سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 479
قرارداد نمبر 479، ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پہلی قرارداد ہے جو اکتوبر 1980 میں جاری کی گئی۔
23 ستمبر 1980 کو (ایران پر عراق کے حملے کے ایک دن بعد)، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کرٹ والڈہائیم نے ایران اور عراق کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے خطرے کے پیشِ نظر سلامتی کونسل سے اجلاس بلانے کی درخواست کی۔[1]
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین (امریکہ، سوویت یونین، چین، برطانیہ اور فرانس) اور 10 دیگر اراکین جن میں بنگلہ دیش، مشرقی جرمنی، جمیکا، میکسیکو، نائجر، ناروے، فلپائن، پرتگال، زیمبیا اور تیونس شامل تھے، نے ایران عراق جنگ کے بارے میں ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا۔[2] اجلاس کے اختتام پر سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بیان جاری کیا[3] اور ایران و عراق سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر قسم کی مسلح کارروائی اور ایسے عمل سے گریز کریں جس سے موجودہ خطرناک صورتحال میں مزید شدت پیدا ہو۔[4]
جنگ جاری رہنے کی وجہ سے، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے 25 ستمبر 1980 کو ایک خط کے ذریعے سلامتی کونسل کو تجویز دی کہ ایران عراق جنگ کو " فوری نوعیت" کا معاملہ تصور کیا جائے۔ 26 ستمبر 1980 کو میکسیکو اور ناروے کے نمائندوں نے بھی ایک مشترکہ خط کے ذریعے سلامتی کونسل کے صدر سے کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ اسی روز سلامتی کونسل کا اجلاس " ایران اور عراق کے درمیان صورتحال" کے عنوان کے تحت منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں عراق کے نمائندے نے حقِ رائے دہی (ووٹ) کے بغیر شرکت کی درخواست کی، لیکن ایران کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں تھی اور یہ اجلاس ایرانی نمائندے کی موجودگی کے بغیر منعقد ہوا۔[5]
اس اجلاس میں میکسیکو، ناروے اور عراق کے نمائندوں نے تقاریر کیں[6] اور بالآخر 26 ستمبر 1980 کی سہ پہر یہ ایک گھنٹہ طویل اجلاس ختم ہوا۔[7] اجلاس کی کارروائی 28 ستمبر 1980 کو تیونس کے نمائندے تائب سلیم کی صدارت میں دوبارہ شروع ہوئی[8] جس میں میکسیکو، امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین اور عراق کے نمائندوں نے خطاب کیا۔[9] علاوہ ازیں، جاپان کے نمائندے نے بھی (جو سلامتی کونسل کا رکن نہیں تھا) خلیج فارس کے تیل اور اس کی منڈی کی اپنے ملک کے لیے اہمیت کے پیشِ نظر، کونسل کی منظوری سے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔[10]
اجلاس کے آخری مقرر تیونس کے نمائندے (سلامتی کونسل کے صدر) تھے۔[11] آخر کار اس قرارداد کا مسودہ، جو میکسیکو کے نمائندے نے ناروے کے نمائندے کے تعاون سے تیار کیا تھا، قرارداد نمبر 479 کے عنوان سے سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔[12]
اس قرارداد میں درج ہے کہ:
" ایران اور عراق کے درمیان صورتحال" کے عنوان کے تحت اس موضوع کا جائزہ شروع کرتے ہوئے؛ اس بات کے پیشِ نظر کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کی بنیاد پر تمام رکن ریاستیں اپنے بین الاقوامی تنازعات کو پرامن طریقوں سے اس طرح حل کرنے کی پابند ہیں کہ بین الاقوامی امن، سلامتی اور انصاف خطرے میں نہ پڑے؛ نیز اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تمام رکن ریاستیں اس بات کی پابند ہیں کہ اپنے بین الاقوامی سیاسی تعلقات میں کسی دوسرے ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں؛ منشور کی دفعہ 24 کی یاددہانی کرواتے ہوئے جس کے مطابق سلامتی کونسل بین الاقوامی امن اور سلامتی کے تحفظ کی بنیادی ذمہ دار ہے؛ ایران اور عراق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے:
1- سلامتی کونسل ایران اور عراق سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ طاقت کے ہر قسم کے استعمال سے فوری طور پر گریز کریں اور اپنے تنازع کو پرامن طریقوں اور انصاف و بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق حل کریں۔
2- ان سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مصالحت، سمجھوتے یا علاقائی اداروں سے رجوع کرنے کی کسی بھی ایسی مناسب تجویز یا دیگر پرامن طریقوں کو اپنی پسند کے مطابق قبول کریں، جو اقوامِ متحدہ کے منشور کی بنیاد پر ان کے وعدوں پر عمل درآمد کو آسان بنائے۔
