چندہ لا سے جنگ تک
’’از چندہ لا تک جنگ‘‘ ایران عراق جنگ کے واقعات کی 138ویں اور دفتر ادبیات و ہنر مقاومت حوزہ ہنری کی 457ویں کتاب ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 2002ء میں 194 صفحات میں شائع ہوئی۔ اس کی جلد کاغذی اور سائز A5 تھا۔ اس کتاب کے 4400 نسخہ چھاپے گئے ہر نسخہ کی قیمت 11000 ریال مقرر کی گئی۔ اس کتاب کے لئے انٹرویو اور اس کی تدوین کی ذمہ داری گلستان جعرفیان نے نبھائی۔ حوزہ ہنری کے شعبہ سورہ مہر نے اس کتاب کو نشر کیا۔ کتاب کی جلد پر ایک سرسبز علاقہ میں گاؤں کے گھروں کی مبھم تصویر ہے جس کے آگے خار دار تاروں کی باڑ لگی ہے۔ کتاب کا عنوان سفید رنگ سے موٹے حروف میں جلد کے اوپری حصہ پر لکھا گیا ہے۔ اصل متن کے شروع ہونے سے قبل کے صفحات مندرجہ ذیل ترتیب سے ہیں:
1۔ عنوان کتاب کا صفحہ
2۔ کتاب کی تفصیلات کا صفحہ
3۔ 2002ء کی سردیوں کی جانب اشارہ۔
اس کتاب میں فہرست نہیں ہے اور تمام یادداشتیں ایک مسلسل متن کی صورت میں تدوین ہوئی ہیں۔
کتاب کا آغاز چندہ لا میں سبحانی صاحب کے بچپن سے ہوتا ہے۔ بچپنے کے کھیل کود، پڑھائی کی مشکلات اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ دھان کے کھیت میں کام کرنا وغیرہ ابتدائی واقعات ہیں۔ اس کے بعد انکی تہران کی جانب ہجرت، انقلاب اسلامی سے قبل کی سرگرمیوں میں شرکت، انقلاب کی کامیابی، تہران کے لقمان اسپتال میں رضاکارانہ خدمات کے کورسسز میں شرکت، کردستان اور شہر سنندج میں تعیناتی، زخمیوں کی دیکھ بھال، کوملہ کے ساتھ جھڑپ، سرحدی چھاونیوں پر عراقیوں کا حملہ، نجمیہ اسپتال پر سپاہ ایران کا تسلط، نجمیہ اسپتال میں زخمیوں کی دیکھ بھال، اندیمشک کے شہید کلانتری اسپتال میں تعیناتی اور و ہاں آپریشن والفجر1 کے زخمیوں کی دیکھ بھال اور معالجہ، ریڈیائی موجوں سے مضروب زخمیوں سے روبروئی، اہواز میں شہید بقائی اسپتال کا قیام، آپریشن خیبرکے زخمیوں کا مداوا، آقا رضوانی سے ازدواج اور پھر ان سے زہرا اور رسول کی ولادت کا تذکرہ اس کتاب میں درج ہے۔
کتاب کے اختتام پر اسناد اور تصاویر پر مشتمل چار صفحات کا اضافہ کیا گیا ہے۔
سبحانی اپنے بچپن کی شرارتوں کے بارےمیں کچھ یوں رقم طراز ہیں: ’’ سردیوں میں کچی مٹی پر بارش اور برف باری کے سبب آمد و رفت مشکل ہو جاتی تھی۔ ہم گروہ کی شکل میں مدرسہ جایا کرتے تھے اور میں اس گروہ کی سربراہ ہوتی تھی۔ ایک بہت ہی موٹا لڑکا تھا جس کا نام دوست علی تھا ۔ وہ راستہ چلتے میں بڑی مشکل سے خود کو سنبھال پاتا تھا۔ یہ دوست علی ہی تھا جو میرا اسکول کا سامان اسکول تک لاتا تھا۔ جب دوسری لڑکیاں دیکھتی تھیں کہ میں اپنا سامان دوست علی سپرد کر رہی ہوں تو وہ بھی اپنا سامان دوست علی کو دے دیا کرتی تھیں۔ پورا راستہ کیچڑ سے بھرا تھا۔۔۔ دوست علی نے کہا: میں اب تمہاری کتابیں نہیں اٹھا سکتا۔ ہر ایک اپنی کتابیں واپس لے لے ورنہ میں یہی کیچڑ میں ڈال دوں گا۔ میں نے کہا: چُپ چاپ کتابیں لے کر چلو۔۔۔ جس وقت ہم مدرسہ پہنچے میں نے کہا: لاؤ میری کتابیں دو۔ اس نے کہا: میں نے کتابیں وہیں کیچڑ میں ڈال د یں تھیں۔ میں واپس پلٹی تو دیکھا وہاں کتابیں نہیں تھیں واپس آئی اور اس کے بعد دوست علی کی خوب پٹائی لگائی۔[1]
