متحرک دفاع

عراقی فوج نے 1985 میں پے در پے شکستوں اور جزیرہ نما فاو کو کھو دینے کے بعد زمینی نبرد میں ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی اور کئی آپریشنز کیے جو "دفاعِ متحرک" کے نام سے مشہور ہوئے۔

عراق نے آپریشن والفجر 8 کے بعد 1985 کے دوران جزیرہ نما فاو میں اپنی شکست کی تلافی اور مسلح افواج کے حوصلے بلند کرنے کے لیے متحرک دفاع (Dynamic Defense) کی حکمتِ عملی کو ایجنڈے میں شامل کیا۔⁠[1] اس نئی حکمتِ عملی کے تحت عراقی افواج تمام محاذوں پر ایرانی دفاعی لائنوں کی نشاندہی کرتیں اور کمزور حصوں پر حملہ کر دیتی تھیں۔⁠[2]

متحرک دفاع کی حکمتِ عملی کے مقاصد میں فاو کے محاذ کو کمزور کرنا اور مناسب وقت پر اس علاقے پر حملہ کرنا، اپنی جنگی صلاحیتوں کی بحالی اور اضافے کے لیے وقت حاصل کرنا، جنگ میں پہل کرنا اور میدانِ جنگ کا تعین خود کرنا، ایرانی افواج کے حوصلے پست کرنا، انہیں تتر بتر کرنا اور الجھائے رکھنا، اگلے بڑے آپریشنز کو روکنا، اقتصادی ذرائع کو نقصان پہنچانا، پروپیگنڈے کے ذریعے فائدہ اٹھانا، جنگ میں سیاسی توازن قائم کرنا، پروپیگنڈے کے لیے قیدی بنانا، ایران کو اقوام متحدہ کی قراردادیں ماننے پر مجبور کرنا اور عراق کے حامی ممالک کو مایوسی سے بچانا شامل تھا۔⁠[3]

متحرک دفاع کی حکمتِ عملی کا پہلا مرحلہ 6 مارچ 1986 کو والفجر-9 (عراقی شہر سلیمانیہ) کے آپریشنل علاقے میں شروع ہوا اور پھر 17 مئی 1986 تک بالترتیب شاخ تارچر؟؟ کی بلندیوں، دربندی خان، شرہانی، سومار، سیدکان، جزیرہ مجنون جنوبی، فکہ، پیچ انگیزہ، حاج عمران اور مہران کے علاقوں میں اس پر عمل درآمد کیا گیا۔⁠[4]

عراق کی متحرک دفاعی حکمتِ عملی میں 150 روسی ٹی-72 ٹینکوں کی تیز رفتار منتقلی کا کلیدی کردار تھا۔ ان 150 ٹینکوں کے ساتھ عراق نے 150 بڑے ٹرالر (Tank Transporters) بھی رکھے ہوئے تھے۔ ایرانی افواج جس مقام پر بھی حملہ کرتیں، یہ ٹینک فوری طور پر ٹرالروں پر لاد کر میدانِ جنگ تک پہنچا دیے جاتے۔ مشرقی عراق میں سڑکوں اور ہائی ویز کے جال کی وجہ سے یہ منتقلی بہت تیز اور مؤثر تھی، جبکہ ایران کے مغربی صوبوں میں مواصلاتی راستے ایسی سہولیات سے محروم تھے۔⁠[5]

یہ متحرک دفاع اس وقت کیا جا رہا تھا جب ایرانی افواج آپریشن والفجر-8 کے علاقے میں اپنے دفاعی مقامات کو مستحکم کرنے میں مصروف تھیں تاکہ اس علاقے کی حفاظت کا یقین ہو سکے اور فورسز کو دوسرے کاموں کے لیے فارغ کیا جا سکے۔ دشمن کے حملوں میں شدت اور بعض حساس مقامات پر عراقی فوج کے اجتماع کے بعد ایرانی حکام نے فیصلہ کیا کہ فاو کے دفاعی مقامات کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کے حملوں کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔⁠[6]

فوج کے زمینی دستوں (Army) کے کمانڈرز کا زیادہ تر یہ خیال تھا کہ عراق کے متحرک دفاع کے مقابلے میں صرف دفاع (پدافند) ہی کرنا چاہیے، کیونکہ عراق کے پاس منظم اور ریزرو فورسز ہیں جن کی مدد سے وہ کسی بھی محور پر حملہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے، جبکہ فوج موجودہ حالت میں تنہا تمام دفاعی لائنوں کی حفاظت کی سکت نہیں رکھتی۔ اسی لیے انہوں نے تجویز دی کہ فوج کو فی الحال جارحانہ کارروائیوں (Offensive) سے الگ کر کے تمام افرادی قوت کو دفاع پر مامور کر دیا جائے۔⁠[7] اس کے برعکس سپاہ پاسداران کے کمانڈرز کا خیال تھا کہ بہترین دفاع "حملہ" ہے، کیونکہ دفاعی پوزیشن میں جانی نقصان جارحانہ کارروائی سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان کی تجاویز میں دشمن پر جوابی حملہ، دفاعی پوائنٹس کی ترجیحی بنیادوں پر تقسیم اور اہم مقامات کے لیے ریزرو فورس کا تعین شامل تھا۔⁠[8]

عراقی فوج نے مئی 1986 کے دوران 23 دنوں میں چھ آپریشنز کیے اور تقریباً ہر دن ایرانی افواج کے ساتھ برسرِ پیکار رہی۔⁠[9] عراقی فوج نے 17 مئی 1986 کو مہران کے عمومی محاذ پر حملہ کیا، جس کی دفاعی ذمہ داری فوج کی 84 ویں خرم آباد ڈویژن اور 21 ویں حمزہ ڈویژن کی چوتھی بریگیڈ کے پاس تھی۔⁠[10] مجموعی طور پر یہاں پیدل فوج کی 6 بٹالین اور 2 بکتر بند بٹالین دفاع پر مامور تھیں۔ دفاعی فورسز کی عدم تیاری کی وجہ سے دشمن نے تیزی سے پیش قدمی کی اور مہران شہر، مضافاتی بستیوں، کئی بلندیوں اور سڑکوں پر قبضہ کر لیا۔ دشمن کے حملے کے بعد مسلم بن عقیل اور امیر المومنین (ع) بریگیڈز اور لشکرِ نصر (سپاہ پاسداران) کے علاوہ سپاہ نے نئے دستے بھی علاقے میں بھیجے۔ اس کے باوجود دشمن نے دس دنوں کے اندر ایرانی سرزمین میں 20 کلومیٹر اندر تک پیش قدمی کی اور وہاں جم گیا۔⁠[11]

اس دوران سپاہ پاسداران کے 70 جوان شہید، 666 زخمی، 133 لاپتہ اور 8 قیدی ہوئے۔ اسی طرح دشمن کے اس حملے میں فوج کے تقریباً 400 اہلکار قیدی، 98 لاپتہ، 180 زخمی اور 9 شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ دفاعی یونٹس کے پیچھے ہٹنے کے دوران زیادہ تر ساز و سامان اور بھاری و ہلکا اسلحہ بشمول 203 ملی میٹر کی توپیں، بڑی تعداد میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر گاڑیاں پیچھے رہ گئیں جو دشمن کے ہاتھ لگ گئیں۔ عراقی دشمن نے قیدیوں اور مالِ غنیمت کی فلمیں بنا کر ٹیلی ویژن پر نشر کیں اور بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کیا۔⁠[12]

مہران پر دشمن کا حملہ عراق کی "دفاعِ متحرک" (متحرک دفاع) کی حکمتِ عملی کا نقطہ عروج تھا۔ اس حملے میں حاصل ہونے والی کامیابی سے دشمن کو اتنی ہمت ملی کہ اس نے سرکاری طور پر نئی حکمتِ عملی یعنی دفاعِ متحرک اپنانے کا اعلان کر دیا۔ عراق اپنی پروپیگنڈے میں اس فتح کو آپریشن والفجر-8 میں ایرانی افواج کی کامیابی کے برابر دکھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی لیے اس کا دعویٰ تھا کہ وہ مہران کو صرف اسی صورت میں واپس کرے گا جب ایران اپنے زیرِ قبضہ عراقی علاقوں، خاص طور پر "فاو" سے پیچھے ہٹ جائے گا۔⁠[13]

