ھاگ میزائل
امریکہ کا بنایا ہوا زمین سے ہوا میں مار کرنے والا ' ہاک' (MIM-23 HAWK) میزائل، جسے ایران میں ' ہاگ' کہا جاتا ہے، ' دفاعِ مقدس' کے دوران دشمن کے لڑاکا طیاروں کے خلاف ایران کے اہم ترین دفاعی ہتھیاروں میں سے ایک تھا۔
ہاک ایک ' مافوق الصوت' اور درمیانی رینج کا میزائل ہے، جو خاص طور پر کم اور درمیانی بلندی پر اڑنے والے طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے خلاف فضائی دفاع کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔[1] ہاک میزائل کی لمبائی 5 میٹر اور قطر 36 سینٹی میٹر ہے؛ یہ 2.5 ماخ کی رفتار سے 30 میٹر سے لے کر 16 ہزار میٹر کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کی رینج 40 کلومیٹر ہے۔[2] اس میں ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے اور اس کے وار ہیڈ کا وزن 30 کلوگرام ہے۔[3]
ہاک میزائل سائٹ مختلف ساز و سامان کے ایک مجموعے پر مشتمل ہوتی ہے۔ سائٹ کے مرکز میں ' فائر کنٹرول کمانڈ سینٹر' کا کیبن ہوتا ہے۔ اس کے قریب کچھ فاصلے پر میزائل فائر کرنے سے پہلے کی ابتدائی جانچ (pre-launch check) کا کیبن ہوتا ہے۔ سائٹ کی ' آنکھیں' دو ریڈار ہوتے ہیں جو زیادہ بلندی اور کم بلندی پر اہداف کی نشاندہی اور شناخت کرتے ہیں۔ ہدف کی شناخت کے بعد جب معیاری طریقہ کار کے تحت میزائل فائر کر دیا جاتا ہے، تو میزائل کی رہنمائی اور ٹریکنگ کا ریڈار (Tracking Radar) متحرک ہو جاتا ہے؛ یہ دراصل پہلے دو ریڈاروں سے الگ ایک یونٹ ہوتا ہے جو سائٹ کے احاطے میں ان سے کچھ فاصلے پر نصب ہوتا ہے۔ آخر میں، سائٹ کے بائیں اور دائیں جانب تین تین لانچنگ پیڈ ہوتے ہیں، ہر پیڈ پر تین میزائل لدے ہوتے ہیں، یعنی ایک وقت میں مجموعی طور پر اٹھارہ میزائل تیار حالت میں ہوتے ہیں۔[4]
ہاک میزائل کی تیاری کا آغاز 1953ء میں ہوا اور 1960ء میں نیٹو (NATO) نے اسے اپنے دفاعی نظام میں شامل کرنے کی منظوری دی۔[5]
ہاک میزائل سسٹم 1975ءمیں ایران پہنچا اور اسے 8 بٹالینز کی صورت میں علاقائی آپریشنل مراکز اور کچھ دفاعی گروپس جیسے دزفول، تہران اور بوشہر میں تعینات کیا گیا۔[6]
ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ جنگی علاقوں کو فضائی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہاگ سائٹس کو محاذِ جنگ پر منتقل کیا جائے۔[7]
ہاک سسٹم اس وقت کی جدید ترین الیکٹرانک ٹیکنالوجی سے لیس تھا، لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی تک ایرانیوں کی اس حوالے سے تربیت مکمل نہیں ہوئی تھی؛ ان سائٹس کو چلانا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا امریکی ماہرین کی ذمہ داری ہوتی تھی جو کہ انتہائی مہنگا اور وقت طلب کام تھا۔[8]