3- یہ سلامتی کونسل دیگر تمام ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کریں جو تنازع میں مزید اضافے اور وسعت کا باعث بن سکتی ہو۔
4- سلامتی کونسل، سیکرٹری جنرل کی کوششوں اور اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ان کی بہترین کوششوں اور تجاویز کی حمایت کرتی ہے۔
5- سیکرٹری جنرل سے درخواست کرتی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر سلامتی کونسل کو صورتحال کی رپورٹ پیش کریں۔[13]
قرارداد نمبر 479 میں عراق کی جارحیت اور ایرانی سرزمین پر قبضے کے مسئلے کو اٹھائے بغیر اور عراقی فوج کی بین الاقوامی سرحدوں پر واپسی کا مطالبہ کیے بغیر، محض ایران اور عراق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر طاقت کے مزید استعمال سے باز رہیں اور اپنے اختلافات کو پرامن طریقوں اور انصاف و بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق حل کریں؛ نیز مصالحت، سمجھوتے یا علاقائی تنظیموں سے رجوع کرنے کی کسی بھی ایسی تجویز کو قبول کریں جو منشور (کے اطلاق) میں سہولت پیدا کرے۔[14]
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے سرکاری اجلاس میں پہلی بار لفظ " جنگ" استعمال کیا اور اسے تین بار دہرایا۔ سلامتی کونسل کے لیے لفظ " جنگ" کا استعمال ذمہ داری پیدا کرتا ہے، لیکن سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل منشور کے ساتویں باب اور آرٹیکلز 39، 41 اور 42 کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی اجلاس کے ایجنڈے کے متن میں " جنگ" کا عنوان استعمال کرنا چاہتے تھے؛ اسی لیے انہوں نے ایران پر عراق کی جارحیت کو " ایران اور عراق کے درمیان صورتحال" کا نام دیا۔
حقیقت یہ تھی کہ سیکرٹری جنرل نے ناچار اپنی وضاحتوں میں لفظ " جنگ" استعمال کیا اور اپنی گفتگو کے اختتام پر سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری نہ صرف اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق، بلکہ عالمی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری کرے۔[15]
درحقیقت، سلامتی کونسل نے عراق کے حملے پر کسی سخت کارروائی کے بجائے اس کی فوجی جارحیت کو " ایران اور عراق کے درمیان صورتحال" قرار دیا اور قانونی لحاظ سے ایک غیر جانبدار (بے اثر) قرارداد جاری کی، جبکہ اس قرارداد میں لفظ " صورتحال" (جو جنگی حالات کی عکاسی نہیں کرتا) کے بجائے " جارحیت" یا " تنازع" جیسے الفاظ استعمال ہونے چاہیے تھے۔ حقیقت میں یہ قرارداد کسی بھی طرح ایران کے حق میں نہیں تھی۔ ایرانی صدر (ابوالحسن بنی صدر) نے 4 اکتوبر 1980 کو اس قرارداد کے جواب میں اعلان کیا کہ جب تک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عراق کی جارحیت جاری ہے اور عراقی افواج ایرانی سرزمین کے اندر جارحانہ اور تخریبی کارروائیاں کر رہی ہیں، تب تک سیکرٹری جنرل کی تجاویز اور سلامتی کونسل کی قرارداد ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔
دوسری جانب، عراق نے فوری طور پر سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کیا اور اس قرارداد سمیت جنگ بندی کو قبول کر لیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایرانی سرزمین کے وسیع حصے عراقی فوج کے قبضے میں تھے اور وہ ملک اس موقع کو سودے بازی کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔
سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 479 عملی طور پر عراق کی جارحیت روکنے اور مسلط کردہ جنگ کے تسلسل کو ختم کرنے میں کوئی بھی قدم اٹھانے میں ناکام رہی۔[16]
حوالہ جات
- [1]. پور داراب، سعید، تقویمِ تاریخِ دفاعِ مقدس، جلد 2 - " توپوں کی گرج" (غرشِ توپ ها)، تہران، مرکزِ اسنادِ انقلابِ اسلامی، 2005، صفحہ 64
- [2]. پارسا دوست، منوچہر، ایران عراق جنگ میں اقوامِ متحدہ کا کردار، تہران، شرکتِ سہامیِ انتشار، 1992، صفحات 22 اور 34
- [3]. ایضاً، صفحہ 21۔
- [4]. ایضاً، صفحہ 22۔
- [5]. ایضاً، صفحہ 37۔
- [6]. ایضاً، صفحات 40، 41 اور 42۔
- [7]. ایضاً، صفحہ 43۔
- [8]. ایضاً، صفحہ 45۔
- [9]. ایضاً، صفحات 56، 57، 63، 64 اور 66۔
- [10]. ایضاً، صفحہ 68
- [11]. ایضاً، صفحہ 68
- [12]. علائی، حسین، روندِ جنگِ ایران و عراق، جلد 1، تہران، مرز و بوم، 2012، صفحات 271 اور 272
- [13]. خرمی، محمد علی، جنگ ایران و عراق در اسناد سازمان ملل، جلد 1، تہران، مرکزِ اسناد و تحقیقاتِ دفاعِ مقدس (سپاہ پاسداران)، 2008، صفحہ 55۔
- [14]. علائی، حسین، ایضاً، صفحہ 272
- [15]. پارسا دوست، منوچہر، ایضاً، صفحات 39 اور 40۔
- [16]. علائی، حسین، ایضاً، صفحہ 273