آپریشن والفجر 10

آپریشن "والفجر 10" ایران کے علاقے "نوسود" اور عراقی علاقے "حلبچہ" میں "یا رسول اللہ (ص)" کے رمز کے ساتھ 14 مارچ 1988 کو شروع ہوا اور 6 دن تک جاری رہا۔

جنوب کے جنگی محاذوں میں آپریشنل کارروائیوں میں کمی اور کامیابی کے امکانات کم ہونے کی وجہ سے، شمال مغرب میں جنگی حکمت عملی کے تسلسل کے تحت، سپاه پاسداران کے کمانڈروں نے عراق کے علاقے "ماووت" میں آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا⁠[1]۔ البتہ آپریشن "بیت المقدس 2" کو جاری رکھنے میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں، خاص طور پر دشمن کےچوکس ہو جانے، دریا میں سیلاب کے باعث سڑک اور "گردہ رش "پل کی تباہی، جنگی مواصلاتی رابطوں کی بندش، شدید برفباری اور آزاد کردہ علاقوں میں ایران کے حامی عراقی کرد مخالفین کے ٹھکانوں پر دشمن کے حملوں نے آہستہ آہستہ جنگی حکمت عملی کا رخ حلبچہ کے عمومی علاقے اور"دربندی خان" ڈیم کی جانب موڑ دیا⁠[2]۔

اس آپریشن کا مقصد حلبچہ، خرمال، دوجیلہ، بیارہ اور طویلہ شہروں پر قبضہ کرنا تھا⁠[3]، اور حلبچہ کےعمومی علاقے اور دربندیخان ڈیم کو آپریشن کے لئے مرکزی جگہ کے طور پر منتخب کیا گیا⁠[4]۔

طے شدہ منصوبے کے مطابق، تین کمانڈ ہیڈکوارٹرز؛ آپریشنل ایریا کے شمال میں قدس، درمیانی حصے میں ثامن الائمہ، اور جنوب میں فتح کمانڈ ہیڈکوارٹرز نے اپنا اپنا مشن سنبھالا⁠[5]، اور 50 فیصد اختیارات کے ساتھ 10 ڈویژنز اور 13 بریگیڈز کو 70 بٹالینز کی صورت میں تعینات کیا گیا⁠[6]۔

یہ آپریشن عید مبعث کی رات آٹھ بج کر تئیس منٹ پر، "یا رسول اللہ (ص)" کےرمز کے ساتھ ، 85 کلومیٹر چوڑائی کے محاذ پر، تین علاقوں مریوان، پاوہ اور دربندیخان ڈیم سے شروع ہوا۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں، ایرانی فوجوں نے خرمال شہر اور اس کے ماتحت دیہات کو آزاد کرالیا۔ دوسرے مرحلے میں، ایرانی فوجوں نے ایک شدید جھڑپ میں، دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کرتے ہوئے، اہم اسٹریٹجک شہر دوجیلہ⁠[7] اور اس کے آس پاس کے بیس دیہات کوبھی آزاد کرایا۔ دوجیلہ دراصل، دربندی خان جھیل کے مشرق میں اور حلبچہ کے شمال میں دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبہ ہے جس کے اور حلبچہ کے درمیان زمقی شہر کی کئی اہم بیرکوں سمیت فوجی و اقتصادی تنصیبات واقع تھیں⁠[8]۔ تیسرے مرحلے میں، مجاہدین نے بالامبو، شیندروی اور تیمورژنان (تموژنان) کی بلندیوں پر قبضہ کرنے کے بعد، حلبچہ کے عمومی علاقے تک راستہ بنالیا اور صدام کی فوج کے متعدد اعلی کمانڈروں کو قیدی بھی بنالیا۔ چوتھے مرحلے میں، ایران کا کرد آباد شہر نوسود، جو سات سال سے زیادہ عراق کے تسلط میں تھا، آزاد ہو گیا، اور اس کے بعد فوجی علاقے طویلہ اور بیارہ بھی آزاد کرالئے گئے۔ آپریشنل ایریا میں وحشتناک شکست کے خوف سے صدام حکومت نے حلبچہ کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا، یہ کیمیکل ہتھیار جاپان کے شہر ہیروشیما میں گرائے جانےوالے بموں جیسے تھے۔ پانچویں مرحلے میں، محور خرمال - سید صادق، سلیمانیہ صوبہ کے درمیان، علاقے کی 19 پہاڑیوں بشمول 1058 ریشن کی چوٹیوں سمیت جو سید صادق شہر سے قدرے بلند ہیں، اور سلیمانیہ صوبہ کے کئی دیگر دیہات بھی آزاد کرائے گئے⁠[9]۔

