اگزوسٹ میزائیل

اگزوسٹ میزائل فرانس کے اہم ترین میزائلوں میں سے ایک ہے۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آٹھ سالوں (1980-1988) کے دوران عراقی فوج نے اسے خلیج فارس میں ایرانی فوجی اور شہری بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔

اگزوسٹ میزائل کا مطلب "اڑنے والی مچھلی" ہے۔ اس کی لمبائی 4.7 میٹر اور قطر 350 ملی میٹر ہے۔ اس کا وزن 670 کلوگرام ہے اور یہ 165 کلوگرام وزنی جنگی وارہیڈ سے لیس ہے۔ اس میزائل کی اوسط رینج 70 کلومیٹر ہے جبکہ اس کے نئے ماڈلز کی رینج 180 کلومیٹر تک ہے۔ یہ میزائل فعال ریڈاری نظام کے ذریعے اپنے ہدف کو تلاش کرتا ہے۔ یہ فضا سے فضا میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پانی کی سطح سے محض 2 میٹر کی بلندی پر حرکت کر سکتا ہے۔ اسے چھوٹی اور درمیانی جنگی کشتیوں اور بحری بیڑوں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔⁠[1] بڑے جنگی بحری جہازوں مثلاً طیارہ بردار جہازوں کو اس میزائل سے بہت کم خطرہ لاحق ہوتا ہے۔⁠[2]

عراق نے ایران کے خلاف جنگ میں شروع میں خور موسیٰ اور بندر امام کے راستے میں بحری جہازوں پر اگزوسٹ میزائل داغنے کے لیے سپر فریلون ہیلی کاپٹروں کا سہارا لیا۔ چونکہ یہ ہیلی کاپٹر دوست اور دشمن کی شناخت کرنے والے نظام سے لیس نہیں تھے⁠[3]، اس لیے کبھی کبھار عراق کے لیے سامان لے جانے والے تجارتی جہاز بھی ان کا نشانہ بن جاتے تھے۔⁠[4] خلیج فارس کے شمالی حصوں میں موجود تیل کے کنوؤں اور تنصیبات پر حملے بھی انہی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیے گئے۔⁠[5]

2 اکتوبر 1982 کو جزیرہ خارک کے قریب ایران کا بحری بیڑا 'کہنموئی' اگزوسٹ میزائل کا نشانہ بن کر تباہ ہو گیا۔⁠[6] خلیج فارس کے شمال میں تیل کی تنصیبات اور خارک جیسے جزیروں پر حملے بھی ان ہیلی کاپٹروں کی کارروائیوں کا حصہ تھے۔⁠[7]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران عراقی فوج نے اگزوسٹ میزائلوں کو ایرانی تیل بردار جہازوں کے خلاف بھی استعمال کیا۔ ان ہیلی کاپٹروں کی مدد سے خلیج فارس کے شمالی حصے میں ایران کے 20 تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔⁠[8]

عراقی فضائیہ نے جنگ کے اگلے مراحل میں سپر اٹینڈارڈ طیاروں کے ذریعے اگزوسٹ میزائلوں کا استعمال کیا۔ 27 مارچ 1984 کو پہلے آپریشن⁠[9] کے دوران اس طیارے نے اگزوسٹ میزائل سے یونان کے تیل بردار جہاز 'فیلیکون' پر حملہ کر دیا۔ اس جہاز پر کویت کا 80 ہزار ٹن تیل موجود تھا اور یہ جزیرہ خارک کے جنوب میں غلطی سے نشانہ بن گیا جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا۔⁠[10]

جمعہ 21 دسمبر 1984 کو سپر اٹینڈارڈ طیارے نے لائبیریا کے پرچم تلے چلنے والے تیل بردار جہاز 'ماگنولیا' کو اگزوسٹ میزائلوں سے نشانہ بنا کر غرق کر دیا۔ یہ جہاز ایرانی تیل لے جا رہا تھا⁠[11] اور اسے جزیرہ خارک سے 31 میل جنوب میں نشانہ بنایا گیا۔⁠[12]

1985 سے عراق کے میراج جنگی طیاروں میں بھی اگزوسٹ میزائلوں کا استعمال شروع ہوا⁠[13] ان طیاروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دسمبر 1986 میں جزیرہ لارک پر حملہ کیا گیا۔ یہ جزیرہ عراق کی سرحد سے 1150 کلومیٹر دور واقع ہے جہاں تیل کی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔⁠[14]

ایران اور عراق کی جنگ میں اگزوسٹ میزائل سے وابستہ ایک واقعہ 'اسٹارک' بحری بیڑے سے متعلق ہے۔ 17 مئی 1987 کو میراج طیارے کے کیبن سے لیس ایک فالکن جیٹ طیارے نے دو اگزوسٹ میزائل داغے۔ اس نے بحرین کے شمال مشرقی پانیوں میں امریکی بحری بیڑے 'اسٹارک' کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 37 ملاح ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔⁠[15] یہ فالکن جیٹ اصل میں ایک ایرانی طیارہ تھا جس کا پائلٹ ایران سے فرار اختیار کر اسے عراق لے گیا تھا۔ عراق نے اس طیارے کی مرمت کی تھی تاکہ یہ دو اگزوسٹ میزائل لے جانے کے قابل ہو سکے۔⁠[16]

جنگ کے دوران جزیرہ خارک کے دفاع کے لیے ایران نے اگزوسٹ میزائلوں کے رہنمائی کے نظام کو ناکام بنانے کے لیے 'رفلیکٹرز' (میزائل کا رخ موڑنے والے آلات) کا استعمال شروع کیا۔⁠[17] ایران چھوٹی کشتیوں پر رفلیکٹر نصب کر کے اگزوسٹ میزائلوں کو گمراہ کرنے والے سگنل بھیجتا تھا۔⁠[18] مزید برآں تیل بردار اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کے آپریشنز کے دوران بحریہ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایلومینیم کی پٹیوں۔۔ (چف) کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا تھا جو اگزوسٹ میزائلوں کو راستے سے بھٹکانے میں مددگار ثابت ہوتا تھا۔⁠[19]

 مجموعی طور پر عراق نے 1980 سے 1987 تک فرانس سے 734 عدد اگزوسٹ میزائل خریدے۔⁠[20] ان میزائلوں کو بحری جہازوں پر 257 حملوں میں استعمال کیا گیا۔⁠[21]

 

[1]. منتظری، مهدی، «موشک‌های ضدکشتی مدرن»، ماهنامه صف، ش 40، 1983، ص 19۔

 [2]. کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، مترجم حسین یکتا، نشر مرزوبوم، 2011، ص 589۔

[3]. شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها: نگاهی به تاریخ هوادریا و حماسه اسکادران‌های هواناو، بالگرد و بال ثابت در جنگ تحمیلی، تہران، دفتر پژوهش‌های نظری و مطالعات راهبردی نداجا، 2021، ص 261۔

[4]. سابق، ص 262۔

[5]. سابق۔

[6]. عبدالرحمن برزگر، کهنمویی: خاطرات ناخدایکم شریف فرزادی‌نیا، تہران، انتشارات دفتر پژوهش نیروی دریایی، 2012، ص 36 تا 39۔

[7]. شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها: نگاهی به تاریخ هوادریا و حماسه اسکادران‌های هواناو، بالگرد و بال ثابت در جنگ تحمیلی، ص 230۔

[8]. سابق، ص 232۔

[9]. ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ترجمہ پژمان پورجباری و رحمت قره، تہران، بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس، 2013، ص 149۔

مقدس، 2013، ص 149۔

[10]. کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق: ج 2، ص 502۔

[11]. ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ص 167؛ کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 507۔

[12]. زرگر، عقیل، «سراب، داستان میراژهای عراقی: بخش دوم»، نشریه صنایع هوایی، اگست اور ستمبر 2009، ش 219، ص 5۔

[13]. کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 403۔

[14]. زرگر، عقیل، سابق، ص 7۔

[15]. خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، انتشارات ایران سبز، تہران، 2019، ص 319 اور 320۔

[16]. ام.وودز، کوین و دیگران، جنگ ایران و عراق از دیدگاه فرماندهان صدام، ترجمہ عبدالحمید حیدری، تہران، نشر مرزوبوم، 2014، ص 360۔

[17]. سابق، ص 349۔

[18]. سابق، ص 350۔

[19]. شیرمحمد، محسن، «اسکادران ضد سطحی بالگرد AB-212 هوادریا در دفاع مقدس، بخش دوم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 319، جون اور جولائی 2019، ص 7۔

[20]. ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ص 169۔

[21]. سابق، ص 15۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] منتظری، مهدی، «موشک‌های ضدکشتی مدرن»، ماهنامه صف، ش 40، 1983، ص 19۔
  • [2] کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، مترجم حسین یکتا، نشر مرزوبوم، 2011، ص 589۔
  • [3] شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها: نگاهی به تاریخ هوادریا و حماسه اسکادران‌های هواناو، بالگرد و بال ثابت در جنگ تحمیلی، تہران، دفتر پژوهش‌های نظری و مطالعات راهبردی نداجا، 2021، ص 261۔
  • [4] سابق، ص 262۔
  • [5] سابق۔
  • [6] عبدالرحمن برزگر، کهنمویی: خاطرات ناخدایکم شریف فرزادی‌نیا، تہران، انتشارات دفتر پژوهش نیروی دریایی، 2012، ص 36 تا 39۔
  • [7] شیرمحمد، محسن، بر فراز دریاها: نگاهی به تاریخ هوادریا و حماسه اسکادران‌های هواناو، بالگرد و بال ثابت در جنگ تحمیلی، ص 230۔
  • [8] سابق، ص 232۔
  • [9] ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ترجمہ پژمان پورجباری و رحمت قره، تہران، بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس، 2013، ص 149۔
  • [10] کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق: ج 2، ص 502۔
  • [11] ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ص 167؛ کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 507۔
  • [12] زرگر، عقیل، «سراب، داستان میراژهای عراقی: بخش دوم»، نشریه صنایع هوایی، اگست اور ستمبر 2009، ش 219، ص5۔
  • [13] کوردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، ج 2، ص 403۔
  • [14] زرگر، عقیل، سابق، ص 7۔
  • [15] خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، انتشارات ایران سبز، تہران، 2019، ص 319 اور 320۔
  • [16] ام.وودز، کوین و دیگران، جنگ ایران و عراق از دیدگاه فرماندهان صدام، ترجمہ عبدالحمید حیدری، تہران، نشر مرزوبوم، 2014، ص 360۔
  • [17] سابق، ص 349۔
  • [18] سابق، ص 350۔
  • [19] شیرمحمد، محسن، «اسکادران ضد سطحی بالگرد AB-212 هوادریا در دفاع مقدس، بخش دوم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 319، جون اور جولائی 2019، ص 7۔
  • [20] ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ص 169
  • [21] سابق، ص 15۔

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا