دریائے اروند
دریائے اروند ایران کے جنوب مغرب میں واقع ایک بڑی نہر اور عراق کے ساتھ ملحقہ سرحدی پٹی ہے، جسے ایرانی افواج کے جری جوانوں نے فروری 1986 میں آپریشن والفجر 8 کے دوران عبور کر کے فاو بندرگاہ پر قبضہ کیا تھا۔
ہخامنشی دور میں اروند کو "تیگر" یا "تیگرا" کہا جاتا تھا جس کے معنی تیز رفتار اور چاق و چوبند کے ہیں۔[1] سن 3000 قبل از مسیح تک اروندرود کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ دجلہ، فرات اور کارون کے دریا الگ الگ خلیج فارس میں گرتے تھے۔ ساسانی سلطنت کے زوال کے بعد دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بند ٹوٹ گئے اور دجلہ و فرات کے دونوں دریا "القرنہ" کے مقام پر ایک دوسرے سے مل گئے، جس سے 175 کلومیٹر طویل "دریائے اروند"تشکیل پایا۔
اس وقت دریائے اروند کا 81 کلومیٹر طویل حصہ (نہرِ خین کے اس نہر سے ملنے والے مقام سے لے کر خلیج فارس کے دہانے تک) ایران اور عراق کی مشترکہ سرحد ہے۔ اروند کی چوڑائی 500 سے 1000 میٹر کے درمیان ہے جبکہ اس کی گہرائی مدو جزر کے وقت 9 سے 15 میٹر کے درمیان بدلتی رہتی ہے اور یہ جہاز رانی کے لیے موزوں ہے۔ مد وجزر اور پانی کی مخصوص لہروں (سطح پر پرسکون اور گہرائی میں تیز و پرآشوب لہریں) کی وجہ سے دریائے اروند کو "وحشی دریا" بھی کہا جاتا ہے۔[2]
اس دریا میں دن بھر میں دو بار مد اور دو بار جزر آتا ہے۔ مد کے وقت پانی کا بہاؤ بصرہ کی طرف ہوتا ہے اور جزر کے وقت اس کے الٹ سمت میں۔[3] مد و جزر ہر چھ گھنٹے بعد آتا ہے۔ انہی لہروں اور گہرائی میں بننے والے گردابوں کی وجہ سے گہرائی میں پانی کی رفتار بعض اوقات 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔[4]
اروند کا پانی دجلہ اور فرات سے آتا ہے جو ترکی سے نکلتے ہیں، نیز کارون، کرخہ، زابِ بزرگ، زابِ کوچک، دیالہ، بکور، سیروان اور الوند کے دریاؤں سے یہ پانی حاصل ہوتا ہے جو سب کے سب ایران سے نکلتے ہیں۔ حجم کے لحاظ سے دریائے اروند کا 67 فیصد پانی ایرانی دریاؤں سے آتا ہے۔ دریائے اروندکے ساحلی علاقے "چولان" نامی لمبی جھاڑیوں اور "نی" (سرکنڈوں) سے ڈھکے ہوئے ہیں اور اس کے نخلستانوں کی گہرائی دو سے پانچ کلومیٹر کے درمیان ہے۔ ان نخلستانوں کو دریائے اروند پر عمودی بنی ہوئی مصنوعی نہروں اور نالوں کے ذریعے مد کی حالت میں سیراب کیا جاتا ہے۔[5]
ایران کی پٹرولیم مصنوعات کی سب سے بڑی برآمدی بندرگاہ آبادان اور غیر ملکی تجارت کی اہم بندرگاہ خرمشهر سمیت خسروآباد، اور عراق کی بصرہ اور فاو[6] بندرگاہیں اس آبی گزرگاہ کی اہم ترین بندرگاہوں میں شامل ہیں۔[7]
آبادان کے مضافات میں واقع شہر اروندکنار، دریائے اروند کے کنارے ایک قطار کی صورت میں بارہ دیہاتوں کے ملنے سے وجود میں آیا ہے۔[8]
پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر ملکِ عراق کے قیام کے آغاز سے ہی دریائے اروندکی مکمل ملکیت پر اس ملک کے غیر قانونی دعوے ایران اور عراق کے سرحدی تنازعات کا بنیادی حصہ رہے ہیں۔ بالآخر 1975 کے معاہدہ الجزائر کی بنیاد پر دریا کی گہرائی کو سرحدی لکیر قرار دیا گیا۔
1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بعثی حکومت نے بارہا اس آبی گزرگاہ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد جون 1979 میں گشتی جنگی کشتیاں بھیج کر اروند کے ساحل پر اپنی سرحدی چیک پوسٹوں کو مضبوط کیا اور عراقی ہیلی کاپٹروں نے بھی دریائے اروند کے اوپر پروازیں شروع کر دیں۔ یہی معاملہ 22 ستمبر 1980 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں پر بعثی حکومت کی فوجی کارروائی کے بہانوں میں سے ایک بنا۔
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز پر، دریائے اروندکی چوڑائی اور خلیج فارس کے مد و جزر کے اثرات کی وجہ سے ہر قسم کی فوجی کارروائی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اس صورتحال میں ایران اور عراق کی افواج دونوں طرف کے ساحلوں پر واقع عسکری و غیر عسکری تنصیبات کو توپ خانے کی زد پر رکھتی تھیں۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوسرے مہینے میں عراقی فوج نے اس دریا کے جنوبی ساحل سے آبادان پر گولہ باری کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے شمالی حصے سے بھی پیش قدمی کی۔ عراقی فوج 30 اکتوبر 1980 کو بہمن شیر (خوزستان میں دریائے کارون کی ایک شاخ) کو عبور کر کے اروند کے قریب پہنچ گئی۔ دشمن نے خسروآباد سڑک سے شہر اروندکنار تک پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاکہ اس دریا کے شمالی علاقوں میں مستقر ہو کر اس پر مکمل تسلط حاصل کر سکے۔ لیکن آبادان کے محافظوں کی مزاحمت نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔[9]
بعثی حکومت نے 11 مارچ 1985 کو حور الہویزہ کے جنوبی محاذ پر ایرانی افواج کے آپریشن بدر کے بعد اپنی ناہلی اور ایران کی جنگی مہارت کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کویت اور سعودی عرب جیسے خطے کے عرب ممالک کی مالی امداد اور مغرب کی تسلیحاتی اور تبلیغاتی (پروپیگنڈا) حمایت سے دفاعی دیواریں تعمیر کیں۔ فاو کے علاقے اور دریائے اروند کے کناروں پر بہت سے تالابوں اور نالوں کو خشک کر دیا گیا تاکہ بکتر بند دستوں کی نقل و حرکت کے لیے مناسب سڑکیں بنائی جا سکیں۔ دشمن نے بعض علاقوں میں جاسوسی کے آلات اور راڈار نصب کیے۔ عراق نے اپنے دفاعی منصوبوں کو جاری رکھتے ہوئے دریائے اروند کے تمام مغربی ساحلوں پر بارودی سرنگیں بچھا دیں۔ ان لائنوں کے سامنے روشنی دینے والی(منور) بارودی سرنگوں کے ساتھ ستارہ نما آہنی رکاوٹیں کھڑی کیں اور انہیں خاردار تاروں کے مختلف حصاروں میں جکڑ دیا۔ علاوہ ازیں، ایران کی سپلائی لائنوں پر نظر رکھنے کے لیے دشمن نے علاقے میں اونچے ٹاور نصب کیے۔ ان تمام حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عراق نے جاسوسی پروازیں کیں اور فلم بندی و فوٹو گرافی کے لیے مغربی سیٹلائیٹس اور اوواکس طیاروں سے بھی مدد لی۔
ایران نے آپریشن بدر کے بعد فوجی اور سیاسی اہمیت کے پیش نظر فاو کے علاقے کا انتخاب کیا۔ اس آپریشن کا مقصد خلیج فارس سے دشمن کا رابطہ منقطع کرنا، کویت کی ہمسایگی حاصل کرنا اور شمالی خلیج فارس پر تسلط قائم کرنا تھا۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے اس علاقے میں کوئی آپریشن نہیں ہوا تھا۔ دشمن کا خیال تھا کہ دریائے اروندکی بپھری ہوئی لہریں ہی اتنی بڑی رکاوٹ ہیں کہ ایران اسے عبور کر کے عراقی سر زمین کے اندرکبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ لیکن زمین کا دلدلی ہونا دشمن کی ہر قسم کی نقل و حرکت کی طاقت چھین لیتا ہے، علاقے کی خاموشی، ہدف کا قریب ہونا اور توپ خانے و مارٹر کے نشانے پر ہونا جیسے عوامل نے ایرانی کمانڈروں کو دریائے اروند کے آخری سرے پر ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے پر تیار کیا۔ دریائے اروند کو عبور کرنے کے لیے آپریشن بدر اور خیبر کے تجربات سے فائدہ اٹھایا گیا۔ فوجیوں کی آمد و رفت کے لیے پل تیار کیے گئے۔[10] مہینوں کی تربیت، تیاری، جاسوسی اور علاقے میں افواج کی منتقلی کے بعد بالآخر 9 فروری 1986 کو خسروآباد سے لے کر راس البیشہ کے درمیانی حصے میں دریائے اروند کو عبور کیا گیا۔ یوں ایرانی افواج جزیرہ نما فاو میں داخل ہوئیں اور عراق کی شدید گولہ باری اور کیمیائی بمباری کے باوجود آپریشن کے تمام اہداف حاصل کر لیے گئے۔[11]
جنگ کے خاتمے اور عراق کی جانب سے 1975 کے معاہدہ الجزائر کو دوبارہ تسلیم کرنے کے بعد دریائے اروند نے ایک بار پھر اپنی زندگی بحال کر لی۔ اگرچہ کیچڑ جمع ہونے اور ڈوبے ہوئے جہازوں کے ملبے کی وجہ سے اس نے بڑے تجارتی بحری بیڑوں کے لیے جہاز رانی کی صلاحیت کسی حد تک کھو دی تھی، تاہم ماضی کی رونقیں ایک بار پھر بحالی کی جانب گامزن تھیں ۔[12]
شہید حسن یزدانی "41 ثار اللہ ڈویژن" کے انٹیلی جنس اور آپریشنل یونٹ کے اہم رکن تھے۔ وہ "آپریشن والفجر 8" کے شہداء میں سے ہیں۔ ان کے ریکارڈ میں دریائے اروند کو 30 بار عبور کرنے کا کارنامہ درج ہے۔[13]
اس وقت والفجر 8 کے شہداء کی یادگار آبادان اور ازرق سے 30 کلومیٹر دور، عراق کے شہر فاو کے سامنے اروندکنار کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ راہیان نور کے عقیدت مند اس جگہ کی زیارت کرتے ہیں۔ 26 مارچ 2002 کو یوم عاشور کے موقع پر دفاع مقدس کے 8 گمنام شہداء کو علاقے کے عوام، راہیان نور کے قافلوں اور سپاہ پاسداران کے "25 کربلا ڈویژن" اور فوج کی موجودگی میں یہاں سپرد خاک کیا گیا۔[14]
دریائے اروند کے موضوع پر مختلف کتابیں لکھی گئی ہیں۔ جن میں مجتبیٰ اور محمدرضا نیک رہی کی کتاب "اروند"، مصطفیٰ احمدی کی کتاب:" اروند یادمانهای جنوب: قطعهای از آسمان" اور مسعود فرشیدنیا و سوسن رحمانیان کی کتاب "رازهای اروند" شامل ہیں۔
منابع و ارجاعات:
- [1] یوسفی، محمد، پیوستنگاه کارون و اروندرود یا تاریخ خرمشهر، [بے جا]، [بے نا]، دوسرا ایڈیشن، 1971، ص 27۔
- [2] پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی 1: خوزستان در جنگ، تہران، صریر، 2010، ص 78۔
- [3] راهنمای زائران راهیان نور مناطق عملیاتی جنوب، موسسہ عماد، تہران، کتاب یوسف، دوسرا ایڈیشن، 2010، ص 108۔
- [4] فرشیدنیا، مسعود و سوسن رحمانیان، رازهای اروند، سه شب جنگ در اروندرود، جہرم، بونیز، 2013، ص 29۔
- [5] سابق، ص78
- [6] ہاتف، محمود، روابط ایران و عراق و مسئله اروندرود، تہران، پاژنگ، 1992، ص 48۔
- [7] پورجباری، پژمان، سابق، ص 78۔
- [8] فرهنگ جغرافیایی آبادیهای کشور، استان خوزستان، شهرستانهای آبادان، خرمشهر، دشت آزادگان و ضمائم آنها در دوران دفاع مقدس، سازمان جغرافیایی نیروهای مسلح، تہران، سازمان جغرافیایی نیروهای مسلح، 2006، ص 63 اور 65۔
- [9] پورجباری، پژمان، سابق، ص 79۔
- [10] سمیعی، علی، کارنامه توصیفی عملیات رزمندگان اسلام در طول هشت سال دفاع مقدس: لشکر 16قدس گیلان، تہران، سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 1997، ص 209، 210 اور 211
- [11] راهنمای زائران راهیان نور مناطق عملیاتی جنوب، ص 110
- [12] پورجباری، پژمان، سابق، ص 79
- [13] خبرگزاری ایسنا، 2013، خبر کوڈ 92021711495۔
- [14] راهنمای زائران راهیان نور مناطق عملیاتی جنوب، ص 112