اس صورتحال میں بظاہر فضائیہ کے لیے ہاک سائٹس کی منتقلی ناممکن نظر آتی تھی، لیکن فضائیہ کے چند تخلیقی ذہن رکھنے والے اہلکاروں نے اس منتقلی کی ذمہ داری سنبھالی[9] اور مئی 1982ءمیں بوشہر، امیدیّہ اور دزفول کے دفاعی گروپس سے ' تبوک'، ' بدر' اور ' خیبر' نامی تین مکمل ہاک بیٹریاں ' آپریشن بیت المقدس' کے علاقے میں روانہ کی گئیں۔ اس منتقلی کے بعد ہاک میزائلوں کو آپریشن رمضان، مسلم بن عقیل، محرم اور والفجرِ مقدماتی کو فضائی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔[10] 7 فروری 1983ء کو ایک نادر واقعے میں، عراق کے ایک ' اسکاڈ' (زمین سے زمین پر مار کرنے والے) میزائل کو ' آپریشن والفجرِ مقدماتی' (چذابہ) کے علاقے میں ہاک میزائل کے ذریعے فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔[11]
کم بلندی پر دفاع فراہم کرنے کے لیے 1983ء کے دوران ہونے والے چھے آپریشنز (والفجر 1 سے 6 تک) میں بھی ہاک سائٹس استعمال کی گئیں۔ وہ سب سے بڑا آپریشن جس میں ہاک کے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے آلات استعمال ہوئے، وہ 1984ء کے اوائل میں ہونے والا ' آپریشن خیبر' تھا۔ اس آپریشن میں ہاک کی تین بیٹریوں نے معاونت کی[12] اور اس دوران ہاگ سسٹم کو شدید نقصان بھی پہنچا۔[13]
5 جنوری 1986ء کو ' قرارگاہِ رعد' کے قیام کے ساتھ، فضائی دفاع کو ایران کے اندرونی علاقوں کے تحفظ پر توجہ دینے کا زیادہ موقع ملا۔ قرارگاہِ رعد نے فضائیہ کے لاجسٹک کمانڈ اور سپورٹ سینٹر کی سہولیات اور افرادی قوت کے ساتھ جنگی محاذوں کو کور کیا، یہاں تک کہ آپریشن کربلا-4 اور 5 کے لیے مطلوبہ ہاگ سائٹس بھی لاجسٹک ڈپو سے فراہم کی گئیں۔ ہیڈ کوارٹر میں موجود آٹھ ہاک سائٹس میں سے چھ ہمیشہ آپریشنل علاقوں میں منتقل رہتی تھیں اور دو کی سروس (مرمت) کی جاتی تھی۔[14]
چونکہ ہاک سائٹس دشمن کے طیاروں کے ' اینٹی ریڈار' میزائلوں کے سامنے غیر محفوظ تھیں[15]، اس لیے فروری 1986ء (آپریشن والفجر-8) میں ایک اختراعی اقدام کیا گیا۔ ہاک سسٹم کا ریڈار، جو عام طور پر لانچنگ پیڈز کے قریب ہوتا ہے، اس سے دور ہٹا دیا گیا تاکہ دشمن کے طیارے (جو 65 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے سے میزائل فائر کرتے تھے) ہاگ ریڈار کو نشانہ بنانے کے لیے آگے آنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ صورتحال ہاگ میزائل فائر کرنے کے لیے انتہائی موزوں تھی اور وہ اپنی 50 میل کی رینج میں دشمن کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا تھا۔[16]
دفاعِ مقدس میں ہاک میزائل سے متعلق ایک اور اہم واقعہ ان میزائلوں کا ' ایف-14' لڑاکا طیاروں پر نصب کیا جانا تھا۔ اس وقت فضائیہ کے کمانڈر اس کوشش میں تھے کہ ایف-14 طیارے کی فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے ' فونیکس' میزائل کا مناسب متبادل تلاش کیا جائے۔ فضائیہ کے ' جہادِ خود کفالتی' کے شعبے کے عملے نے مہینوں کی تحقیق کے بعد ہاک میزائل کی تجویز پیش کی۔[17] میزائل کی مانیٹرنگ کو طیارے کے ریڈار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اس پروجیکٹ کا سب سے مشکل مرحلہ تھا، جسے ملک کے ماہرین اور یونیورسٹی کے قابل ترین افراد نے سر انجام دیا۔[18]
بالآخر 25 مئی 1988ء کو سمنان کے فائرنگ رینج میں ایف-14 طیارے سے ہاک میزائل فائر کرنے کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل ہوئی۔[19] بعد ازاں، اگست 1988ء میں ' آپریشن مرصاد' کے دوران ایران کے ایک ایف-14 طیارے نے ہاک میزائل فائر کر کے عراق کے ایک ' میگ-29' طیارے کو مار گرایا۔[20] جنگ کے دوران ہاگ میزائلوں نے درمیانی بلندی پر بہترین کارکردگی دکھائی، لیکن ان کی ایک کمزوری یہ تھی کہ وہ ' میگ-25' جیسے طیاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے جو بہت زیادہ بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔[21]
واضح رہے کہ 1985ء اور 1986ء کے درمیان ہونے والے ' میک فارلین' معاملے میں ایران نے ہاک میزائلوں کے پرزوں کے کم از کم 235 سیٹ حاصل کیے تھے۔[22]
جنگ کے بعد، فضائیہ میں طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت 2006ء کے اوائل سے تحقیقی منصوبوں کے قالب میں ہاک میزائل سسٹم کو جدید بنانے کا کام شروع کیا گیا۔[23] اسی سلسلے میں ہاک سسٹم کی ریورس انجینئرنگ کر کے اس کا مقامی ورژن ' مرصاد' ڈیفنس سسٹم کے نام سے ملک کے اندر تیار کیا گیا، جو مقامی فضائی دفاعی نظام بنانے کی سمت میں پہلا بڑا قدم تھا۔[24]
حوالہ جات
- [1]. اصلانی، یعقوب، راکت و موشک ہائے استراتژیک جہان- موشک ہائے سطح بہ ہوا، جلد 6، تہران، انتشاراتِ سازمانِ عقیدتی سیاسیِ ارتش، 2001ء، ص 33۔
- [2]. ایضاً، ص 38
- [3]. ایضاً، ص 35
- [4]. بابامحمودی، مہدی، " شکارچیِ دوشنبہ: گفتگو با سرہنگ پدافند خسرو جہانی"، ماہنامہ صنایعِ ہوائی، شمارہ 291، نومبر 2015ء، ص 9
- [5]. اصلانی، یعقوب، سابق، ص 36
- [6]. گروہِ اساتیدِ معارفِ جنگ، معارفِ جنگ، تہران، انتشاراتِ ایرانِ سبز، 2014ء، ص 362۔
- [7]. ایضاً، ص 372
- [8]. ایضاً
- [9]. ایضاً
- [10]. غلامی، برات علی، پدافندِ ہوائی: سیرِ توسعہ و تکامل، جلد 1، تہران، انتشاراتِ ایرانِ سبز، 2020ء، ص 123 اور 124۔
- [11]. بابامحمودی، مہدی، سابق، ص 11 اور 12
- [12]. غلامی، برات علی، سابق، ص 125
- [13]. گروہِ اساتیدِ معارفِ جنگ، سابق، ص 375
- [14]. غلامی، برات علی، سابق، ص 138
- [15]. نمکی، علی رضا، نیروئے زمینی در دفاعِ مقدس، تہران، انتشاراتِ ایرانِ سبز، 2010ء، ص 292
- [16]. ایضاً، ص 319؛ " بررسی عملکرد سامانہ ہاگ در عملیات والفجر 8"، خبر گزاری دفاعِ مقدس، 3 فروری 2022ء۔
- [17]. کارشکی، محمد رضا، بہ سوئے قلہ ہا، تہران، انتشاراتِ آجا (AJA)، 2014ء، ص 254
- [18]. ایضاً، ص 255
- [19]. ایضاً، ص 256
- [20]. ایضاً، ص 259 اور 260
- [21]. کردزمن، انتھونی اور ابراہم ویگنر، درس ہائے جنگِ مدرن - جنگِ ایران و عراق، جلد 2، مترجم: حسین یکتا، تہران، نشرِ مرز و بوم، 2011ء، ص 383
- [22]. کردزمن، انتھونی اور ابراہم ویگنر، درس ہائے جنگِ مدرن - جنگِ ایران و عراق، جلد 1، مترجم: حسین یکتا، تہران، نشرِ مرز و بوم، 2010ء، ص 467
- [23]. کارشکی، محمد رضا، سابق، ص 241
- [24]. " سہ سامانہ پدافندی برتر جمہوری اسلامی ایران را بیشتر بشناسیم"، تسنیم نیوز ایجنسی، 1 جون 2021، www. tasnimnews. com/fa/news/1400/11/2513478