سوویت یونین

سوویت یونین نے عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران عراق کی وسیع پیمانے پر اسلحہ جاتی، مشاورتی اور انٹیلی جنس حمایت کی۔

سوویت یونین 22,402,200 مربع کلومیٹر رقبے کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا۔ اس کا دارالحکومت ماسکو تھا۔ یہ ملک مشرقی یورپ اور شمالی ایشیا کے درمیان اقیانوسِ منجمد شمالی تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کا زیادہ تر حصہ براعظم ایشیا میں واقع تھا۔⁠[1]

سنہ 1972 میں سوویت یونین نے عراق کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا، ام القصر بندرگاہ تعمیر کی اور عراق کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیا۔ اس طرح اس نے عراق کو خلیج فارس اور بحر ہند میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز بنا لیا۔⁠[2]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے سے پہلے سوویت یونین کے عراق کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے۔ وہ اس ملک کو مشرقی بلاک کا ایک رکن سمجھتا تھا۔⁠[3] جنگ شروع ہونے سے پہلے عراق کو اوزا جنگی کشتیاں فراہم کی گئیں۔ اس سے عراق کی بحری طاقت میں بڑی تبدیلی آئی۔ یہ سوویت یونین کی جانب سے عراق کی عسکری حمایت کا ایک حصہ تھا۔⁠[4]

جنگ شروع ہونے پر سوویت یونین نے بظاہر عراق کو اسلحے کی ترسیل کچھ عرصے کے لیے روک دی۔ سوویت یونین عراق کو سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کرنے والا ملک تھا۔⁠[5] اس سے پہلے سنہ 1972 میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کا پندرہ سالہ معاہدہ ہوا تھا۔ اس وقت عراق نے اپنی تیل کی صنعت کو قومیایا تھا۔ اس نے مغربی ممالک کا اثر و رسوخ ختم کر دیا تھا۔ اس وجہ سے وہ سوویت یونین کے قریب ہو گیا تھا۔⁠[6] سوویت یونین نے جنگ کے دوران اپنے مشرقی یورپی اتحادیوں سے کہا کہ وہ عراق کی عسکری ضروریات پوری کریں۔ ان ممالک نے روسی ٹینک براہ راست یا سعودی عرب کے واسطے سے عراق کے حوالے کیے۔⁠[7] عراق نے اسٹائکس میزائلوں سے لیس اوزا جنگی کشتیوں کا استعمال کیا۔ اس نے ایران کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری بیڑوں کو نشانہ بنایا۔ نومبر 1980 میں ایران نے مروارید آپریشن کیا۔ اس کے بعد عراق سے یہ صلاحیت چھن گئی۔⁠[8] تاہم کچھ ہی عرصے بعد عراقی حکام نے سوویت یونین کا دورہ کیااور دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد سوویت یونین نے اسلحہ نہ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا اور یوں اس نے دوبارہ عراق کی بڑے پیمانے پر عسکری حمایت شروع کر دی۔⁠[9] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان  دوستی کا معاہدہ اس تعاون کی وجہ بنا۔ اس کے علاوہ عراق نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی مخالفت کی تھی اور سوویت یونین یہ بھی دکھانا چاہتا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ البتہ عراق نے اپنے ملک میں کمیونسٹوں پر سختی کر رکھی تھی اور اس نے افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کی مخالفت بھی کی تھی۔ بعثی حکومت فرانس جیسے مغربی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتی تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر سوویت یونین   اور عراق کے مابین کچھ فاصلہ بھی پیدا ہوا  تھا⁠[10]

سنہ 1981 میں انکشاف ہوا کہ سوویت یونین نے عراق کو اسکڈ میزائل اور فراگ 7 میزائل دیے۔ اس نے ٹینک شکن میزائل اور ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سوویت یونین جلد ہی عراق کو 700 عدد ٹی 72 ٹینک دے گا۔ اس کے علاوہ 60 عدد میگ 23 اور میگ 25 جنگی جہاز فراہم کیے جائیں گے۔ اس میں 800 عدد 122 اور 152 ملی میٹر کے مارٹر اور ایک لاکھ چالیس ہزار دستی بم بھی شامل تھے۔⁠[11]

ستمبر 1981 میں صدام کے نائب طہٰ یاسین رمضان نے ماسکو کا دورہ کیا جس پر سوویت یونین نے  بھی سنہ 1972 کے پرانے عسکری معاہدے پر عمل درآمد کا اعلان کر دیا۔ اس نے عراق میں معاشی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی اور مشرقی بلاک کے ممالک کو عراق کے ساتھ فوجی اور معاشی تعاون کا اشارہ دیا۔ سوویت یونین نے عراق میں ایک پیچیدہ فضائی دفاعی نظام نصب کیا۔ اس کا مقصد عراق کی ایٹمی تنصیبات پر صہیونی ریاست کے حملے جیسے کسی بھی واقعے کو روکنا تھا۔ سوویت یونین ایران کے ہاتھوں عراق کی شکست  کو بھی روکنا چاہتا تھا اور   خطے میں طاقت کا توازن بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا؛ سو اس مقصد کے لیے اس نے عراق کو مختلف اقسام کا اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ   ماسکو   ایرانی حکام کی توجہ   بھی حاصل کرنا چاہتا تھا جس کے پیش نظر نے اپنے بعض اتحادیوں جیسے شام، شمالی کوریا، پولینڈ اور لیبیا کے ذریعے کبھی کبھار ایران کو   عسکری مدد فراہم کرنے کی   کوشش   بھی کی۔⁠[12]

مئی 1982 میں جب ایران نے خرم شہر کو فتح کیا تو اس کے بعد سوویت یونین نے پہلے مرحلے میں عراق کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد دی۔ اس کے علاوہ میگ 23، میگ 25 جہاز، ٹی 72 ٹینک اور زمین سے زمین اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل  اور دیگر اسلحوں کی بڑی کھیپ بھی دی۔ عراقی فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اس نے اپنے 2000 مشیر بھی عراق بھیجے۔⁠[13] اس نے شمالی کوریا اور دیگر کمیونسٹ ممالک پر دباؤ ڈالا تاکہ وہ ایران کو اسلحہ فروخت نہ کریں۔⁠[14]

سنہ 1985 میں   جب گورباچوف، جو  مشرقی اور مغربی بلاک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا، برسرِ اقتدار آیا تو اسی دور میں ایرانی مجاہدین نے بدر آپریشن شروع کیا۔ اس وقت سوویت یونین جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔⁠[15] سوویت یونین اس جنگ کو امریکہ اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتا تھا تا کہ وہ اس کے ذریعے افغانستان کے معاملے میں مراعات حاصل کر پائے، کیونکہ اس نے افغانستان پر قبضہ کر رکھا تھا۔ وہ افغانستان کا بحران حل ہونے سے پہلے اس جنگ کے خاتمے کے حق میں نہیں تھا۔ سنہ 1987 کے موسم گرما میں عراق نے امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی جس پر   بغداد اور ماسکو کے تعلقات میں سرد مہری آگئی اور پھر سوویت یونین کا جھکاؤ ایران کی طرف ہو گیا۔⁠[16] اس وقت سوویت یونین نے سلامتی کونسل میں ایران پر عسکری پابندیوں کی قرارداد کی مخالفت بھی کی۔ ایران پر اسلحے کی پابندی کی قرارداد کی منظوری میں روسیوں کی اس تاخیر نے امریکہ کو پریشان کر دیا اور آخرکار امریکہ اس جنگ کا جلد از جلد خاتمے کے درپے ہو گیا۔ ماسکو کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے امریکہ نے افغانستان کے بارے میں جنیوا کانفرنس کے ابتدائی مسودے پر دستخط کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جو مجموعی طور پر سوویت یونین کے حق میں تھا۔ اس کے مقابلے میں، سوویت یونین نے اعلان کیا کہ اب سے وہ سلامتی کونسل کے ارکان کی اکثریت کی رائے کے مطابق کسی بھی منصوبے کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔⁠[17]

کہا جاتا ہے کہ بعض جنگی محاذوں پر ایران کی پوزیشن کمزور ہونے اور جنگ ختم کرنے کے لیے دو عالمی طاقتوں کے درمیان کھلے عام معاہدے نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ جنگ کا جاری رہنا ایران کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ 3 جولائی 1988 کو ایرانی مسافر بردار طیارے پر ونسنس نامی بحری بیڑے کا حملہ بھی اسی جنگ کی ایک علامت اور دلیل سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے پر روسیوں کی مکمل خاموشی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران نے 17 جولائی 1988 کو قرارداد 598 کو قبول کر لیا۔⁠[18]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران سوویت یونین نے عراق کی عسکری ضروریات کا تقریباً 61 فیصد پورا کیا۔ اس نے 400 عدد ٹی 55 ٹینک، 250 عدد ٹی 12 ٹینک اور نئے ٹی 72 ٹینک عراق کے حوالے کیے۔ اس کے علاوہ پی ایم بی 10 بکتر بند گاڑیاں، میگ 21، 23، 25 اور 27 جنگی طیارے اور درمیانی بلندی پر مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام روسی ٹیکنیشنز کے ہمراہ عراق کو فراہم کیے گئے۔ عراق کو 4 عدد توپولوف 72 ایندھن بھرنے والے طیارے اور دیگر ساز و سامان بھی دیا گیا تھا۔⁠[19]

سنہ 1991 سے 2011 کے درمیان روس اور ایران کے درمیان سیاسی مذاکرات میں اکثر طویل وقفے آئے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اب روس اس عالمی طاقت کا جانشین تھا۔ سنہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں روسی سیاست دان روس کو مغربی سیاسی ڈھانچے میں ضم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ نہ صرف ایران کے لیے کسی مناسب مقام کے قائل نہیں تھے، بلکہ ایران کو وسطی ایشیا اور قفقاز کے علاقوں میں اپنے مفادات کے لیے خطرے کا مرکز بھی سمجھتے تھے۔⁠[20]

اس کے بعد ایران میں " مشرق کی طرف دیکھو" کی پالیسی ایک عارضی حکمت عملی سے بدل کر ایک مستقل نظریے میں تبدیل ہو گئی۔ یہ پالیسی معاشی اور تجارتی تبادلوں کے علاوہ سیاسی، سفارتی، سیکورٹی اور دفاعی تعلقات تک پھیل گئی۔ اس دور میں ایران اور روس کے مفادات مخصوص سیاسی موضوعات پر ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے۔ دونوں ممالک قرہ داغ کے بحران، تاجکستان کی خانہ جنگی، طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کی حمایت، آذربائیجان اور آرمینیا کے مسئلے اور چیچنیا کے معاملے میں ایک ہی سمت میں تھے۔ ان حالات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کو تعاون کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ ایران اور روس کے تعلقات بین الاقوامی سیاست میں اپنے اپنے خاص مقام کی وجہ سے ہیں، یہ تعلقات البتہ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں روس کی اپنی سٹریٹجک مصلحتوں کے تابع ہیں۔ تہران کے لیے بھی روس کے ساتھ تعلقات محض اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے حصول تک محدود نہیں ہیں۔ روس ایک ایسے عالمی بلاک کا بانی بن سکتا ہے جو مغرب کے خلاف ہو، ایسا بلاک کہ ایران جس کا خواہشمند  ہے۔⁠[21] بلاشبہ اس نئے دور میں روس بھی ایران کے بعض ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کو استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔

 

 

 


حوالہ جات

  • [1]. کرمی، جہانگیر، جامعه و فرهنگ روسیه، ج 1، تہران، الہدی، 2013، ص 21۔
  • [2]. افشار سیستانی، ایرج، نام دریای پارس و دریای مازندران و بندرها و جزیره‌ های ایرانی، تہران، کشتیرانی والفجر ہشت، 1997، ص 25
  • [3]. مرادپیری، ہادی و مجتبی شربتی، آشنایی با علوم و معارف دفاع مقدس، تہران، سمت، چ ہفتم، 2013، ص 62
  • [4]. سوادکوهی، شاہرخ، اقدامات و نتایج عملیات نیروی دریایی ارتش جمهوری اسلامی ایران در مقابله با...، تہران، دافوس، 2018، ص 241 و 97
  • [5]. ربیعی، زہرا، «بررسی مواضع فرانسه در قبال جنگ تحمیلی»، فصلنامه مطالعات دفاع مقدس نگین ایران، سال ہشتم، ش سی و یکم، موسم سرما 2009، ص 74
  • [6]. ایزدی، نعمت‌ اللہ، عملکرد شوروی در جنگ تحمیلی، تہران، اطلاعات، 2013، ص 43-42
  • [7]. صدا و سیمای جمہوری اسلامی ایران، معاونت سیاسی، ادارہ پژوہش‌ ہای خبری، «قدرت ہای بزرگ و جنگ 8 سالہ عراق علیہ ایران»، ص 10
  • [8]. سوادکوهی، شاہرخ، سابقہ حوالہ، ص 241 و 97
  • [9]. رحمانی، خالد، «نقش گردانندگان جنگ تحمیلی عراق علیہ جمہوری اسلامی ایران»، مرکز پایگاہ اطلاعات علمی جہاد دانشگاہی، https://www.sid.ir/paper/897027/fa#downloadbottom
  • [10]. ایزدی، نعمت‌ اللہ، سابقہ حوالہ، ص 91 و 92
  • [11]. سابقہ حوالہ، ص 104 و خبرگزاری جمہوری اسلامی، شمارہ 238 مورخ 14 نومبر 1981
  • [12]. سابقہ حوالہ، ص 104-107
  • [13]. شاہ قلیان قہفرخی، رضا، «نقش و عملکرد اتحاد جماہیر شوروی در جنگ تحمیلی عراق علیہ ایران»، فصلنامه جامع دفاع مقدس، سال 2، ش 2، موسم گرما 2017، ص 118
  • [14]. رحمانی، خالد، سابقہ حوالہ، ص 6
  • [15]. رحمتی، مہدی، «روابط ایران و شوروی در دورہ جنگ ایران و عراق (با تأکید بر مسئلہ افغانستان)»، فصلنامه مطالعات دفاع مقدس، ش 34، موسم خزاں 2010، ص 88
  • [16]. شاہ قلیان قہفرخی، رضا، سابقہ حوالہ، ص 119۔
  • [17]. سابقہ حوالہ، ص 119
  • [18]. سابقہ حوالہ
  • [19]. مرادپیری، ہادی و مجتبی شربتی، سابقہ حوالہ، ص 153
  • [20]. اسعدی، بہروز و سید علی منوری، «بررسی روابط ایران و روسیه در قرن جدید؛ اتحاد استراتژیک یا همسویی منافع»، فصلنامه علمی رهیافت‌ های سیاسی و بین‌ المللی، دورہ 12، ش 4، پیاپی 66، موسم گرما 2021، ص 193 و 194۔
  • [21]. سابقہ حوالہ، ص 200 و 194

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع