فاو
جزیرہ نما فاو عراق کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک تھا جو 1986ء میں آپریشن 'والفجر-8' کے دوران ایران کے قبضے میں آگیا۔ فاو عراق کی سرزمین کے دور ترین جنوبی نقطے اور خلیج فارس کے شمال مغرب میں واقع ہے جو تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا ہے؛ اس کے شمال میں دریائے اروند، جنوب میں خور عبداللہ اور کویت، مشرق میں خلیج فارس ہے جبکہ مغرب کی جانب وہ واحد خشک حصہ ہے جو بصرہ تک جاتا ہے۔ فاو کی زمین کا بڑا حصہ دلدلی، نمک زار اور نرم ہے؛ اسی وجہ سے دریائے اروند سے لے کر فاو-بصرہ کی پہلی سڑک تک کے درمیانی فاصلے (جہاں مٹی کاشت کے قابل ہے) کے علاوہ باقی تمام علاقہ شور زدہ ہے جو معمولی بارش سے ہی پھسلن والاہو جاتا ہے، جس کے باعث وہاں ہر قسم کی گاڑیوں، خاص طور پر بھاری گاڑیوں اور ٹینکوں کی آمد و رفت تقریباً نامکن ہو جاتی ہے۔ فاو کے علاقے میں تین اہم سڑکیں موجود ہیں: فاو-البحار (لمبائی 82 کلومیٹر)، فاو-بصرہ (لمبائی 91 کلومیٹر) اور فاو-ام القصر (لمبائی 50 کلومیٹر)۔[1]
ایران کے خلاف عراقی جنگ سے پہلے فاو کی آبادی 42 ہزار نفوس پر مشتمل تھی جو جنگ کی وجہ سے مکینوں کے انخلاء کے باعث کم ہو کر 3 ہزار رہ گئی۔[2] دریائے اروند کے کنارے فاو کی بحری تنصیبات، خور عبداللہ کے ساتھ ام القصر کی بندرگاہ اور بصرہ کی بندرگاہ، مسلط کردہ جنگ میں عراق کے تین اہم بحری اڈے تھے۔[3] البتہ فاو میں ہلکے بحری جہازوں اور کم گہرائی والے جہازوں کے لگنے کے لیے محدود برتھ (Jetties) موجود[4] تھیں جن کا استعمال کم ہی ہوتا تھا۔ 1980ء میں ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز پر، فاو میں چھ جنگی کشتیاں (یوگوسلاویہ کی ساختہ) تعینات تھیں۔[5]
شہر فاو میں میزائل داغنے کے تین اڈے بھی موجود تھے[6] جہاں سے 1983ء سے[7] عراق 'سلک ورم' میزائلوں کے ذریعے خلیج فارس کے علاقے، بالخصوص جزیرہ خارک میں ایران کی نفتی تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بناتا تھا۔[8] پہلا اڈہ دشتِ فاو کے نچلے حصے، خلیج فارس کے دہانے اور خور عبداللہ کے قریب تھا، دوسرا اڈہ فاو سے ام القصر جانے والی سڑک کے دائیں جانب اور تیسرا اڈہ اسی سڑک کے بائیں جانب واقع تھا۔[9] ان میزائلوں نے اپنی 90 کلومیٹر کی رینج کے ذریعے بندر امام اور ماہشہر جانے والے جہازوں کے لیے خورِ موسیٰ کے دہانے کو غیر محفوظ بنا دیا تھا۔[10]
فاو میں تیل کے درجنوں بڑے ذخائر موجود ہیں جہاں سے عراق کی 90 فیصد پیٹرولیم برآمدات حاصل کی جاتی تھیں اور انہیں پائپ لائن کے ذریعے سمندر میں 32 کلومیٹر دور 'البکر' اور 'الامیہ' کے آئل پلیٹ فارمز تک منتقل کیا جاتا تھا۔ عراق کی نمک کی سب سے بڑی جھیل اور فیکٹری فاو کے شمال مغرب میں واقع تھی؛ کھجوروں کے وسیع باغات، کثیر پیداوار اور برتھ (جیٹی) کی موجودگی نے بھی فاو کو انتہائی اہمیت دے رکھی تھی۔[11]ایران پر عراق کے بڑے فضائی حملے کے ایک دن بعد، 23 ستمبر 1980ء کو ایرانی جنگی طیاروں نے آپریشن 'کمان-99' کے تحت فاو کی بندرگاہ کی فوجی تنصیبات پر بمباری کی۔[12] عراقی بحریہ کا مقابلہ کرنے کے لیے، بوشہر ایئربیس کے طیاروں نے بصرہ، فاو اور ام القصر کی بندرگاہوں کی تنصیبات پر بھی بمباری کی[13] اور عراق کی پیٹرولیم صنعت کو تباہ کرنے کے ہدف سے فاو کی نفتی تنصیبات پر متعدد بار حملے کیے گئے۔[14] مثال کے طور پر، بوشہر کی چھٹی چھاؤنی کے ایف-4 طیاروں نے 27 ستمبر، 4 اکتوبر اور 21 اکتوبر 1980ء کو فاو پر بمباری کی۔[15]
مسلط کردہ جنگ کے دوران فاو کا علاقہ عراقی ساتویں کور کے دائرہ اختیار میں تھا اور اس نے دریائے اروند کی دفاعی لائن کی حفاظت کے لیے 15ویں اور 26ویں پیادہ ڈویژن اور بحریہ کے دستے تعینات کر رکھے تھے۔[16] 9 فروری 1986ء کو فاو پر قبضے کے مقصد سے آپریشن 'والفجر-8' کا آغاز ہوا، جس میں سپاہ پاسداران کی افواج نے خسرو آباد سے رأس البیشہ کے درمیانی حصے سے دریائے اروند کو عبور کیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں شہر فاو اور گردونواح کے دیہات ایران کے قبضے میں آگئے، سمندر سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے تین اڈے اور عراقی بحریہ کا اڈہ قبضے میں لے لیا گیا، جس سے خلیج فارس کے شمالی حصے میں جہازرانی کی حفاظت ممکن ہو گئی۔[17] مسلسل 75 روز کی لڑائی کے بعد، عراقی فوج، فاو کو واپس لینے سے مایوس ہو گئی اور اپنے جوابی حملے روک دیے۔[18] اس آپریشن میں ایران کے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے عراق کے 72 جنگی طیارے مار گرائے گئے[19]، 17 ہزار عراقی ہلاک ہوئے، عراق کا 770 مربع کلومیٹر علاقہ ایران کے قبضے میں آیا، ایرانی افواج بندر ام القصر کے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر مستقر ہوگئیں[20] اور یوں ایران، کویت کا پڑوسی بن گیا۔[21]
فاو کی فتح کے بعد 'جہادِ سازندگی' نے ایک ایسا نظام تیار کیا جس کے تحت 'دوبہ' نامی ایک بڑا تیرتا ہوا پلیٹ فارم دریا کے عرض میں حرکت کر سکتا تھا۔ یہ آلہ 'خضر' نامی متحرک پل کے طور پر مشہور ہوا۔[22] بعد ازاں دریائےاروند پر ایک مستقل پل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو قرارگاہ کربلا کی انجینئرنگ فورس (جہادِ سازندگی) نے مکمل کیا۔[23] 56 انچ قطر کے 3400 تیل کے پائپوں کے استعمال سے 600 میٹر طویل 'بعثت' پل تعمیر کیا گیا۔ اس پل کی تنصیب کا کام 31 مئی 1986ء کو شروع ہوا اور 19 ستمبر 1986ء کو پایا تکمیل کو پہنچا۔[24]
اتوار 17 اپریل 1988ء کو عراقی فوج نے "رمضان المبارک" نامی آپریشن کے تحت فاو پر حملہ کر دیا۔[25] عراق نے آبادان اور بعثت پلوں کو تباہ کرنے کے لیے فضائی بمباری کی اور ایرانی توپ خانے کو ناکارہ بنانے کے لیے زہریلی گیسوں کا استعمال کیا۔[26] اس کے ساتھ ہی 200 غواصوں نے بھی پیچھے سے ایرانی دستوں پر حملہ کیا۔[27] صدارتی گارڈز کی کمان میں میرینز کی دو بریگیڈز نے بھی فاو کو واپس لینے کے اس آپریشن[28] میں حصہ لیا؛ ان کے ہمراہ کاتیوشا راکٹ لانچروں سے لیس بحری بیڑے بھی موجود تھے۔[29] 18 اپریل 1988ء کی سہ پہر کو عراق فاو کا علاقہ ایرانی افواج کے قبضے سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ واضح رہے کہ فروری 1986ء سے اپریل 1988ء کے اواخر تک، فاو کا علاقہ مجموعی طور پر 28 ماہ تک ایران کے قبضے میں رہا۔[30]