ایسا لگتا تھا کہ عراق مہران پر قبضے اور فاو سے ایرانی افواج کے انخلاء کے بدلے اس علاقے سے واپسی کی شرط رکھ کر ایران کے ردعمل کا انتظار کرے گا۔ اسی دوران ایک دوسرا مفروضہ یہ بھی تھا کہ عراق دفاعِ متحرک کی حکمتِ عملی کے ڈھانچے میں آپریشن کو مسلسل جاری رکھنے اور اپنے مقامات کی حفاظت کرنے کی ضروری صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے مہران کے علاقے میں آپریشن کے بعد وہ دفاعی حصار میں چلا گیا ہے اور نئی صورتحال کا انتظار کرے گا۔⁠[14]

آپریشن کربلائے-1 کے کامیاب نفاذ اور مہران شہر کی واپسی نے نہ صرف دشمن کی تین ماہ کی تمام تر شورشرابہ اور نسبتی فتوحات پر پانی پھیر دیا بلکہ اپنی افواج کے حوصلے بھی بلند کر دیے۔ آپریشن کربلائے-1 کا آغاز 30 جون 1986 کی رات 11:30 بجے ہوا۔ مہران کے علاقے میں دس دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران اسلامی مجاہدین مہران شہر اور اس کے گرد و نواح کے آٹھ سے زائد گاؤں، قلاویزان اور حمرین کی بلندیاں (خاص طور پر خطے کی سب سے بلند چوٹی 223)، دہلران-مہران-ایلام شاہراہ اور دو سرحدی چیک پوسٹوں کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس آپریشن میں دشمن کے 19 بریگیڈز اوسطاً 50 فیصد سے زائد تباہ ہوئے اور ان کے 3400 اہلکار لاپتہ یا قیدی بنے۔ سپاہ پاسداران کے مجموعی طور پر 9 یونٹس نے اس آپریشن میں حصہ لیا، جن میں سے 700 افراد شہید ہوئے اور 5 افراد لاپتہ یا قیدی بنے۔⁠[15]

دفاعِ متحرک کی حکمتِ عملی کو جاری رکھنے کا عملی مطلب عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایک طویل مگر محدود جنگ میں تبدیل کرنا تھا۔ سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے جنوبی محاذ پر ایک بڑے جارحانہ آپریشن کا منصوبہ بنانے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں دسمبر 1986 اور جنوری 1987 میں آپریشن کربلائے-4 اور کربلائے-5 انجام پائے۔ آپریشن کربلائے-4 کے دوران سپاہ پاسداران نے تقریباً 200 جنگی بٹالینز میدانِ جنگ میں اتاریں اور تقریباً 400 دیگر بٹالینز ریزرو حالت میں تھیں۔ تاہم، آپریشن کی معلومات قبل از وقت افشا ہو جانے کی وجہ سے آپریشن کربلائے-4 میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے، لیکن 15 دن سے بھی کم عرصے کے بعد شلمچہ کے محور سے آپریشن کربلائے-5 انجام دیا گیا جس سے عراق حیران رہ گیا۔ حقیقت میں آپریشن کربلائے-1 کی انجام دہی نے عراق کی دفاعِ متحرک کی حکمتِ عملی کے نفاذ کو روک کر اسے ختم کر دیا۔⁠[16]

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] «استراتژی دفاع متحرک عراق»، فصلنامہ نگین ایران، شمارہ 8، بہار 2004، ص 126۔
  • [2] سابق، ص 126۔
  • [3] حاجی‌ خداوردی ‌خان، مہدی، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب 42، ج 2، آزادسازی مہران، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2018، ص 39۔
  • [4] سابق
  • [5] «استراتژی دفاع متحرک عراق و سال‌های پایانی جنگ»، ہمشہری آن لائن، 29 جون 2015، www.hamshahrionline.ir/news/299549
  • [6] «استراتژی دفاع متحرک عراق»، ص 131۔
  • [7] سابق، ص 130۔
  • [8] سابق، ص 131۔
  • [9] حاجی‌ خداوردی ‌خان، مہدی، سابق، ص 20۔
  • [10] سابق، ص 39۔
  • [11] «استراتژی دفاع متحرک عراق»، ص 140
  • [12] سابق، ص 141۔
  • [13] سابق، ص 140۔
  • [14] حاجی‌ خداوردی ‌خان، مہدی، سابق، ص 20۔
  • [15] «استراتژی دفاع متحرک عراق»، ص 141
  • [16] استراتژی دفاع متحرک عراق و سال‌های پایانی جنگ، ہمشہری آن لائن، 29 جون 2015، www.hamshahrionline.ir/news/299549

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا