خور عبداللہ
خور عبداللہ خلیج فارس کی ان گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران دونوں فریقین کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہی ہیں۔
سمندر کا وہ محدود پانی جو خشکی کے اندر تک چلا جائے، اسے " خور" (کھاڑی یا) گزرگاہ کہا جاتا ہے۔[1] خور عبداللہ، خورِ موسیٰ کے بعد شمال مغربی خلیج فارس کی دوسری بڑی گزرگاہ ہے جو عراق اور کویت کے درمیان واقع ہے۔[2] اس کے شمال میں عراق کا جزیرہ نما فاو اور اس کے جنوب و مغرب میں کویت کے دو جزیرے بوبیان اور ورْبہ موجود ہیں۔ دونوں ممالک کی سمندری سرحد خور عبداللہ سے گزرتی ہے۔ خور عبداللہ کی شکل تقریباً مثلث جیسی ہے۔ خلیج فارس کی جانب اس کے مشرقی دہانے کی چوڑائی تقریباً 35 کلومیٹر ہے جبکہ مغربی حصوں کی چوڑائی 10 کلومیٹر سے بھی کم ہے۔[3] خور عبداللہ کی قدرتی خصوصیات میں سے ایک، اس کی کافی گہرائی ہے، جو ساحلوں پر بندرگاہ بنانے اور جہاز رانی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ یہ گزرگاہ شمالی کویت اور جنوبی عراق کے لیے اہم ترین سمندری راستہ ہے اور خلیج فارس تک عراق کی رسائی کا سب سے مناسب ذریعہ شمار ہوتی ہے۔[4]
سن 1960 میں خور عبداللہ کے شمالی ساحل پر ام القصر کی بحری چھاؤنی اور بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ اس بندرگاہ کی تعمیر کے بعد اس کی کارکردگی بڑھانے کے لیے عراق نے خور عبداللہ کے جہاز رانی کے راستے کی صفائی کی۔ سن 1961 میں کویت کی آزادی کے بعد، عراق نے خور عبداللہ اور اس کے جنوب میں واقع دو جزیروں پر قبضے کا دعویٰ کر دیا۔ اس دعوے کی بڑی وجہ خلیج فارس کے براعظمی ساحلی علاقے (فلاتِ قارہ) کی اہمیت، وہاں موجود تیل و گیس کے ذخائر اور خلیج فارس تک رسائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود، خور عبداللہ میں جو سرحدیں 1923 میں متعین کی گئی تھیں، ان کی تصدیق 1963 میں دوبارہ کی گئی۔[5]
سن 1977 میں خور عبداللہ میں بندرگاہ ام القصر کے شمال سے بصرہ تک جہاز رانی کے لیے ایک چوڑی آبی گزرگاہ کھودی گئی۔[6] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد، عراقی فوج نے کویت کی رضامندی سے کئی بار خور عبداللہ کے جنوبی حصے اور وہاں کے جزیروں کو استعمال کیا۔[7]
عراقی بحریہ کی سمندری سرحد صرف 80 کلومیٹر پر محیط ہے۔ خور عبداللہ کے کنارے واقع ام القصر کی بندرگاہ، دریائے اروند کے پاس بصرہ کی بندرگاہ اور فاو کی سمندری تنصیبات، جنگ کے دوران عراق کی تین بڑی بحری چھاؤنیاں تھیں۔[8]
جنگ کے طویل ہونے اور عراق کے لیے دریائے اروند کا تجارتی راستہ بند ہونے کی وجہ سے، یہ کھاڑی عراق کے لیے سانس لینے کی واحد سمندری شہ رگ بن گئی۔ نیز بوبیان اور وربہ کے جزیروں کے قریب ہونے کی وجہ سے، جو کہ کویت کی ملکیت ہیں، یہ گزرگاہ کویت کے لیے بھی خاص اہمیت کی حامل تھی۔[9] 9 فروری 1986 کو آپریشن والفجر 8 کے دوران جب ایران نے جزیرہ نما فاو پر قبضہ کر لیا، تو خور عبداللہ کا شمالی کنارہ مکمل طور پر بند ہو گیا۔ اس سے عراقی بحریہ کی آمد و رفت کا امکان ختم ہو گیا اور البکر و الامیہ کی جیٹیوں کا وہ سپلائی راستہ بھی کٹ گیا جو خور عبداللہ کے ذریعے چل رہا تھا۔[10]
18 اپریل 1988 کو عراق نے 28 ماہ بعد فاو کا علاقہ ایران سے واپس چھین لیا۔[11] اس آپریشن میں عراقی فوج کی مدد کے لیے خور عبداللہ سے سینکڑوں مسلح اور میزائل بردار کشتیاں استعمال کی گئیں جنہیں سوپر فریلن ہیلی کاپٹروں کی حفاظت حاصل تھی۔[12]
سن 1990 میں صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا اور عراقی فوجی خور عبداللہ سمیت اس کے ساحلوں اور ارد گرد کے جزیروں پر قابض ہو گئے۔ جنگ کے خاتمے اور عراق کے کویت سے انخلا کے بعد، اقوام متحدہ کے تحت عراق اور کویت کی سرحدیں متعین کرنے والا کمیشن تشکیل دیا گیا تاکہ خور عبداللہ میں چالیس کلومیٹر طویل سمندری سرحد کا تعین کیا جا سکے۔ اس کمیشن نے معمولی تبدیلیوں کے علاوہ ان سرحدوں کو تسلیم کر لیا جو 1923، 1932 اور 1963 میں عراق اور کویت کے درمیان طے پائی تھیں۔[13]
سن 2010 میں عراق کی جانب سے (خور عبداللہ کے کنارے) فاو کی بڑی بندرگاہ کی تعمیر کا مسئلہ اٹھایا گیا، جس کے جواب میں کویت نے اس کے سامنے دوسری جانب جزیرہ بوبیان میں سن 2011 میں مبارک بندرگاہ کی تعمیر شروع کر دی۔ اس اقدام کے ساتھ ہی عراقی عوام اور تاجروں نے کئی مظاہرے کر کے اس بندرگاہ کی تعمیر پر احتجاج کیا۔ دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ اور کابینہ کے حکام نے بھی اپنے موقف میں اس بندرگاہ کی تعمیر پر تنقید کی۔ خور عبداللہ کی آبی گزرگاہ پر تسلط کے لیے عراق اور کویت کے درمیان جاری رقابت کے نتیجے میں سن 2014 میں کویت کے وزیر خارجہ نے عراق کو اطمینان دلانے کے لیے اس آبی گزرگاہ میں تعاون کی تجویز پیش کی۔[14]
حوالہ جات
- [1]. شایان، سیاوش، فرهنگ اصطلاحات جغرافیای طبیعی، تہران، انتشارات مدرسہ، 1990، ص 37۔
- [2]. خورعبداللہ، دانشنامہ اسلام، www. rch. ac. ir/article/Details/8880
- [3]. سابق
- [4]. خورعبداللہ، دانشنامہ اسلام، www. rch. ac. ir/article/Details/8880
- [5]. سابق
- [6]. اِم۔ وودز، کوین و دیگران، جنگ ایران و عراق از دیدگاه فرماندهان صدام، مترجم عبدالمجید حیدری، تہران، مرزوبوم، 2014، ص 303؛ سیاری، حبیب اللہ اور مجید منصوری، تاریخ تقویم دفاع مقدس نداجا، ج 15، حوادث و رویدادهای یکم تا سی و یکم خرداد 1360، تہران، دفتر پژوهش های نظری و مطالعات راہبردی نیروی دریایی ارتش جمہوری اسلامی ایران، 2013، ص 568؛ سیاری، حبیب اللہ اور دیگران، تاریخ تقویم دفاع مقدس نداجا، ج 6، مروارید، تہران، دفتر پژوهش های نظری و مطالعات راہبردی نیروی دریایی ارتش جمہوری اسلامی ایران، 2011، ص 405۔
- [7]. خورعبداللہ، دانشنامہ اسلام، www. rch. ac. ir/article/Details/8880۔
- [8]. شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها: نگاهی به تاریخ هوادریا و حماسه اسکادران های هواناو، بالگرد و بال ثابت در جنگ تحمیلی، تہران، دفتر پژوهش های نظری و مطالعات راہبردی نداجا، 2021، ص 259
- [9]. «شرحی بر عملیات والفجر هشت»، www. isarpress. ir
- [10]. سابق
- [11]. علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 2، تہران، مرز و بوم، 2012، ص 433۔
- [12]. فیصل خزرجی، نزار، خاطرات ارتشبد نزار عبدالکریم فیصل خزرجی رئیس ستاد مشترک ارتش عراق در دوران صدام، مترجم محمدنبی ابراہیمی، تہران، آتشبار، 2024، ص 479
- [13]. خورعبداللہ، دانشنامہ جہان اسلام، www. rch. ac. ir/article/Details/8880۔
- [14]. «مناقشه مرزی خورعبدالله و روابط پیش روی کویت و عراق»، ایرنا، 12 فروری 2017، www. irna. ir/news/82427018