تصور یہ کیا جا رہا تھا کہ آپریشن والفجر 10 میں دربندی خان ڈیم پر قبضہ اور سلیمانیہ روڈ بند کرنے سے، عراقی فوج کی ریزرو فورسز جنوب سے شمال کی طرف حرکت کریں گی اور اس میدان میں، شلمچہ اور فاو کی طرح، عراقی فوج کو بھاری نقصان پہنچے گا، لیکن عراقی فوج کی ہائی کمانڈ نے حلبچہ علاقہ واپس لینے کے لیے، ان یونٹوں کو جنہیں اس نے جنوب میں رکھا ہوا تھا، آپریشن میں شامل کرنے سے انکار کر دیا، اوراجتماعی تباہی اور قتل عام کرنے والے ہتھیاروں کا سہارا لیا⁠[10]۔ جبکہ 16 مارچ 1988 کو دوپہر کے وقت حلبچہ کے لوگ گروہ در گروہ ایران کی سرحدوں کی طرف جا رہے تھے، اس علاقے پر عراقی طیاروں نے وسیع پیمانے پر کیمیکل بموں سے حملہ کیا⁠[11]، اور آن واحد میں، بڑی تعداد میں نہتے لوگ زہریلی گیسوں کے سبب شہید ہو گئے⁠[12]۔ اس واقعہ کے فوراً بعد، ایران کے فتح اور ثامن الائمہ کمانڈ ہیڈکوارٹرز کی یونٹیں زیادہ تر متاثرہ لوگوں کی امداد، انہیں ایران کی سرحدوں تک منتقل کرنے اور نیز زخمیوں کی منتقلی و علاج میں مصروف ہو گئیں۔ البتہ، قدس کمانڈ ہیڈکوارٹر کی کچھ یونٹوں نے آپریشن کے شمالی ونگ کو مضبوط کیا⁠[13]۔

ابتدائی ایام میں وسیع پیمانے پر قتل عام کے اس واقعے نے دنیا کے سیاسی و تبلیغاتی حلقوں اور اداروں کے انسانی جذبات کو بیدار نہیں کیا⁠[14]۔ 21 مارچ 1988 سے، اسلامی جمہوریہ ایران نے اس سانحہ کے پہلوؤں کی عکاسی اور زخمیوں کے علاج کے لیے بین الاقوامی امداد کی درخواست کرنے کی کوشش کی⁠[15]، اور ان کیمیائی حملوں کے ایک ہفتے بعد، میڈیا نمائندوں کی موجودگی کے نتیجے میں، اس قتل عام کی نسبتاً وسیع رپورٹس مختلف ممالک کے اخبارات میں شائع ہوئیں⁠[16]۔

حلبچہ کے کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ کچھ زخمیوں کو کئی یورپی ممالک اور امریکا بھیجا گیا اور ان کی تصاویر نشر کی گئیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، اس سے عالمی رائے عامہ میں عراق کے خلاف مذمت و نفرت کے جذبات نے جنم لیا اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے عراق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پہلی بار مذمت کی۔ اسی دوران امریکی حکومت نے بھی اعلان کر دیا کہ عراقی فوجیوں کے خلاف ایران کی جانب سے بھی کیمیائی گولہ باری کے استعمال کے شواہد موجود ہیں؛ اس پر عراق نے بھی اس دعوے کو دہراتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے بغداد میں نمائندے بھیجنے کی درخواست دے دی⁠[17]۔