جنگ کے بعد عراقی حکومت نے فاو کی ترقی کے لیے کام شروع کیا۔ بندر فاو کے منصوبے کا آغاز 2010ء میں ہوا، لیکن کویتی حکومت کی مخالفت[31] سمیت مختلف مسائل[32] کی بنا پر اس کی تکمیل میں رکاوٹیں آتی رہیں۔ بالآخر 2020ء میں عراق نے جنوبی کوریا کی کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت بندرگاہ کا پہلا فیز تعمیر ہونا تھا۔ توقع ہے کہ یہ بندرگاہ 2024ء میں کام شروع کر دے گی اور 2025ء تک مکمل طور پر تیار ہو جائے گی۔[33]
منابع و ارجاعات:
- [1] میرزائی، رضا، حماسههای نامداران گمنام، تہران، اشاعت اول، 2015ء، ص 504۔
- [2] تراب زمزمی، عبدالمجید، جنگ ایران و عراق، مترجم: مژگان نژند، تہران، 1989ء، ص 195۔
- [3] شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها، تہران، 2021ء، ص 259۔
- [4] علایی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، جلد 2، تہران، 2012ء، ص 196۔
- [5] ام. وودز اور دیگران، جنگ ایران و عراق از دیدگاه فرماندهان صدام، مترجم: عبدالحمید حیدری، تہران، 2014ء، ص 302۔
- [6] میرزائی، رضا، سابق، اشاعت 44ویں، 2020ء، ص 504۔
- [7] ام. وودز اور دیگران، سابق، ص 281۔
- [8] میرزائی، رضا، سابق، ص 504۔
- [9] نیازی، یحیی، جاده استراتژیک فاو-بصره، تہران، 2012ء، ص 69۔
- [10] شیرعلی نیا، جعفر، موج سرخ، تہران، 2012ء، ص 121۔
- [11] میرزائی، رضا، سابق، ص 504
- [12] ہیئتِ تدوینِ تاریخِ دفاعِ مقدس، تقویم مستند، جلد 3، تہران، 2018ء، ص 78-79۔
- [13] نیروی هوایی در دفاع مقدس، تہران، 2010ء، ص 162
- [14] سابق، ص 137، 151-156
- [15] ہیئتِ تدوینِ تاریخِ دفاعِ مقدس، سابق، ص 215، 396، 645
- [16] پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی 1، تہران، 2010ء، ص 100
- [17] سابق، ص 101۔
- [18] علایی، حسین، سابق، ص189
- [19] غلامی، برات علی، پدافند هوایی، جلد 1، تہران، 2020ء، ص 210۔
- [20] جعفری، محمد، اطلس نبردهای ماندگار، تہران، 50ویں اشاعت، 2019ء، ص 118۔
- [21] شیرعلی نیا، جعفر، سابق، ص 119۔
- [22] محمودزادہ، نصرت اللہ، خاکریزهای خط مقدم، جلد 2، تہران، 2022ء، ص 309-310۔
- [23] میرزائی، رضا، سابق، ص 509۔
- [24] علایی، حسین، سابق، ص 190
- [25] سابق، ص 432۔
- [26] سابق
- [27] ام. وودز اور دیگران، سابق، ص 312۔
- [28] سابق، ص 311
- [29] سابق، ص 309
- [30] علایی، حسین، سابق، ص 433
- [31] عطنا، یونیورسٹی علامہ طباطبائی، 14 فروری 2023ء
- [32] ایرنا (IRNA)، 12 فروری 2017ء۔
- [33] عطنا (ATNA)، سابق