عاشورا 31 ڈویژن
عاشورا 31 ڈویژن،ایران کے شمال مغرب میں سپاہ پاسداران کی زمینی یونٹوں میں سے ہے اورعراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے دوران اس کے زیادہ تر سپاہی آذربایجان کے تھے۔
یہ ڈویژن اس وقت تشکیل دی گئی جب مئی 1979 میں حامد دادیزاد کی کمان میں "ساواک" (ایران کا سابقہ حساس اداراہ) کی پرانی عمارت میں سپاہ پاسداران تبریز اور اس کے دیگر تمام مراکز کی بنیاد رکھی گئی؛[1]۔ 1980 کے آغاز میں اس کی سربراہی ابو الحسن آل اسحاق کے سپرد کر دی گئی۔ 1980 کے آخری مہینوں میں سپاہ تبریز کے ما تحت صادق محصولی کی قیادت میں "سپاہ ایریا 5" بھی بنائی گئی جس کا مقصد ملک کے شمال مغرب میں واقع دو صوبوں؛ مشرقی آذربائجان اور مغربی آذربائجان میں امن کا قیام تھا اور دونوں صوبوں کے شہروں کو کسی لسانی تفریق (کرد نشین اور آذری زبان کی تفریق) کے بغیر ، سپاہ ایریا 5 کے ماتحت کر دیا گیا؛ اور اسی عرصہ میں رحمان دادمان کو آل اسحاق کا جانشین بنا دیا گیا اور ان کی جانشینی کے لئے حمید چیت چیان کو چنا گیا[2]۔ سپاہ ایریا 5، صوبہ کردستان میں نقدہ، سقز، اشنویہ، پیران شہر، سردشت، شاہین دژ، تکاب، بوکان اور دیوان کے شہروں میں ضدانقلاب گروہ کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش رہی[3]۔
عراق نے جب حملہ کیا تو آذربائیجان کے لوگوں نے جنگی محاذوں کی جانب ایثار گر اور کمک رساں نامی گروہ بھیجے۔ سپاہ ایریا5 کے فوجیوں کا سب سے پہلا گروہ ،نادر برپور کی کمانڈ میں ملک کے جنوبی علاقے میں بھیجا گیا جو 4 اکتوبر 1980کو "فارسیات" میں قیام پذیر ہوا[4]۔ اس کے ساتھ ہی عین اللہ تقوی کی کمانڈ میں کچھ اور فوجی تیار کر کے آبادان بھیجے گئے جن کے کئی گروپ بنائے گئے اور ہر گروپ میں چھبیس افراد رکھے گئے(چیفٹن سواران 26 المہدی عج)، جن کے کمانڈر مہدی باکری، حسن شفیع زادہ اور حمید باکری کر رہے تھے۔ ان کو بھیجنے کا مقصد ذوالفقاری محاذ اور 7 ویں اسٹیشن کی طاقت میں اضافہ کرنا تھا۔ اس کے بعد 1981 کے نیمہ دوم میں مراغہ شہر کا ایک اسپیشل گروہ رضا خیری بلوک آبادی کی سربراہی میں دزفول محاذ پر بھیجا گیا جس نے دریائے کرخہ کے کنارے دفاعی پوزیشن سنبھال لی[5]۔
سپاہ ایریا5، سوسنگرد شہر کا محاصرہ توڑنے کے لئے (دسمبر 1980)، نصر آپریشن (جنوری 1981)، امام علی علیہ السلام آپریشن(مئی 1981)، امام مہدی عج آپریشن(مارچ 1981)، طراح آپریشن(اگست 1981) اور ثامن الائمہ آپریشن(اکتوبر 1981) میں پیش پیش رہی۔
سپاہ ایریا5 کے فوجی (مشرقی اور مغربی آذربائیجان سے بھی) عاشورا بریگیڈ31 کی صورت میں سوسنگرد کے پاس پہونچ گئے جن کی کمانڈ محمد علی(عزیز) جعفری کر رہے تھے[6]۔ اس کے علاوہ تبریز، تہران، شیراز، شاہرود اور کازرون کے شہروں سے عاشورا بریگیڈ بھی مسلح ہو کر پہونچ گئی۔
جب سپاہ کے گیارہ علاقوں میں تازہ دم یونٹیں پہنچ گئیں تو عاشورا بریگیڈ کو سپاہ ایریا5 کے حوالے کر دیا گیا اور مشرقی اور مغربی آذربائیجان نے ان کی حمایتی اور امدادی ذمہ داری سنبھال لی۔ البتہ مغربی آذربائیجان، کرد نشین علاقوں میں امن کے قیام اور حمزہ سید الشہداء کیمپ کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ31 ویں عاشورا بریگیڈ کے لئے دیگر شہروں جیسے خوئی، سلماس، ماکو، میان دوآب اور نقدہ سے فوجی بھرتی کرنے میں مصروف رہا۔