اس آپریشن کے نتیجے میں دربندی خان جھیل کے مشرق کے تقریباً 1000 مربع کلومیٹر علاقے بشمول شہر حلبچہ، دوجیلہ، خرمال، بیارہ، طویلہ، درجنوں دیہات اور نیز ایران کا سرحدی شہر نوسود آزاد ہو گئے⁠[18]؛ دشمن کے 5400 فوجی قیدی بنائے گئے اور 10000 سے زیادہ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ 270 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ 90 سے زیادہ مال غنیمت کے طور پر قبضہ میں لے لی گئیں۔ اسی طرح 115 قسم کی توپیں بھی قبضے میں آئیں اور 73 توپوں کے علاوہ 10 ہوائی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے⁠[19]۔

امام خمینی (رح) نے اس فتح کے موقع پر ایک پیغام میں فرمایا: فتوحات اور اسلام کے جانباز سپاہیوں کی کامیابیوں کی خبروں نے نہ صرف ہماری قوم کے دلوں کو، بلکہ تمام مستضعفین اور محرومین کے دلوں کو خوش کیا ہے اور صدام اور اس کے حامیوں و آقاؤں خصوصاً امریکا اور اسرائیل کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے⁠[20]۔

آپریشن والفجر 10 کے بعد، عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی⁠[21]؛ قرارداد 598 پر ایران کی مخالفت عراق کے لیے اپنے حملے جاری رکھنے کا بہانہ بنی، اس دوران ایران نے ممکنہ عراقی حملوں کے مقابلے میں اپنی توانائیوں کو اکٹھا کرنے اور بین الاقوامی حالات کی اپنے حق میں تبدیلی کے پیش نظر، ان علاقوں سے عقب نشینی اختیار کرلی جن پر اس کا قبضہ تھا⁠[22] ۔ عراق کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ جنوبی علاقے میں وسیع پیمانے پر کوئی آپریشن نہیں ہوگا، اور اس نے فاو کے علاقے پر حملہ کرنے کی تیاری کر لی⁠[23]، اور فاو کی واپسی کے بعد، تین ماہ سے بھی کم عرصے میں ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا جو ایران نے فتح کیے تھے⁠[24]۔ ایران کی فوجوں کے شمالی محاذ سے پیچھے ہٹنے کے بعد، حلبچہ آخری علاقہ تھا جسے خالی کیا گیا⁠[25]۔

آپریشن "والفجر 10" اور آپریشن "محمد رسول اللہ (ص)" کی یادگار، سرحدی شہروں خرمال، حلبچہ، سید صادق اور دربندی خان ڈیم عراق کے قریب، دالانی کی بلندیوں پر، زیر تعمیر ہے⁠[26]۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] ایزدی، یدالله، روزشمار جنگ ایران و عراق، چونویں کتاب، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 2013، ص 17.
  • [2] درودیان، محمد، سیری در جنگ ایران و عراق، ج 4، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 1997، ص 217.
  • [3] رشید، محسن، اطلس جنگ ایران و عراق، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ، طبع دوم، 2010 ص 99.
  • [4] درودیان، محمد، سابق، ص218
  • [5] ایزدی، یدالله، سابق، ص17
  • [6] درودیان، محمد، سابق، ص222
  • [7] محمودزاده، نصرت‌الله، مرثیه حلبچه، تهران، رجا، طبع دوم ، 1989، ص 13-12.
  • [8] سابق، ص23۔
  • [9] سابق، ص12، 13
  • [10] رشید، محسن، سابق، ص99
  • [11] جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، طبع 35، 2014، تهران، سوره سبز، ص 148
  • [12] ایزدی، ید اللہ، سابق، ص12
  • [13] سابق، ص21
  • [14] رشید، محسن، سابق، ص99
  • [15] ایزدی، ید اللہ، سابق، ص21
  • [16] سابق، ص22
  • [17] سابق
  • [18] سابق، ص20
  • [19] جعفری، مجتبی، سابق، ص 148
  • [20] محمود زادہ، نصرت اللہ، سابق، ص9
  • [21] رشید، محسن، سابق، ص 106
  • [22] درودیان، محمد، سیری در جنگ ایران و عراق، ج 5، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 1999، ص 136.
  • [23] درودیان، محمد، سیری در جنگ ایران و عراق، ج 4، ص 236.
  • [24] سابق، ص248
  • [25] درودیان، محمد، سیری در جنگ ایران و عراق، ج 5، ص136.
  • [26] سایٹ راهیان نور، https://www.rahianenoor.com/fa/news/14986/%DB%8.

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا