزائل لانچرز[6] اور فراگ میزائلوں کے 26 لانچنگ پیڈز موجود تھے۔[7] مجموعی طور پر جنگ کے دوران دزفول پر 174 عراقی میزائل داغے گئے۔[8]
اندیمشک بھی ان شہروں میں شامل تھا جو جنگ کے آغاز سے ہی عراق کے میزائل حملوں کا نشانہ بنتے رہے۔ عراق نے جنگ کے دوران اس شہر کی طرف 84 میزائل داغے۔ اس شہر کے تقریباً ایک ہزار شہداء میں سے 550 افراد رہائشی علاقوں پر ہونے والے حملوں میں شہید ہوئے۔[9]
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک، چار ادوار میں فوجی تصادم کا دائرہ شہروں اور گنجان آباد مراکز پر بمباری اور بڑے پیمانے پر میزائل داغنے تک پھیل گیا۔
شہروں کی جنگ کا پہلا دور 4 مارچ 1985 کو شروع ہوا، جس میں ایران کے 39 شہر اور دیہات دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے۔ ان حملوں میں 1227 افراد شہید اور 4682 زخمی ہوئے۔[10]
ایران کے پاس 1984 تک زمین سے زمین پر مار کرنے والا کوئی میزائل نہیں تھا۔[11] اس وقت جب عراق نے شہروں پر حملے جاری رکھے، تو ایرانی حکام نے جوابی کارروائی کے لیے کچھ میزائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایران لیبیا سے اسکاڈ-بی میزائل کا ایک لانچر اور اس قسم کے 30 میزائل حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔[12]
میزائلوں کی پہلی کھیپ، جس میں 10 اسکاڈ-بی میزائل شامل تھے، 26 نومبر 1984کو ایران پہنچی۔ ان کے ساتھ لیبیا کے چند ماہرین بھی ایران آئے۔ سوویت یونین کی مخالفت کی وجہ سے شام نے ایران کو کوئی میزائل فروخت نہیں کیا، لیکن اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ ایرانی افواج کو اسکاڈ-بی میزائل استعمال کرنے کی تربیت دے گا۔[13]
شہروں کی جنگ کا دوسرا دور 26 مئی 1985 کو شروع ہوا اور بیس دن تک جاری رہا۔ اس میں ایران کے 570 افراد شہید اور 1332 زخمی ہوئے۔ عراق نے میزائلوں، فضائی حملوں اور توپ خانے کے ذریعے 115 مرتبہ ایران کے 27 شہروں کو نشانہ بنایا۔
شہری جنگ کا تیسرا دور 19 فروری 1987 کو شروع ہوا اور 42 دن تک جاری رہا۔ اس میں بمباری اور توپ خانے کے حملوں کے علاوہ میزائلوں کے 27 حملے بھی شامل تھے۔ ان حملوں کا آغاز سوسنگرد کے رہائشی علاقوں سے ہوا، جس میں ایران کے 65 شہر متاثر ہوئے اور 3035 افراد شہید جبکہ 11150 زخمی ہوئے۔[14]
1987 کے اواخر میں لیبیا نے عراق کی حمایت کرتے ہوئے ایران کو میزائل دینا بند کر دیے۔ ایران میں موجود لیبیا کے عسکری مشیروں نے بھی خفیہ طور پر باقی ماندہ موشکوں اور لانچرز کے پرزے کھول دیے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد سپاہ پاسداران کے جوانوں نے خود اسکاڈ موشک فائر کرنے کے فرائض سرانجام دیے۔[15] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے تسلسل میں ایران نے شمالی کوریا سے 30 اسکاڈ-بی میزائل خریدے۔[16]
1986 سے ایران نے ' عقاب' میزائل فائر کرنا بھی شروع کر دیا۔ عقاب میزائل، چینی " ماڈل-82" کی بنیاد پر ایران کی دفاعی صنعت[17] نے تیار کیا تھا۔[18] عقاب میزائل کا وار ہیڈ 70 کلوگرام، لمبائی 4.820 میٹر اور مار کرنے کی حد 40 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بہت زیادہ درست نشانے پر لگنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا اس لیے یہ صرف بڑے اہداف کے لیے موزوں تھا۔ ایران انمیزائلوں کو عراق کے سرحدی شہروں (جیسے بصرہ) پر داغ سکتا تھا۔[19]
عراق کی جانب سے ایران کے شہروں، دیہاتوں اور دیگر گنجان آباد مراکز پر فضائی اور میزائل حملوں کا چوتھا دور شروع ہوا۔ دوسری طرف ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر عراق کے فوجی، صنعتی اور اقتصادی مراکز پر حملے کیے۔ یہ سلسلہ 27 فروری 1988 کو تہران کی آئل ریفائنری پر عراقی حملے سے شروع ہوا۔ اس کے بعد1مارچ 1988 کو تہران پر میزائل حملہ کیا گیا جو 20 اپریل 1988 کے اختتام تک جاری رہا۔ یہ دور 53 دنوں تک جاری رہا۔ اس دوران پہلی بار تہران، قم، اصفہان، تبریز، کرج اور شیراز جیسے شہروں کو عراقی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔[20]
تہران پر داغے گئے بہت سے میزائل فضا میں ہی پھٹ گئے یا ناکارہ ہو گئے۔[21] میزائلوں کے زمین تک پہنچنے سے پہلے پھٹنے کی وجہ ان کا گرنے کا کم زاویہ تھا۔ اس کی وجہ سے وہ کرہ ہوائی کے اندر ضرورت سے زیادہ حرکت کرتے تھے۔ ہوا کی رگڑ سے پیدا ہونے والی شدید تپش ان کے پھٹنے کا سبب بنتی تھی۔[22]
یہ میزائل دراصل ' اسکاڈ بی' ہی تھے۔ ان کے وار ہیڈ کو کم کر کے 160 کلوگرام کر دیا گیا تھا اور ایندھن کی مقدار بڑھا دی گئی تھی۔[23] اس طریقے سے ان کی رینج 500 کلومیٹر تک بڑھا دی گئی تھی۔ عراق نے انہیں ' الحسین' کا نام دیا تھا۔[24] تہران، اصفہان اور قم پر پہلے میزائل حملوں کے نتیجے میں ملک کے اندر سوویت یونین کے خلاف سیاسی، عوامی اور صحافتی حلقوں میں شدید احتجاج سامنے آیا۔ مجمع عام اور طلبہ نے تہران اور اصفہان میں موجود سوویت سفارت خانے اور قونصل خانے کے سامنے احتجاجی اجتماع کیے۔ انہوں نے جنگ کے بارے میں سوویت یونین کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ ان مظاہروں کے بعد بعض سوویت حکام نے عراق کو زیادہ طاقتور میزائل فراہم کرنے کی تردید کی۔[25] سوویت یونین کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے جو اسکاڈ بی میزائل عراق کو فروخت کیے ہیں، ان کی پہنچ تہران تک نہیں ہے۔[26] تاہم ایران کا دعویٰ تھا کہ ان میزائلوں سے حاصل شدہ پرزوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سوویت یونین کے ہی تیار کردہ ہیں۔ یہ پرزے 1985 اور 1986 میں تیار ہوئے تھے۔ یہ میزائل غالباً ان 300 اسکاڈ بی میزائلوں کی کھیپ کا حصہ تھے جو سوویت یونین نے 1986 میں عراق کے حوالے کیے تھے۔[27] بعض ماہرین کا خیال تھا کہ عراق نے مشرقی جرمنی کی تکنیکی مدد حاصل کی۔ اس مدد سے وہ اسکاڈ بی میزائل کی رینج بڑھانے میں کامیاب ہوا۔[28]
عراق نے اس مدت کے دوران مجموعی طور پر 189 میزائلوں میں سے تہران پر 134 میزائل داغے۔ اصفہان پر 23، قم پر 17، تبریز پر 8، کرج پر 4 اور شیراز پر 3 میزائل داغے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1746 افراد شہید اور 8183 زخمی ہوئے۔ ان کارروائیوں سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔[29] ایران نے بھی بغداد اور موصل کی جانب 50[30] میزائل داغے۔[31] ایران کے جوابی حملے صرف عراق کے عسکری، سیاسی اور صنعتی مراکز تک محدود تھے۔ یہ حملے امام خمینی رح کے حکم کے مطابق پہلے سے آگاہی دے کر کیے جاتے تھے۔[32]
ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ ' ایران-130' نامی میزائل داغنے کا آغاز بھی کیا۔ اسے دفاعی صنعت نے تیار کیا تھا۔[33] تاہم ایران اسکی بڑے پیمانے پر پروڈکشن میں کامیاب نہیں ہو سکا۔[34] اس میزائل کی رینج 90 کلومیٹر تھی۔[35] سپاہ پاسداران نے پہلا ایران-130 میزائل 19 مارچ 1988 کو العمارہ شہر کی جانب داغا۔[36]
مجموعی طور پر، عراق نے ' الحسین' کے 153، اسکاڈ کے 175 اور ' فراگ' کے 82 پائلٹ میزائل داغے۔[37] دوسری جانب ایران نے بھی عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آٹھ سالوں کے دوران دشمن سرزمین پر ' عقاب' کے 326، ' ایران-130' کے 11 اور اسکاڈ کے 119 پائلٹ میزائل فائر کیے۔[38]
حوالہ جات
- [1]. علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 1، تہران، مرز و بوم، 2012، ص 228۔
- [2]. کردزمن، آنتونی و آبراہام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، مترجم حسین یکتا، تہران، مرزوبوم، 2011، ص 444 اور 445۔
- [3]. علائی، سابق، ص 228۔
- [4]. سالمی نژاد، عبدالرضا، دزفول؛ گزارشی از شهر مقاوم دزفول در جنگ شهرها 1980-1988، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2018، ص 155
- [5]. کردزمن، آنتونی و آبراہام واگنر، سابق، ص 446
- [6]. کوردزمن، آنتونی و آبراہام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 1، مترجم حسین یکتا، تہران، مرزوبوم، 2010، ص 365۔
- [7]. سابق، ص 157
- [8]. علائی، حسین، سابق، ص 228
- [9]. سابق، ص 229
- [10]. ایزدی، یداللہ، «دور چهارم جنگ شهرها علیه ایران 27 فروری 1988 تا 20 اپریل 1988»، فصل نامہ نگین ایران، شمارہ 45، موسم گرما 2013، ص 79
- [11]. علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، تہران، مرز و بوم، 2012، ص 82۔
- [12]. علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، تہران، مرز و بوم، 2012، ص 82
- [13]. سابق، ص 83
- [14]. ایزدی، یداللہ، سابق، ص 79
- [15]. «صفر تا صد تاریخچه موشکهای ایرانی»، جام جم آن لائن، 8 ستمبر 2019، www. jamejamonline. ir/fa/news/1227334
- [16]. علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 83۔
- [17]. اسدی، ہیبت اللہ، آتش توپخانه، تہران، انتشارات دافوس آجا، 2015، ص 397
- [18]. کردزمن، آنتونی و آبراہام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 1، ص 445۔
- [19]. کردزمن، آنتونی و آبراہام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 206 اور 486
- [20]. ایزدی، یداللہ، سابق، ص 78
- [21]. علایی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 410
- [22]. اردستانی، حسین و یداللہ ایزدی، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب پنجاه و سوم، ج 2، موشک باران تهران، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2019، ص 429۔
- [23]. علایی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 410
- [24]. کردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 201 و 202
- [25]. ایزدی، یداللہ، سابق، ص 79
- [26]. کردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 487۔
- [27]. سابق، ص 203
- [28]. سابق، ص 202
- [29]. ایزدی، یداللہ، سابق، ص 79 و 80
- [30]. علایی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 425
- [31]. «1 مارچ 1988۔۔۔۔۔ - آغاز حمله موشکی رژیم بعث عراق به تهران، 2 مارچ 2023۔۔۔۔۔»، ویب سائٹ مؤسسہ فرہنگی ہنری پیام آزادگان، www. mfpa. ir/fa/news/8254/10
- [32]. «بازخوانی تاریخی عدم استفاده ایران از سلاح کشتار جمعی»، https://farsi.khamenei.ir/ 28140؛ چند نکته در باب جنگ شهرها، ایسنا، 6 اکتوبر 2022، www. isna. ir/news/1401071406692؛ «مصاحبه با محسن رضایی»، فصل نامہ نگین ایران، شمارہ 25، موسم گرما 2000، ص 66 ـ 65
- [33]. «ایران- 130 اولین موشک زمین به زمین بومی کشور»، باشگاہ خبر نگاران جوان،15 ستمبر 2014، 4977262 www. yjc. ir/fa/news
- [34]. کردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 207۔
- [35]. اسدی، ہیبت اللہ، سابق، ص 396
- [36]. کردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 207
- [37]. اسدی، ہیبت اللہ، سابق، ص 394
- [38]. سابق، ص 395