سبحانی صاحبہ نے اس کتاب میں صرف اپنی رضاکارانہ خدمات ہی کو بیان نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی زنانہ پسند و ناپسند کا اظہار بھی اس کتاب میں کیا ہے: ’’ جنگی آپریشن کے بعد جب ہمیں کچھ فرصت نصیب ہوئی تو بعض نے کہا: بہن سبحانی! ہم بہت تھک گئے ہیں ۔۔ ہم شہر جاتے کپڑا ، اون اور دھاگے ۔۔۔ ریشمی دھاگے۔۔۔ جہاں جاتی ہر ایک کے ہاتھ میں ایک فریم دیکھتی۔ جو کوئی بھی کپڑا خرید لاتا میں اس کی کٹنگ کرتی تاکہ وہ ہاتھ سے کپڑے سئیے۔ مخصوص چادریں، خاص صابن وغیرہ خریدتے۔ یہاں اکثر خواتین نے اپنی جلد ، بالوں اور سر کی زنانہ حساسیت کو حتی کے اپنی خوش خوراکی کو بھی قائم رکھا ہوا تھا۔[2]
سبحانی اپنے واقعات کے ضمن میں بیان کرتی ہیں کام کی زیادتی ، جارحانہ رویہ کو جائز نہیں کرتی: ’’اس رات ہم پر کام کا کافی دباؤ تھا۔ ۔۔۔ اگر میں نے دیکھا کہ کوئی چیز کم ہے۔۔۔۔۔ میں واقعی غصہ سے بھر جاتی اور کبھی جارحانہ بھی ہوجاتی۔۔۔۔ ایک لڑکی نے کہا بہن سبحانی! ذرا نرسنگ روم میں آئیے۔ میں گئی۔ دیکھا میری کچھ ہمکار خواتین وہاں موجود ہیں۔ میں نے کہا: یہاں کیوں بیٹھی ہوئی ہو؟ اتنا کام پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیروزہ نے کہا: شمسی! ہم سب کو پتہ ہے تم کتنی تھکی ہوئی ہو۔ لاجسٹک کے ذمہ دار کا کام باقی لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔۔۔۔ لیکن اس وقت اس حساس اور بحران کے وقت، جب کہ سب ہی تھکے ہوئے ہیں ہمیں کسی پر چلانا نہیں چاہئے۔ اچھا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال کریں۔ فیروزہ کی بات ختم ہوئی تو میں نے اپنے حال پر اور اپنے رد عمل پر غور کیا۔ میں نے جان لیا کہ واقعی میں خواتین پر مسلسل چلا رہی تھی۔ ۔۔۔۔ اس کے بعد سے میری ہمیشہ کوشش رہی کہ خود پر قابو رکھوں۔۔۔[3]
’’از چندہ لا تا جنگ‘‘ سورہ مہر نے پانچ بار شائع کی ہے۔ دوسری اشاعت 2007ء، تیسری اشاعت 2009ء، چوتھی اشاعت 2011ء اور پانچویں اشاعت 2013ء میں ہوئی۔ اس کی جلد کا ڈیزائن اس کے دوسری اشاعتوں میں تبدیل کیا ہے۔ دوسری اشاعت میں خار دار تاروں کی تصویر ہے جن کے درمیان ایک گلاب کا پھول کھلا ہوا ہے۔چوتھی اشاعت میں اس کی جلد پر ایک چادر اوڑھے خاتون کی تصویر ہے جس کا چہرہ نہیں ہے یہ ڈیزائن محمود حسینی کا ہے۔ پانچویں اشاعت میں رضا زواری کا ڈیزائن جلد پر موجود ہے اور اس کے لئے شمسی سبحانی صاحبہ کی تصویر استعمال کی گئی ہے۔ کسی بھی اشاعت میں اس کتاب کا متن تغیر و تبدل کا شکار نہیں ہوا ہے۔
یہ کتاب کئی ایک محققین کی تحقیقات کے لئے موضوع بھی بنی ہے۔ جیسے: راضیہ نادر پور (2015) میں اپنے ایم فل کے تھیسز ’’دفاع مقدس میں خواتین کا کردار ’میں زندہ ہوں‘ اور ’چندہ لا سے جنگ تک‘ کے آئینے میں‘‘ اس کتاب کو تحقیقی مواد کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔[4] اسی طرح محترم عالی اپنی کتاب ’’دفاع مقدس کی داستانوں میں خواتین نرسوں کی شخصیت کا بیان، بالخصوص تین کتابوں: من زندہ ام، از چندہ لا تا جنگ اور کفش ہائی سرگردان کے حوالے سے۔‘‘[5]
موحدیان عطار، خوارسگانی اور معمار (2022) میں اپنے مقالہ ’’ایرانی خواتین کی شخصیت کی تحلیل، دفاع مقدس کی کتابوں میں درج واقعات کی قدروں کی اساس پر۔‘‘[6]
پرنٹ میڈیا کے بعض اداروں نے بھی سبحانی صاحبہ کے واقعات اور اس کتاب کے تعارف کو پیش کیا ہے۔ جیسے: نشریہ سبز سرخ نے سبحانی صاحبہ کا انٹرویو نشر کیا ہے۔[7] روزنامہ ایران نے ’’انعکاس حضور زنان در ادبیات دفاع مقدس ‘‘ میں ان کا ذکر کیا ہے۔[8]
مرجان قندی نے ’’جنگ کے زنانہ چہرہ کو ہم نے بھلا دیا ہے‘‘ کے عنوان سے اس کا ذکر کیا ہے۔[9]
اسی طرح روزنامہ رسالت نے کتابخانہ کے حصہ میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔[10]
اس کے کتابی نسخہ کے علاوہ اس کے الیکٹرونک[11] اور صوتی[12] نسخہ بھی ناشر کی جانب بنا کر احباب اورمخاطبوں کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں۔
منابع و ارجاعات:
- [1] گلستان، جعفریان، از چندہ لا تا جنگ، ص 10، سورہ مہر تہران 2002
- [2] ایضا ص 128 اور 129
- [3] ایضا 158 اور 159
- [4] نادر پور راضیہ، دفاع مقدس میں خواتین کا کردار، دو کتابوں یعنی من زندہ ام اور از چندہ لا تا جنگ کے حوالے سے، کارشناسی ارشد، زبان و ادبیات فارسی، لرستان یونیورسٹی، قاسم صحرائی، 2015
- [5] عالی، شہید، ’’دفاع مقدس کی داستانوں میں خواتین نرسوں کی شخصیت کا بیان، بالخصوص تین کتابوں: من زندہ ام، از چندہ لا تا جنگ اور کفش ہائی سرگردان کے حوالے سے۔تہران، روزگار، 2017
- [6] موحدیان عطار، خوارسگانی اور معمار (2022) میں اپنے مقالہ ’’ایرانی خواتین کی شخصیت کی تحلیل، دفاع مقدس کی کتابوں میں درج واقعات کی قدروں کی اساس پر۔‘‘، پژوہش نامہ اسلامی و زنانہ خانوادہ، دسواں سال(25)، ص 9 تا 29
- [7] سبز سرخ، شمارہ 80، ص 3، سال 2008
- [8] روزنامہ ایران شمارہ 6167، ص 18۔ تاریخ5 جنوری 2016
- [9] روزنامہ ایران، شمارہ 6611، س 14، تاریخ 7 اکتبوبر 2017
- [10] روزنامہ رسالت شمارہ 9827 ص 12، تاریخ: پہلی اگست 2020
- [11] https://www.faraketab.ir/book/1683
- [12] http://ketabrah.ir/go/b69529