عاشورا بریگیڈ کی سات اسپیشل بٹالینز تھیں، جنوب میں اسٹاف یونٹس کے دفاتر تھے اور ملک کے شمال مغرب میں اس کی جنگی سپورٹ کا سلسلہ تھا۔ اہواز شہر میں ریلوے اسٹیشن کے پاس شہید براتی اسکول میں بریگیڈ کا مرکزی ہیڈ آفس قائم تھا اور اس کے علاوہ تین اسکولوں سمیت خوزستان امام بارگاہ کے پیچھے لگی چھاؤنی کو اس بریگیڈ کی بٹالینز کے قیام کے لیے مخصوص کیا گیا۔
فتح المبین آپریشن(اپریل 1982) اور بیت المقدس آپریشن(جون 1982) میں مہدی باکری جو نجف بریگیڈ 8 میں احمد کاظمی کے نائب تھے، بریگیڈ عاشورا 31 کے کمانڈر کے طور پر منتخب ہوئے[7]۔
مہدی باکری جب عاشورا 31 بریگیڈ کے کمانڈر بنے تو حمید باکری جو نجف اشرف بٹالینز میں سے ایک کے کمانڈر تھے، بھی عاشورا 31 بریگیڈ سے ملحق ہو گئے اور مسلم بن عقیل آپریشن(مہر61) میں ایکسس آف فرسٹ عاشورا بریگیڈکے کمانڈر رہے[8]۔
مسلم بن عقیل آپریشن کے بعد عاشورا بریگیڈ کو مہدی باکری کی کمانڈ میں ڈویژن کا رتبہ ملا اور فکہ کے محور میں پڑاؤ ڈال لیا اور والفجر مقدماتی آپریشن(اکتوبر 1982) میں تین بریگیڈ (بریگیڈ1 مرتضی یاغچیان کی کمانڈمیں، بریگیڈ2 ناصر امینی کی کمانڈ میں اور بریگیڈ3 حمید باکری کی کمانڈ میں) کی صورت میں شرکت کی۔
عاشورا 31 ڈویژن نے، والفجر1 آپریشن (اپریل 1983)، والفجر 2 آپریشن(جولائی، اگست 1983)، والفجر4 آپریشن(اکتوبر، نومبر 1983) اور خیبر آپریشن(مارچ 1984) میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا[9]۔ مذکورہ تمام آپریشنز میں عاشورا 31 ڈویژن کے نائب سربراہ حمید باکری تھے۔ خیبر آپریشن(مارچ 1984) میں حمید باکری نے خط شکن بٹالینز کے ساتھ جنوبی جزیرہ مجنون میں دشمن کو شکست دی اور نہایت مختصر وقت میں شحیطاط پل پر قبضہ کر لیا جو عراقی فوج اور جزائر مجنون کے مابین رابطے کا واحد ذریعہ تھا۔ حمید باکری تین دن مسلسل لڑتے رہے اور آخر کار 25 فروری 1984 کو شہید ہو گئے[10]۔ خیبر آپریشن کے بعد اور جزائر مجنون میں ایرانی فوج کا قبضہ مضبوط ہو جانے کے بعد 1984 میں صوبہ زنجان کے فوجی، علی ابن ابی طالب ع 17 ڈویژن سے جدا ہو کر عاشورا 31 ڈویژن سے ملحق ہو گئے[11]۔
بدر آپریشن(فروری 1985) اچھا خاصہ مشکل آپریشن تھا اور اس میں جھیل سے گزرنا، دریائے دجلہ کے مشرقی ساحل پر قبضہ کرنا اور العمارہ_بصرہ ہائی وے کو بند کرنا[12] انتہائی کٹھن کام تھا اور آبی سر زمین، مواصلاتی سڑک کا نہ ہونا اور توپ خانے کی حمایت کا نہ ہونا جیسی مشکلات سر فہرست تھیں۔ اگرچہ عاشورا 31 ڈویژن اس آبی_ خاکی آپریشن میں ان کامیاب ترین یونٹوں میں سے تھی جو مذکورہ جھیل جیسے علاقے سے گزرنے، دجلہ کے مشرقی حصے پر قبضہ کرنے اور دریا کو عبور کرنے میں کامیاب رہی[13]، لیکن پھر بھی اس آپریشن میں مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ اس آپریشن میں ڈویژن کمانڈر مہدی باکری، انچارج سپاہ براے خصوصی تربیت علی تجلائی، ڈسٹرائے بٹالین کمانڈر اکبر جوادی، امام حسین علیہ بٹالین کمانڈر اصغر قصاب عبد اللھی، راکٹ لانچر گروپ لیڈر محمود گلزاری[14] اور دیگر کئی افسران شہید ہو گئے[15]۔
بدر آپریشن کے بعد قزوین شہر کے فوجی بھی عاشورا 31 ڈویژن سے آملے[16]۔ مئی 1985 میں مہدی باکری کی جگہ پر امین شریعتی ڈویژن کمانڈر بنا دیئے گئے[17]۔
اس ڈویژن نے آپریشن والفجر 8 (جنوری 1986) میں کربلا کیمپ کی ایک یونٹ کے طور پر دریائے اروند کو پار کیا، چہار باغ کے کئی منزلہ سیمٹڈ اسکلے (Jetty) تک پہونچے اور دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کرتے ہوئے فاو_بصرہ روڈ تک پیش قدمی کی[18]۔
قزوین شہر کی فورسز آپریشن والفجر 8 کے بعد عاشورا 31 ڈویژن سے الگ ہو گئیں اور سید الشہداء 10 ڈویژن سے ملحق ہو گئیں[19]۔
عاشورا31 ڈویژن کے فوجیوں نے کربلا 4(دسمبر 1986)، کربلا 5(دسمبر 1986۔ مارچ 1987) کربلا8 (مارچ 1987)، بیت المقدس 2(دسمبر 1987اور جنوری 1988)، بیت المقدس 3(فروری 1988) اور مرصاد نامی آپریشن میں اپنا کردار ادا کیا[20]۔
مارچ 1987 میں ادارہ سپاہ پاسداران میں تبدیلی لائی گئی، مشرقی آذربائیجان کی سپاہ اور عاشورا ڈویژن کو ضم کرتے ہوئے "پانچویں سپاہ باقر العلوم(ع)" تشکیل دی گئی جس کے کمانڈر علی شمشیری اور نائب کمانڈر امین شریعتی تھے؛ امام زمانہ عج 31 بریگیڈ (تبریزشہر)، انصار المہدی «عج» 36 بریگیڈ(زنجان)، حضرت عباس (ع) 37 بریگیڈ(اردبیل)، صاحب الامر (ع)82 بریگیڈ (قزوین ) اور نینوا بریگیڈ کو بھی سپاہ پنجم کی آمادہ باش فورس کا حصہ بنایا گیا[21]۔ 1988 کے آغاز میں آپریشن بیت المقدس3 کے بعد پانچویں سپاہ باقر العلوم کا نام بدل کر "پانچویں سپاہ عاشورا" رکھا گیا جس کے کمانڈر علی شمشیری اور نائب کمانڈر امین شریعتی اپنے عہدوں پر باقی رہے؛ پانچویں سپاہ عاشورا میں تین بریگیڈز تھیں: امام زمانہ «عج» 31، انصار المہدی «عج» 36 اور حضرت عباس (ع)37۔ اور نیز چار بٹالینز تھیں: امام حسین ع، امیر المومنین (ع)، علی ابن ابی طالب (ع) اور حضرت قاسم (ع)[22]۔
مسلط کردہ جنگ کے آخری عرصے میں پانچویں سپاہ عاشورا کا سب سے اہم مشن، مرصاد آپریشن(27 جولائی) میں شرکت کرنا تھا جس میں اس نے نجف کیمپ کی کمانڈ میں رہتے ہوئے تین بریگیڈز کے ساتھ مل کر علاقہ دشت اور حسن آباد گھاٹی میں منافقین پر حملہ کیا اور آپریشنل ایریا کو کلیئر کیا۔
مرصاد آپریشن میں پانچویں سپاہ عاشورا کے کمانڈر علی شمشیری اور علی ابن ابی طالب (ع) بٹالین کے کمانڈر روح اللہ شکوری شہید ہو گئے[23]۔
آپریشن والفجر مقدماتی سے لے کر آپریشن مرصاد تک عاشورا ڈویژن کے سب سے زیادہ فوجی آپریشن کربلا 5 میں شہید ہوئے، (جن کی تعداد 996تھی)؛ اور سب سے زیادہ فوجی بدر آپریشن میں زخمی ہوئے جن کی تعداد 2370 درج کی گئی) اور سب زیادہ فوجی جو آپریشن خیبر میں قید ہوئے وہ 50 اور لاپتہ (مفقود الاثر) ہونے والے فوجی 942 ہیں[24]۔ اس مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں مجموعی طور پر عاشورا 31 ڈویژن کے شہدا، زخمیوں اور لاپتہ فوجیوں کے جو اعداد و شمار محفوظ کئے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں: 3684 شہید، 12660 زخمی، 287 فوجی کیمیکل حملوں میں زخمی اور متاثر، 364 افراد قیدی اور 1623 فوجی لاپتہ[25]۔
عاشورا 31 بریگیڈ کے کمانڈروں کے نام بالترتیب یوں ہیں: محمد علی جعفری(1981)، امین شریعتی (1981- 1982) اور مہدی باکری (1382)۔ جبکہ عاشورا 31 ڈویژن کے کمانڈر درج ذیل افراد رہے: مہدی باکری (1982-1984) اور امین شریعتی(1985- 1986)۔ اسی طرح باقر العلوم 5 سپاہ کے کمانڈر علی شمشیری(1987-1989) اور محمد جعفر اسدی (1989-1991) تھے۔1991سے 2009 تک محمد جعفر اسدی، عبد المحمد رؤفی نژاد، یزدان موئیدی نیا، محمد پاکپور، علی اکبر نوری اور محمد تقی اوصانلو نے سپاہ عاشورا کی کمانڈنگ کے فرائض سرانجام دئیے۔
2009سے ابھی تک محمد تقی اوصانلو پانچویں سپاہ عاشورا کے کمانڈر ہیں[26]۔
1994 میں تبریز شہر میں آذربائیجان(مشرقی اور مغربی آذربائیجان، اردبیل اور زنجان) کے شہروں کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کانگریس کی بنیاد رکھی گئی جس نے مارچ 1995میں اپنی باقاعدہ سرگرمی کا آغاز کیا جس میں ہزاروں صفحات پر مشتمل شہداء کی اسناد، واقعات، وصیتیں اور سوانح حیات کو یکجا کیا گیا اور پانچ کتابوں کی شکل میں شایع کیا گیا جن کے نام یہ ہیں: "خدا حافظ سردار"، "راہیان شط"، "ستارہ بدر"، "آشنای آسمان" اور "گمشدگان مجنون"؛ ان کتابوں کی رونمائی 24 جولائی 1995 میں اسی کانگریس میں کی گئی[27]۔
1387 کے موسم خزاں میں شہر تبریز میں جمہوری اسلامی روڈ پر "عاشورا 31 ڈویژن" کے لئے ایک ادارہ بنایا گیا جس کا مقصد اس ڈویژن کے آثار کو محفوظ کرنا اور دفاع مقدس کی اقدار کو نشر کرنا ہے[28]۔
2004 کے موسم خزاں میں سپاہ کے ڈھانچے میں تبدیلی اور ادارہ "بسیج مستضعفین" کی تشکیل کے بعد مشرقی آذربائیجان کے "مزاحمت بسیج" علاقے کے ہیڈ کو عاشورا 31 ڈویژن کے ہیڈ میں ضم کر دیا گیا اور ملٹری کمانڈرمحمد تقی اوصانلو کی کمانڈ میں "صوبائی سپاہ عاشورا" بنا دی گئی۔ اکتوبر 2021 سے لے کر آج تک مشرقی آذربائیجان کی سپاہ عاشورا کے کمانڈر سیکنڈ بریگیڈ جنرل اصغر عباس قلی زادہ ہیں[29]۔
منابع و ارجاعات:
- [1] معبودی، جلال، اطلس لشکر31 عاشورا، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، طبع اول، 2019، ص14۔
- [2] سابق، ص 14، 18
- [3] سابق، ص19
- [4] سابق، ص 21
- [5] سابق، ص32، 33
- [6] سابق، ص 32، 43
- [7] سابق، ص46
- [8] سابق، ص 139
- [9] سابق، ص48
- [10] سابق، ص139
- [11] سابق، ص48
- [12] اللہیاری فر، محمد، لشکر 31 عاشورا در عملیات والفجر 8، تہران، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، طبع اول، 2017، ص 22 اور 23
- [13] سابق، ص31
- [14] معبودی، جلال، سابق، ص154، 155؛ اللہیاری فر، محمد، سابق، ص21۔
- [15] اللہیاری فر، محمد، سابق، ص21
- [16] معبودی، جلال، سابق، ص48
- [17] اللہیاری فر، محمد، سابق، ص 22
- [18] سابق
- [19] معبودی، جلال، سابق، ص48
- [20] سابق
- [21] سابق، ص50
- [22] سابق، ص 236
- [23] سابق
- [24] سابق، ص 50
- [25] عابد قشلاقی، مصطفٰی، شناسنامه لشکر31 عاشورا در دوران دفاع مقدس، تہران، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، طبع اول، 2021، ص31
- [26] اللہیاری فر، محمد، سابق، ص55
- [27] سابق، ص250
- [28] سابق، ص244
- [29] اللہیاری فر، محمد، ص55؛ خبرگزاری فارس_ نیوز کوڈ 6/8/1400_60021۔