ساتویں شکاری ایئر بیس، شیراز

شیراز کا ساتواں لڑاکا ہوائی اڈہ ان ہوائی اڈوں میں سے ایک تھا جو شیراز شہر کے گرد و نواح میں واقع پرانے ہوائی اڈے پر قائم کیا گیا اور اس نے دفاعِ مقدس کے دوران ملک کی فضائی حدود کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔

شیراز ایئر بیس کا قیام 1950 کی دہائی کے وسط میں عمل میں آیا۔ 1956 میں شیراز کے پرانے ہوائی اڈے پر دو عدد، ایک انجن والے ایل-20 طیاروں کی تعیناتی کے ساتھ شیراز ہوائی اڈے کی بنیاد پڑی۔⁠[1] اس کے بعد 1963 میں شیراز میں پانچ عدد ہرکولیس سی-130 ٹرانسپورٹ طیاروں کے ساتھ پانچواں ہوائی ٹرانسپورٹ اڈہ قائم کیا گیا اور سات سال بعد، جولائی 1970 میں اس کا نام بدل کر " ساتواں آزاد ٹرانسپورٹ اڈہ" رکھ دیا گیا۔ 20 فروری 1971 کو لڑاکا بمبار طیاروں ایف-4 کے دو سکواڈرنز کی تعیناتی کے ساتھ ہی اس کی فضائی طاقت میں اضافہ ہوا اور یہ ساتویں لڑاکا ہوائی اڈے کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اسی دوران سی-130 طیاروں کے یونٹ کو بھی بڑھا کر دو سکواڈرن کر دیا گیا۔ 1975 کے اپریل میں ساتویں اڈے میں ٹیکٹیکل ایئر کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا اور تمام لڑاکا ہوائی اڈے اس کمانڈ کے ماتحت آ گئے۔ 1977 میں اس اڈے پر 15 ایف-14 جنگی طیاروں پر مشتمل ایک سکواڈرن تعینات کیا گیا جس سے ملک کے جنوبی حصوں کی فضائی نگرانی میں اس اڈے کا کردار مزید وسیع ہو گیا۔

1979 میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے ساتھ فضائیہ میں نئی تبدیلیاں لائی گئیں جن میں ٹیکٹیکل ایئر کمانڈ کی تحلیل بھی شامل تھی۔ اس کے نتیجے میں ساتویں اڈے سمیت تمام لڑاکا ہوائی اڈے ایک بار پھر ایئر فورس کمانڈ کی آپریشنز معاونت کے زیرِ انتظام آ گئے۔⁠[2]

انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے داخلی بحرانوں کے دوران شیراز بیس نے شر پسند عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح افواج کی بھرپور مدد کی۔⁠[3] 1980 میں جنگ کے آغاز کے وقت ساتویں اڈے کے پاس 16 عدد ایف-14 جنگی طیارے، 22 عدد سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے اور 6 عدد پی تھری-ایف بحری گشت کرنے والے طیارے موجود تھے۔⁠[4]

شیراز بیس ان ہوائی اڈوں میں شامل تھا جن پر عراق نے 22 ستمبر 1980 کو حملہ کیا تھا، تاہم اس حملے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔⁠[5]   اسی دن، ساتویں لڑاکا ہوائی اڈے نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے؛ جن میں فضائی دفاع کے لیے ایف-14 جنگی طیاروں کے ذریعے 9 ایئر کور پروازیں اور فوجیوں و فوجی ساز و سامان کی منتقلی کے لیے 16 سورٹی ٹرانسپورٹ پروازیں (سی-130 ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے) شامل تھیں۔⁠[6] اگلے دن، عراق کے اہم فوجی مراکز اور اڈوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کمان-99 کے فریم ورک کے تحت، شیراز بیس نے بھی حصہ لیا اور ایف-14 جنگی طیاروں نے اپنے طیاروں کی حفاظت اور دشمن کے فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 12 پروازیں کیں۔⁠[7]

شیراز بیس پر تعینات یونٹس میں سے ایک لانگ رینج ریکونیسنس سکواڈرن (شناسائی دور) تھا۔ اس یونٹ کے پاس بحری گشت کے لیے چار انجنوں والے خصوصی طیارے تھے جنہیں پی تھری-ایف (P-3F) کہا جاتا تھا۔⁠[8] جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی، باوجود اس کے کہ یہ طیارے انقلاب کے بعد کئی مہینوں سے گراؤنڈ تھے، فضائیہ کے ماہرین کی کوششوں سے انہیں آپریشنل کر کے دوبارہ پروازوں کے سلسلے میں شامل کر لیا گیا۔⁠[9] شیراز بیس میں مقیم اس لانگ رینج ریکونیسنس سکواڈرن نے خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے اوپر بہت سی پروازیں کیں، جنہوں نے ان پانیوں میں مختلف غیر ملکی فوجی اور تجارتی بحری جہازوں کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔ پی تھری-ایف طیاروں کی پروازوں سے حاصل ہونے والی مختلف معلومات اور ان کے کیمروں سے لی گئی تصاویر، ایئر فورس کے انٹیلی جنس اور ریکونیسنس کمانڈ کے ساتھ ساتھ بحریہ کو بھی بھیجی جاتی تھیں، جو فوج اور خاص طور پر بحریہ کے تجزیوں، فیصلوں اور مستقبل کے اقدامات کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھیں۔⁠[10]

28 نومبر 1980 کو آپریشن مروارید اور عراقی بحریہ کی تباہی کے دوران بھی شیراز بیس نے اپنا کردار ادا کیا۔ اس دن اس بیس کے ایف-14 طیاروں نے بحریہ کی مدد کے لیے 9 سورٹی پروٹیکشن پروازیں کیں اور اس دوران دشمن کا ایک طیارہ بھی مار گرایا۔⁠[11]

شیراز بیس کے سی-130 طیارے بھی دفاعِ مقدس کے مختلف آپریشنز کے دوران اسلحہ، ساز و سامان اور فوجیوں کی منتقلی میں مصروف رہے۔ مثال کے طور پر آپریشن بیت المقدس کے لیے 1500 رزمندگانِ اسلام کو مشہد سے خوزستان منتقل کیا گیا۔⁠[12]

خلیجِ فارس میں ٹینکروں کی جنگ کے دوران بھی، ساتویں اڈے کے ایف-14 طیاروں نے فضا میں ایندھن بھرنے اور شب و روز پروازوں کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کی اور دشمن کے فضائی حملوں کو روکا تاکہ ایران کی تیل کی برآمدات جاری رہ سکیں۔⁠[13]

1985 کے دوسرے نصف حصے میں، دیکھ بھال کے اخراجات میں بچت کی خاطر اس بیس کے ایف-14 طیاروں کو اصفہان کے ہوائی اڈے پر منتقل کر دیا گیا اور اس کے بعد 1986 میں لڑاکا تربیتی طیاروں ایف-5 کا ایک سکواڈرن شیراز بیس میں تعینات کیا گیا۔⁠[14]

15 اکتوبر 1986 کو دشمن کے طیاروں کی جانب سے شیراز ایئرپورٹ کے فوجی اور سویلین حصے پر بمباری کے نتیجے میں دو بوئنگ 747 طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ایک اور بوئنگ 747 کو شدید نقصان پہنچا۔ اس بمباری میں ایک مسافر طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔⁠[15]

دفاعِ مقدس کے بعد، بغداد پر بمباری کے مشن میں شہید ہونے والے میجر جنرل پائلٹ عباس دوران کی یاد میں شیراز بیس کا نام بدل کر " شہید دوران ایئر زون" رکھ دیا گیا۔⁠[16] اس کے علاوہ نئے پروازی ساز و سامان، بشمول سوخو-24 بمبار طیارے اور ایلیوشن-76 بھاری ٹرانسپورٹ طیارے ساتویں اڈے کے بیڑے میں شامل کیے گئے۔⁠[17]

