مارِد

صوبہ خوزستان میں دریائے کارون کے کنارے واقع گاؤں مارد، مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام میں عراقی فوج کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ پھر ایک سال بعد آپریشن ثامن الائمہ کے ذریعے اسے آزاد کروا لیا گیا۔ مارد خرم شہر کے مضافات میں آبادان کے شمال میں 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ آبادان-اہواز روڈ کے مغربی کنارے پر موجود ہے۔⁠[1]

عراقی فوج نے جنگ کے آغاز میں دریائے اروند عبور کرنے میں ناکامی اور خرم شہر میں پیش قدمی کی دشواری کے باعث آبادان پر قبضے کا نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت انہوں نے مارد کے علاقے سے دریائے کارون عبور کر کے دریائے بہمن شیر کی طرف بڑھنا تھا۔⁠[2]

11 اکتوبر 1980 کو فجر کے نزدیک رات کی تاریکی میں⁠[3] عراقی فوج کی چھٹی آرمرڈ بریگیڈ نے دریائے کارون سے لے کر اہواز-خرم شہر روڈ تک دو کلومیٹر چوڑا پل (سرپل) قائم کر لیا جو پی ایم پی قسم کا ایک تیرتا ہوا پل تھا۔⁠[4] جب دشمن کارون عبور کر رہا تھا، تو اس وقت ایرانی محاذ پر افرادی قوت کی کمی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایران کا کوئی فوجی دستہ وہاں مقابلے کے لیے موجود نہیں تھا۔⁠[5] البتہ دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے کچھ ایرانی دستے مارد گاؤں بھیجے گئے، لیکن علاقہ ہموار ہونے اور مناسب ساز و سامان نہ ہونے کی وجہ سے عراقی فوج کو روکنا ممکن نہ ہو سکا۔⁠[6]

دشمن نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے اہواز-آبادان روڈ پر قبضہ کر لیا اور ان 900 شہریوں کا راستہ روک دیا جو آبادان سے اہواز جا رہے تھے۔ عراقیوں نے مردوں کو قیدی بنا لیا، جبکہ خواتین اور بچوں کو صحرا میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جو مجبوراً آبادان کی طرف لوٹ گئے۔⁠[7]

دشمن نے کارون کے مشرقی علاقے میں اپنی پوزیشنیں مضبوط کیں اور تین دن بعد 14 اکتوبر 1980 کی رات مارد گاؤں پر قبضہ کر لیا۔ اگلی صبح انہوں نے ماہشہر-آبادان روڈ کی طرف پیش قدمی کی اور اس پر قابض ہو کر آبادان کے جزیرے کا مکمل زمینی محاصرہ کر لیا۔⁠[8]   عراقی فوج نے مارد گاؤں میں کئی عرب ہم وطنوں کو شہید کر دیا اور بہت سے لوگوں کو قیدی بنا کر ساتھ لے گئے۔⁠[9]

اگرچہ عراق کا اصل مقصد دریائے کارون عبور کر کے آبادان تک پہنچنا تھا، لیکن اپنے پلوں کی حفاظت کے لیے اس سرپل کو شمالی جانب پھیلانا بھی ضروری تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی نفری کو آبادان کے شمال میں واقع گاؤں سلمانیہ کے چند سو میٹر تک پھیلا دیا۔⁠[10]  اس طرح عراق نے کارون کے مشرقی حصے میں ایک اہم سرپل حاصل کر لیا اور اس کی توسیع سے آبادان تک رسائی کی راہ ہموار کر لی۔⁠[11]

10 دسمبر 1980 کو دشمن نے مارد کے مقام پر پہلے پل کے شمال میں ایک اور پل نصب کیا۔ یہ علاقہ جنگلاتی تھا اور وہاں حدِ نگاہ بہت کم تھی، اسی لیے ایرانی فوج کے لیے وہاں توپ خانے اور مارٹروں سے نشانہ بنانا ممکن نہ تھا۔⁠[12]

18 دسمبر 1980 کو فوج کے اروند ہیڈ کوارٹر نے عراقی فوج کو دریائے کارون کے مشرقی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے اور اہواز و ماہ شہر کی سڑکیں آزاد کرانے کا منصوبہ تیار کیا۔⁠[13] اس منصوبے کو " توکل" کا نام دیا گیا جو دو مراحل میں مکمل ہونا تھا۔ پہلے مرحلے میں فوج کی 37 ویں آرمرڈ بریگیڈ نے مشرقی-مغربی محور پر حملہ کر کے مارد پل پر قبضہ کرنا تھا۔⁠[14] یہ آپریشن 10 جنوری 1981 کو انجام دیا گیا لیکن ناکام رہا۔⁠[15]

15 مئی 1981 کو فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے مشترکہ کارروائی کر کے آبادان کے شمال میں علاقہ مدن کے ٹیلوں کو آزاد کروا لیا۔⁠[16] اس کے بعد کارون کے مشرقی مقبوضہ علاقے کے شمال میں " فرمانده کل قوا، خمینی روح خدا" کے نام سے ایک اور آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ایرانی فوج اور دشمن کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لیے مارد کے قریب ایک خندق کھودنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ تین ماہ کے عرصے میں 1750 میٹر لمبی، آدھا میٹر چوڑی اور 1.4 میٹر گہری خندق کھودی گئی، جو دشمن کی دفاعی لائن کے 250 میٹر قریب تک پہنچ گئی۔ اس آپریشن میں پاسدارانِ انقلاب اور بسیج کے 300 جوانوں نے حصہ لیا، جنہیں فوج کے ایک توپ خانہ یونٹ کی مدد حاصل تھی۔

یہ کارروائی 11 جون 1981 کی صبح 3 بج کر 40 منٹ پر شروع ہوئی، جس سے پہلے دس منٹ تک توپ خانے نے گولہ باری کی۔ ایرانی دستوں نے دو سمتوں سے اچانک حملہ کر دیا جس سے دشمن بوکھلا گیا اور صبح سات بجے تک چھ کلومیٹر پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دشمن کا ردِ عمل بہت شدید تھا اور اس نے ایک ہفتے تک مقبوضہ علاقہ واپس لینے کی کوشش کی۔ تاہم ایرانی جوانوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پہلے دن علاقے کے ایک حصے سے پیچھے ہٹ کر اس نئی دفاعی دیوار (مٹی کے ٹیلے) کے پیچھے پناہ لی جو پہلی رات تعمیر کی گئی تھی۔ اس طرح دشمن کے جوابی حملے ناکام بنا دیے وہ دریائے کارون پر قصبه پل اور پھر حفار پل پر انحصار کرنے لگا۔⁠[17]

مارد گاؤں آپریشن ثامن الائمہ یعنی 27 ستمبر 1981 تک دشمن کے قبضے میں رہا۔⁠[18] اس دوران عراقی جیش الشعبی کے کچھ یونٹس اور عراق کی چھٹی بریگیڈ کا مرکزی ہیڈ کوارٹر مارد کے علاقے میں ہی مقیم تھے۔⁠[19] مزید برآں 11 ستمبر 1981 کو عراق کی اسپیشل کمانڈو فورس کی ایک کمپنی بھی مارد میں تعینات کر دی گئی۔⁠[20]

آپریشن ثامن الائمہ کے دوران 27 ستمبر 1981 کو فوج کے 77 ویں ڈویژن نے پاسداران انقلاب کے دستوں کے ساتھ مل کر دریائے کارون کے مشرقی مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کی مہم کا آغاز کیا۔⁠[21] چنانچہ دو دن کی شدید لڑائی کے بعد انہوں نے دشمن کو کارون کے مشرقی کنارے سے پیچھے دھکیل دیا اور آبادان کا محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔⁠[22] دارخوین یعنی شمالی آبادان کے محاذ پر بھی 77 ویں ڈویژن کی تیسری بریگیڈ اور پاسداران انقلاب کے جوانوں نے مارد گاؤں کو آزاد کرانے کے بعد قصبه پل پر بھی قبضہ کر لیا۔⁠[23]

ایران کے ادارہ مردم شماری کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق مارد گاؤں کی آبادی صرف 16 افراد یعنی 7 خاندانوں پر مشتمل ہے اور وہاں محض 5 رہائشی مکانات ہیں۔⁠[24] دریائے بہمن شیر کے پانی کی کیفیت بہتر بنانے، اس میں سمندر کے کھارے پانی کی ملاوٹ روکنے اور آبادان کے پینے کے پانی کا معیار بڑھانے کے لیے جولائی 2021 میں مارد گاؤں کے قریب دریائے کارون پر ایک مٹی کا بند تعمیر کیا گیا۔ یہ بند 190 میٹر طویل، 11 میٹر چوڑا اور تقریباً 19 میٹر بلند ہے۔ اس بند کی تعمیر سے دریائے کارون کا راستہ بند کر دیا گیا، جس سے خلیج فارس کے ساتھ اس کا رابطہ منقطع ہو گیا اور میٹھے و کھارے پانی کے الگ ہونے سے آبادان کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر آنے لگا۔⁠[25]

 

 

 


حوالہ جات

  • [1]. پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی: خوزستان در جنگ، ج 1، تهران، صریر، 2010، ص 41۔
  • [2]. سابق، ص 195
  • [3]. شیرمحمد، محسن، چشمان عقاب: حماسه گردان 11 شناسایی تاکتیکی نیروی هوایی و عملیات عکس‌ برداری هوایی در دفاع مقدس، تهران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2017، ص 160۔
  • [4]. بنی لوحی، سیدعلی و دیگران، نبردهای شرق کارون به روایت فرماندهان، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2000، ص 54
  • [5]. سروری، روح‌ الله و ابوالقاسم جاودانی، عملیات ثامن‌ الائمه، تهران، نشر آجا، 2011، ص 51۔
  • [6]. پورجباری، پژمان، سابق، ص 41
  • [7]. حبیبی، ابوالقاسم، «اطلس راهنمای-6: آبادان در جنگ»، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2003، ص 75
  • [8]. بنی لوحی، سیدعلی و دیگران، سابق، ص 54
  • [9]. صالح، الهام، شکست محاصره در 9 ساعت، مرکز مطالعات و تحقیقات فرهنگ و ادب پایداری، تاریخ شفاهی ایران، 25 سپتامبر 2018، www. oral-history. ir/print. php? id=8072
  • [10]. بنی‌ لوحی، سیدعلی و دیگران، سابق، ص 54
  • [11]. سابق، ص 55
  • [12]. سلیمانی‌ خواه، نعمت‌ الله، این سوی اروند جایی برای دشمن نیست، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2014، ص 405
  • [13]. صادقی‌ گویا، نجات علی، دفاع از آبادان: دفاع از آبادان در سال اول جنگ تحمیلی، تهران، انتشارات ایران سبز، 2012، ص 173؛ درودیان، محمد، تجزیه ‌ و تحلیل جنگ ایران و عراق: بازیابی ثبات، ج 2، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1999، ص 115۔
  • [14]. صادقی‌ گویا، نجات علی، سابق؛ صارمی، مجید، تیپ 37 زرهی در عملیات ثامن‌ الائمه، تهران، انتشارات ایران سبز، 2010، ص 31
  • [15]. حسینی، سیدیعقوب، نبردهای منطقه خرمشهر و آبادان در سال اول جنگ تحمیلی، تهران، انتشارات ایران سبز، 2017، ص 370 و 371
  • [16]. «فتح تپه‌ های مُدن آبادان و نقش جهاد سازندگی در پیروزی عملیات»، خبرگزاری دفاع مقدس، 12 مئی 2015، www. defapress. ir/fa/news/46344
  • [17]. پورجباری، پژمان، سابق، ص 39۔
  • [18]. سابق، ص 41
  • [19]. سروری، روح‌ الله و ابوالقاسم جاودانی، سابق، ص 56
  • [20]. سلیمانی‌ خواه، نعمت‌ الله، سابق، ص 473
  • [21]. بنی‌ لوحی، سیدعلی و دیگران، سابق، ص 176۔
  • [22]. جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، تهران، سوره سبز، 2014، چ سی و پنجم، ص 64
  • [23]. سلیمانی‌ خواه، نعمت‌ الله، سابق، ص 475 تا 477
  • [24]. www. addressmap. ir/45234
  • [25]. «فرماندار: ساخت سد مارد کیفیت آب آبادان را افزایش داد»، ایرنا، 30 جون 2021 www. irna. ir/news/84389178

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع