اردن
اردن مغربی ایشیا کا ایک عرب ملک ہے۔ اس ملک نے عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں عراق کی بھرپور حمایت کی اور عراق کو مختلف ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے "ٹرانزٹ وے" بن گیا۔
اردن مغربی ایشیا میں واقع ہے۔ یہ شمال میں شام، شمال مشرق میں عراق، مشرق اور جنوب میں سعودی عرب اور مغرب میں فلسطین کا ہمسایہ ہے۔ خلیج عقبہ اردن کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس ملک کی آبی سرحد تقریباً 26 کلومیٹر ہے اور اس کا دارالحکومت عمان ہے۔ اردن کا رقبہ تقریباً 89,350 مربع کلومیٹر ہے جس کا زیادہ تر حصہ خشک اور بنجر صحراؤں پر مشتمل ہے۔[1] پہلی عالمی جنگ اور سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد، اردن برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ ملک 1946 میں آزاد ہوا اور یہاں کا نظامِ حکومت بادشاہت ہے۔[2]
ایران اور اردن کے رسمی تعلقات کا آغاز عثمانی سلاطین کے دور سے ہوتا ہے۔ ایران کی شام میں کونسل خانہ نمائندگی تھی۔ اردن کی آزادی کے بعد ایران نے اس ملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ 28 جولائی 1949 کو اردن کے اس وقت کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے ایران کا سفر کیا۔ 16 نومبر 1949 کو تہران میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا معاہدہ طے پایا۔ اس وقت سے لے کر ایران میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی تک دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات قائم رہے۔[3]
ایران میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد، اردن کی حکومت نے جمہوری اسلامی ایران کو تسلیم کیا۔ شاہ حسین نے مارچ 1979 میں ایک پیغام کے ذریعے امام خمینی کو انقلابِ اسلامی کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر (فروری 1980)، اردن کے وزیرِ اوقاف اور مقدس مقامات کی سربراہی میں اس ملک کی ممتاز علمی شخصیات کا دس رکنی وفد ایران آیا۔ اگرچہ اردن کی حکومت نے بظاہر انقلابِ اسلامی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا، لیکن عملی طور پر وہ اس کے ممکنہ پھیلاؤ سے پریشان تھی۔[4]
22 ستمبر 1980 کو ایران پر عراق کی جارحیت کے اگلے ہی دن، 23 ستمبر 1980 کو شاہ حسین وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے ردعمل ظاہر کیا اور کھلم کھلا صدام کی حمایت کی۔[5]
عراق کے ساتھ قربت، مشترکہ شاہراہوں اور عقبہ کی تزویراتی؟ بندرگاہ کی موجودگی کی وجہ سے اردن، عراق کو فوجی ساز و سامان بھیجنے کے لیے بہترین جگہ تھی۔ ایک طرف دریائے اروند سے بحری جہازوں کی آمد و رفت منقطع ہو چکی تھی اور عراق کی بصرہ بندرگاہ بند تھی، تو دوسری طرف اس ملک کو ہر طرح کے فوجی سامان کی شدید ضرورت تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر بہت سا عسکری ساز و سامان اور اسلحہ عقبہ بندرگاہ کے ذریعے عراق پہنچایا گیا۔[6] البتہ اس لین دین نے اردن کے لیے غیر معمولی معاشی فوائد بھی حاصل کیے؛ عقبہ ایک رونق والا شہر اور اس ملک کا تجارتی مرکز بن گیا۔ اردن کے سڑکوں کے نیٹ ورک نے بھی نمایاں ترقی کی جس سے نقل و حمل کی متعدد کمپنیوں کو فروغ ملا۔[7]
اردن کے شاہ حسین نے عراقی طیاروں کو اپنی سرحد کے قریب واقع ایچ-5 چھاؤنی[8] سے دوبارہ ایندھن بھرنے کی اجازت دی۔ عراقی جنگی طیارے اردن کی فضائی حدود میں اس ملک کے ایف-5 طیاروں کے ساتھ جنگی مشقیں کرتے تھے، کیونکہ یہ طیارے ایرانی فوج کے زیرِ استعمال طیاروں سے مشابہت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ عراق کو "ہاک" فضائی دفاعی میزائلوں کے معائنے کی اجازت دی گئی جو ایران کے زیرِ استعمال میزائلوں جیسے تھے۔ جب عراق نے فرانس سے میراج ایف-1 طیاروں کی پہلی کھیپ حاصل کی تو اردن نے بھی اپنے میراج ایف-1 بیڑے کا ایک حصہ عراق کے سپرد کر دیا۔ ان میں سے 10 طیاروں نے عراقی علامات کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور اردن کے 15 پائلٹوں نے بھی جنگ کے دوران عراقی میراج طیارے اڑائے۔[9]
نومبر 1980 میں شام کے صدر حافظ اسد نے اردن پر الزام لگایا کہ وہ شامی حکومت گرانے کے لیے بنیاد پرست گروہ اخوان المسلمین کی حمایت کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج سرحدوں پر آمنے سامنے آ گئیں. مشترک سرحد پر دونوں ممالک کی عسکری صف آرائی نے تعلقات کی کشیدگی کو مسلح تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایران کے شام کے ساتھ دوستانہ تعلقات، اردن اور شام کے تعلقات میں بگاڑ اور عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں اردن کا عراق کی طرف جھکاؤ وہ عوامل تھے[10] جن کی بنا پر مارچ 1981 میں ایران اور اردن کے تعلقات منقطع ہو گئے۔[11]
نومبر 1981 میں آپریشن طریق القدس کی کامیابی اور ایرانی سرزمین سے عراقیوں کے انخلاء کے بعد، اردن کے بادشاہ شاہ حسین نے ایک اعلامیے کے ذریعے اپنے ملک کے عوام سے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے نام لکھوائیں۔[12] "یرموک بریگیڈ" کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی گئی تاکہ ایران کے خلاف عراقی جنگی علاقوں میں اردنی شہریوں کی روانگی کی نگرانی کی جا سکے اور اس کے بعد اردن کے فوجی دستے عراق روانہ ہوئے۔[13] اردنی افواج کا پہلا گروہ 2 مارچ1982 کو ایران کے خلاف جنگی محاذوں پر بھیجا گیا۔[14] ان میں سے 6 فوجی ایران کے قبضے میں آئے اور جنگ کے خاتمے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔[15] شاہ حسین نے ایک بار جنگ میں شرکت کے طور پر صدام حسین کے ہمراہ شمالی محاذ پر 130 ملی میٹر کی توپ سے ایران کی طرف گولہ بھی فائر کیا۔[16]
اردن تبادلے کے لیے محفوظ مقام فراہم کرنے اور انٹیلیجنس تعاون کے ذریعے بھی عراق کی مدد کرتا تھا۔ آٹھ سالہ جنگ کے دوران عراق اور اردن کے قریبی تعلقات کی وجہ سے، عراق اردن کے ذریعے ان حساس فوجی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو سی آئی اے جیسے مغربی اطلاعاتی اداروں کی طرف سے خطے اور ایران کے بارے میں جمع کی جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر سی آئی اے کے اس وقت کے سربراہ ولیم کیس نے 1982 میں اردن کے دورے کے دوران عراقی انٹیلیجنس کے سربراہ برزان سے ملاقات کی۔[17] عرب ممالک کے اطلاعاتی اداروں کی کمزوری اور عراق کے ان پر عدم اعتماد کے پیشِ نظر، اردن کا اطلاعاتی ادارہ اپنے اچھے تعلقات کی وجہ سے عراق کا اہم ترین پارٹنر تھا۔[18]
اردن ایک غریب ملک تھا اور شاہ حسین مالی طور پر عراق کی زیادہ مدد نہیں کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے کسی بھی قسم کی سفارتی حمایت سے دریغ نہیں کیا۔ چونکہ امریکہ کے عراق کے ساتھ براہ راست تعلقات نہیں تھے، اس لیے شاہ حسین امریکہ اور عراق کے درمیان تعلقات کا ذریعہ تھے۔[19]
بین الاقوامی سطح پر بھی اردن نے مختلف عالمی فورمز پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے عراق کا امن پسند چہرہ پیش کرنے اور ایران کو عالمی امن و استحکام کے لیے خطرے کے طور پر متعارف کروانے کی کوشش کی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دورانی صدر کے طور پر اردن کے کردار کی واضح مثالیں قرارداد نمبر 514، 522 اور 540 کی منظوری اور ایران پر قرارداد نمبر 598 کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔[20]
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی، اردن نے ایران کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار کر لیے۔ فروری 1999 میں شاہ حسین کے انتقال کے بعد ایران کے ساتھ اردن کے تعلقات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد کے برسوں میں عمان اور تہران کے تعلقات دو متضاد رویوں کا نتیجہ رہے ہیں۔ پہلا، اردنی حکام کی تہران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے میں دلچسپی اور دوسرا، امریکہ کا اس بات پر اصرار کہ یہ ملک جمہوری اسلامی ایران سے فاصلہ برقرار رکھے۔ اردنی حکام نے ہمیشہ ان دونوں رویوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔[21]
منابع و ارجاعات:
- [1] شیرمحمد، محسن، «سربازی در کشور اردن»، ماہنامہ سرباز، شمارہ 294، جنوری 2022، ص 42۔
- [2] سابق، ص 42۔
- [3] «ارزیابی مناسبات ایران و اردن»، موسسہ مطالعات و پژوهشهای سیاسی، 25 جون 2021، www.psri.ir۔
- [4] سابق
- [5] رازو، پیر، جنگ ایران و عراق، ترجمہ: عبدالحمید حیدری اور علی احمدی، تہران، مرز و بوم، 2018، ص 204۔
- [6] کوشکی، محمدصادق اور سید مرتضی عریضی میبدی، «بررسی سازوکار اقدامات نظامی، اطلاعاتی و سیاسی دولت اردن در پشتیبانی از رژیم صدام طی جنگ هشتساله علیه ایران»، فصلنامہ علمی مطالعات دفاع مقدس، شمارہ 22، موسمِ گرما 2020، ص 84۔
- [7] رازو، پیر، سابق، ص 205۔
- [8] سابق، ص 204۔
- [9] سابق، ص 205۔
- [10] محمدپور، محمد، «مواضع و حمایتهای سیاسی اردن از عراق در جنگ تحمیلی»، دو فصلنامہ مطالعات انقلاب اسلامی و دفاع مقدس، شمارہ 2، خزاں اور سرما 2017، ص 122۔
- [11] لطفاللہزادگان، علیرضا، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب بیسواں: عبور از مرز، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاہ پاسداران، 2002، ص 297۔
- [12] علائی، حسین، روند جنگ ایران و عراق، ج 1، تہران، مرز و بوم، 2012، ص 400۔
- [13] کوشکی، محمدصادق اور سید مرتضی عریضی میبدی، سابق، ص 86۔
- [14] «کدام کشور عربی اولین حامی عراق در جنگ با ایران بود»، نیوز ایجنسی تسنیم، 6 جولائی 2014، www.tasnimnews.com/fa/news/1393/04/15/423246
- [15] آقایی جیرندہ، عباس اور فاطمہ رستمی، پا بہ پای آزادگان، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 2007، ص 105 اور 106۔
- [16] «ملک حسین شاہ اردن با توپ 130 بہ سوی ایران شلیک کرد»، نیوز ایجنسی فارس، 26 ستمبر 2008، www.farsnews.ir/news/8707050769
- [17] کوشکی، محمدصادق اور سید مرتضی عریضی میبدی، سابق، ص 82۔
- [18] سابق، ص 83۔
- [19] رازو، پیر، سابق، ص 204۔
- [20] محمدپور، محمد، سابق، ص 144
- [21] «ارزیابی مناسبات ایران و اردن»، مؤسسہ مطالعات و پژوهشهای سیاسی، 25 جون 2021، www.psri.ir