  اب شیراز بیس میں سوخو-24 بمبار طیاروں اور سی-130 ٹرانسپورٹ طیاروں کی اوور ہالنگ (مرمت) کی جاتی ہے⁠[18] اور اس اڈے کے ماہرین کی کوششوں سے سوخو-24 کا فلائٹ سیمولیٹر (شبیہ سازِ پرواز) بھی تیار کیا گیا ہے جو پائلٹوں کی تربیت میں استعمال ہوتا ہے۔⁠[19]

دفاعِ مقدس کے دوران شیراز بیس کے نمایاں ترین کمانڈروں اور پائلٹوں میں حسن شالچیان، محمد فرح آور، محمد مسبوق اور یداللہ خلیلی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔⁠[20] اس وقت بریگیڈیئر جنرل پائلٹ مسعود جعفری شیراز کے شہید دوران ایئر زون کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔⁠[21]

 


حوالہ جات

  • [1]. آریانی، حامد، پرواز از فارس تا آسمان خلیج ‌ فارس، ماہنامہ صف، شمارہ 417، جنوری فروری 2016، ص 19۔
  • [2]. نمکی عراقی، علی رضا و دیگران، تاریخِ نبردہائے ہوائی - عملیاتِ کمان-99، جلد 3، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2017، ص 58
  • [3]. آریانی، حامد، ایضاً، ص 20
  • [4]. زینلی، نصراللہ، آماد و پشتیبانی ہوائی در دفاعِ مقدس، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2015، ص 261 اور 264
  • [5]. انصاری، مہدی و دیگران، روز شمارِ جنگِ ایران و عراق، جلد 4، تہران، مرکزِ مطالعات و تحقیقاتِ جنگ، طبع دوم، 1996، ص 57
  • [6]. ہیئت تدوینِ تاریخِ دفاعِ مقدس، تقویمِ مستندِ عملکردِ نیرویِ الہیِ ہوائیِ ارتشِ جمہوری اسلامی ایران، جلد 3، ستمبر اکتوبر 1980، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2018، ص 26
  • [7]. ایضاً، ص 63؛ نمکی عراقی، علی رضا و دیگران، ایضاً، ص 30، 97 اور 98۔
  • [8]. شیر محمد، محسن، چشمانِ عقاب، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2017، ص 50
  • [9]. زینلی، نصراللہ، ایضاً، ص 320
  • [10]. شیر محمد، محسن، چشمانِ عقاب، ص 50؛ شیر محمد، محسن، پاکبازانِ عرصہء عشق، ماہنامہ صنایعِ ہوائی، شمارہ 315، جولائی تا اکتوبر 2018، ص 28
  • [11]. مسبوق، محمد اور علی رضا جواهری، عملیاتِ مروارید، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2015، ص 171 اور 172؛ نمکی عراقی، علی رضا و دیگران، ایضاً، ص 77
  • [12]. آریانی، حامد، ایضاً، ص 20
  • [13]. ایضاً، ص 20
  • [14]. نمکی عراقی، علی رضا و دیگران، ایضاً، ص 58
  • [15]. انصاری، مہدی و دیگران، ایضاً، ص 351 اور 352
  • [16]. آریانی، حامد، ایضاً، ص 19؛ فارس نیوز ایجنسی، 3 مارچ 2013۔
  • [17]. آریانی، حامد، ایضاً، ص 21
  • [18]. آریانی، حامد، ایضاً، ص 21 اور 32
  • [19]. شبیہ سازِ سوخو-24، ماہنامہ صف، شمارہ 417، جنوری فروری 2016، ص 32۔
  • [20]. مسبوق، محمد اور علی رضا جواهری، ایضاً، ص 193، 198 اور 203؛ نمکی عراقی، علی رضا و دیگران، ایضاً، ص 59 اور 60
  • [21]. فارس نیوز ایجنسی، 25 مارچ 2020

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع