سپر ایٹنڈرڈ طیارہ

سپر ایٹنڈرڈ جنگی طیارہ فرانسیسی ساخت ہے اور عراقی فوج نے  ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اسے ایرانی بحری یونٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔

سپر ایٹنڈرڈ طیارہ 1974 میں فرانس میں بنایا گیا۔ یہ ایک نشست والا شکاری و لڑاکا طیارہ ہے جو کم اور درمیانی بلندی پر آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جنگی طیارہ بحری یونٹوں پر حملے کے نظام سے لیس ہے اور فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس طیارے کے دونوں پر 9.6 میٹر چوڑے ہیں۔ اس کی باڈی کی لمبائی 14.30 میٹر اور بلندی 3.86 میٹر ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ 2100 کلوگرام وزنی اسلحہ لے جا سکتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 1230 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور پرواز کی آخری حد 13700 میٹر ہے۔⁠[1]

اس طیارے میں سی ایس ایف اگاوے راڈار نصب ہے جس کی رینج 120 میل ہے۔ یہ 100 میل کے فاصلے سے ہدف پر لاک کر سکتا ہے۔ ہدف سے 8 میل کے فاصلے تک میزائل کی رہنمائی کے لیے یہ مسلسل اپنی معلومات ایگزوسیٹ میزائل کی میموری کو منتقل کرتا رہتا ہے۔ سپر ایٹنڈرڈ الیکٹرانک وارفیئر کے آلات سے لیس ہے۔ یہ ایک ایگزوسیٹ میزائل کے ساتھ 400 کلوگرام کے 4 بم بھی لے جا سکتا ہے۔⁠[2] یہ طیارہ 2 عدد 30 ملی میٹر کی مشین گنوں سے بھی لیس ہے⁠[3]   اور فضا میں ایندھن لینے اور دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے بھی لیس ہے۔⁠[4]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں عراق نے فرانس سے 10 عدد سپر ایٹنڈرڈ طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم صرف 5 عدد طیارے لیز پر لینے کی منظوری ملی۔⁠[5] اس مقصد کے لیے عراق کے 10 پائلٹوں نے فرانس میں تین ماہ تک ان طیاروں کے پرواز کے تربیتی کورس مکمل کیے۔ نیز ان طیاروں کی مرمت اور تیاری کے لیے 15 غیر ملکی ٹیکنیشن (7 فرانسیسی اور 8 بیلجیئم کے باشندے) عراق میں تعینات کیے گئے۔⁠[6]   یہ طیارے اکتوبر 1983 میں عراق کے حوالے کیے گئے۔ ان جنگی طیاروں کو آپریشنل کرنے میں 4 ماہ کا عرصہ لگا۔⁠[7]

  عراقی فضائیہ نے سپر ایٹنڈرڈ کے پہلے آپریشن میں یونان کے تیل بردار جہاز فیلیکون کو غلطی سے نشانہ بنایا۔ اس جہاز پر کویت کا 80 ہزار ٹن تیل لدا ہوا تھا۔ یہ واقعہ جزیرہ خارک کے جنوب میں پیش آیا۔⁠[8] 3 دسمبر 1984 کو میراژ ایف ون طیاروں کے ساتھ ایک مشترکہ آپریشن میں قبرص کے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر ایران کا برآمدی تیل لدا ہوا تھا۔ یہ واقعہ بوشہر کے جنوب مغرب میں 40 میل کے فاصلے پر پیش آیا۔⁠[9]

ایرانی جنگی طیاروں سے بچنے کے لیے سپر ایٹنڈرڈ طیاروں کو عموماً دو دو کی صورت میں پرواز کرنی پڑتی تھی۔⁠[10] سپر ایٹنڈرڈ طیاروں پر نصب جنگی راڈار پائلٹ کو اہداف کی مکمل شناخت اور پہچان کی اجازت نہیں دیتے۔ اس وجہ سے عراق نے اپنے کچھ میزائل غلطی سے ثانوی اہداف کو مارنے میں ضائع کر دیے۔⁠[11]

21 دسمبر 1984 کو اس جنگی طیارے نے اپنے آخری آپریشن میں لائبیریا کے جھنڈے والے تیل بردار جہاز میگنولیا کو نشانہ بنایا اور اسے غرق کر دیا۔ اس جہاز پر ایران کا برآمدی تیل لدا ہوا تھا۔ یہ واقعہ خارک کے جنوب میں 31 میل کے فاصلے پر پیش آیا۔⁠[12]

آخر کار اگست اور ستمبر 1984 میں 4 عدد سپر ایٹنڈرڈ طیارے فرانس کو واپس کر دیے گئے۔⁠[13]   اس قسم کا ایک طیارہ پائلٹ کی بینائی کی کمی کی وجہ سے پانی میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں پائلٹ ہلاک ہو گیا۔⁠[14]   اس کے بعد صدام کی فوج میں میراژ ایف ون طیاروں نے ان کی جگہ لے لی۔⁠[15]

 

  آنتونی کوردزمن اور آبراہام واگنر، درس‌ های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، جلد 2، مترجم حسین یکتا، تہران، نشر مرزوبوم، پہلا ایڈیشن، 2011 میلادی، ص 502


حوالہ جات

  • [1]. شروین، کوروش، «سوپراتاندارد سلاحی جری و تلاش مذبوحانه دیگر»، ماہنامہ صف، شمارہ 48، نومبر تا دسمبر 1983 میلادی، ص 49۔
  • [2]. لطف‌ اللہ‌ زادگان، علی‌ رضا اور ایرج ہمتی، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب 28، نخستین عملیات بزرگ در شمال‌ غرب: والفجر-4، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، 2017 میلادی، ص 338 اور 339
  • [3]. سابق، ص 339۔
  • [4]. سابق
  • [5]. سابق
  • [6]. سابق، ص 338
  • [7]. زرگر، عقیل، «سراب، داستان میراژهای عراقی: بخش دوم»، ماہنامہ صنایع ہوایی، شمارہ 220، ستمبر تا اکتوبر 2009 میلادی، ص 5
  • [8]. آنتونی کوردزمن اور آبراہام واگنر، درس‌ های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، جلد 2، مترجم حسین یکتا، تہران، نشر مرزوبوم، پہلا ایڈیشن، 2011 میلادی، ص 502
  • [9]. زرگر، عقیل، سابق، ص 5۔
  • [10]. ناویاس، مارٹین ایس اور ای آر ہوٹن، جنگ نفت‌ کش‌ ها، ترجمہ پژمان پورجباری اور رحمت قره، تہران، بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش‌ های دفاع مقدس، 2013 میلادی، ص 169
  • [11]. آنتونی کوردزمن اور آبراہام واگنر، سابق، ص 509
  • [12]. زرگر، عقیل، سابق، ص 5۔
  • [13]. ناویاس، مارٹین ایس اور ای آر ہوٹن، سابق، ص 208
  • [14]. ام وودز، کوین اور دیگران، جنگ ایران و عراق از دیدگاه فرماندهان صدام، ترجمہ عبدالمجید حیدری، تہران، نشر مرزوبوم، 2014 میلادی، ص 351۔
  • [15]. آنتونی کوردزمن اور آبراہام واگنر، سابق، ص 403

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع