طیارہ شکن
آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران اور عراق دونوں نے فضائی حدود کے دفاع کے لیے طیارہ شکن ہتھیاروں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ عام طور پر طیارہ شکن ہتھیار سے مراد ایسا ہر ہتھیار ہے جو اڑنے والے اہداف جیسے جہاز، ہیلی کاپٹر، میزائل اور ڈرون کے خلاف استعمال کیا جائے۔ ان ہتھیاروں میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور طیارہ شکن توپ خانے شامل ہیں۔
دفاع مقدس کے دور میں ایران کے پاس سی کیٹ، ٹائیگر کیٹ، رپیئر (برطانوی ساختہ)، ہاک (امریکی ساختہ)[1] اور سام-7[2] (سوویت یونین کے بنے ہوئے) زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل موجود تھے۔ ہاک میزائل کے 33 یونٹس[3]، جنہیں ایران میں ہاگ کہا جاتا ہے، دفاع مقدس کے اہم ترین دفاعی ہتھیاروں میں شامل تھے۔ چنانچہ انہیں دشمن کے فضائی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔[4] مثال کے طور پر آپریشن والفجر-8 یعنی فاو کی فتح میں عراق کے 72 طیارے اسی ہاگ سسٹم کے ذریعے گرائے گئے۔[5] البتہ ہاک میزائل صرف درمیانی بلندی تک ہی بہتر کام کرتا تھا اور مگ-25 جیسے طیاروں کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھا جو بہت زیادہ بلندی پر اڑتے تھے۔[6] اسی وجہ سے 1984 میں سوویت یونین کا بنا ہوا سام-2 میزائل سسٹم لیبیا کے ذریعے[7] اور 1986 میں چین سے ایچ کیو-2 طیارہ شکن میزائل سسٹم ایران کے حوالے کیا گیا۔[8] ایچ کیو-2 سسٹم کی ایک مشہور کارروائی 15 فروری 1987 کو اصفہان کی فضاؤں میں مگ-25 طیارے کو مار گرانا ہے۔[9]
عراق جنگ کے آغاز میں زیادہ تر سام-2، سام-3 اور سام-6 قسم کے میزائلوں پر بھروسہ کر رہا تھا۔[10] عراق نے اپنے بھاری اور نیم بھاری میزائلوں کو ان طیاروں کے خلاف ترتیب دیا تھا جو درمیانی یا زیادہ بلندی پر اڑتے تھے۔[11] پھر 1981 میں عراق نے فرانس سے کروٹال میزائل سسٹم کے 30 یونٹس بھی حاصل کیے۔[12]
طیارہ شکن توپ خانہ مختصر فاصلے کے دفاعی نظام میں آتا ہے جو چار کلومیٹر سے کم فاصلے کے لیے موثر ہوتا ہے۔ دراصل یہ توپیں فوجی یونٹوں، ہیڈ کوارٹرز اور رسد کے مراکز کے گرد دفاع کی آخری اور قریبی کڑی سمجھی جاتی ہیں۔[13] 1968 میں سوویت یونین[14] کی تیار کردہ 23 ملی میٹر کی طیارہ شکن توپ ایران کے دفاعی نظام کا حصہ بنی، جس کی رینج 2500 میٹر تھی۔[15] اس کے بعد 1971 میں سوئٹزرلینڈ[16] کی بنی ہوئی " اورلیکن" توپیں بھی شامل کی گئیں جن کی رینج 4000میٹر17تھی۔[17] 35 ملی میٹر کی اورلیکن توپ میں گولیاں برسانے کی رفتار بہت زیادہ تھی اور یہ طیاروں کا تیزی سے مقابلہ کرتی تھی، تاہم اس کے ریڈار سسٹم اتنا طاقتور نہیں تھا اور توپ کو ریڈار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔[18] اس کے برعکس 23 ملی میٹر والی توپ ایک ہلکا اور استعمال میں آسان نظام تھا، چنانچہ اس کی تربیت سادہ ہونے کی وجہ سے اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔[19] 1968 میں ایرانی فوج[20] نے سوویت یونین سے 57 ملی میٹر کی شلکا خودکار ریڈاری توپیں خریدیں جن کی رینج 8800 میٹر[21] تھی اور اس کے ساتھ 23 ملی میٹر[22] کی توپیں بھی حاصل کیں۔[23]
جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران میں 23 ملی میٹر کی 900 اور 35 ملی میٹر کی 240 توپیں فعال تھیں۔[24] دفاع مقدس کے آغاز میں ایران کے پاس اورلیکن کے 50 یونٹس اور 23 ملی میٹر کی 300 توپیں موجود تھیں۔[25] دوسری طرف عراقی فوج کے پاس 14.5 ملی میٹر کی 350، 23 ملی میٹر کی 350 اور 57 ملی میٹر کی 200 توپیں کام کر رہی تھیں۔[26] 28 اکتوبر 1980 کو 23 ملی میٹر کی چالیس اور 25 نومبر 1980 کو 14.5 ملی میٹر کی دو سو توپیں شمالی کوریا سے موصول ہوئیں۔[27] ان 14.5 ملی میٹر والی چار نالیوں والی توپوں کی رینج 1400 میٹر[28] تھی اور انہیں پہلے فوج اور پاسداران انقلاب میں استعمال کیا گیا، جس کے بعد یہ فضائی دفاع کا حصہ بنیں۔[29]
1981 اور 1982 کے دوران چار بڑے آپریشنز؛ ثامن الائمہ، طریق القدس، فتح المبین اور بیت المقدس میں دشمن سے 135 طیارہ شکن توپیں غنیمت میں ملیں، جس کے باعث پاسداران انقلاب کے جنگی یونٹوں میں فضائی دفاعی شعبہ قائم ہوا۔[30] آپریشن بیت المقدس میں مئی 1982 کے آغاز سے ہی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے اورلیکن کے 10 یونٹس، 35 ملی میٹر کی 24 توپیں، 23 ملی میٹر کی 120 اور 14.5 ملی میٹر کی 22 توپیں استعمال کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بری فوج کے میزائل سسٹم اور 23 و 57 ملی میٹر کی توپیں بھی میدان میں موجود تھیں۔[31]
1983 میں بلغاریہ سے 23 ملی میٹر کی 400 مزید توپیں خریدی گئیں، لیکن افرادی قوت بالخصوص تربیت یافتہ افسران کی کمی کی وجہ سے رنگروٹ سپاہیوں سے ان توپوں کا کام لیا گیا۔[32] 1984 میں سوئٹزرلینڈ[33] سے اسکائی گارڈ سسٹم کے 24 یونٹس خریدے گئے، جن میں دو 35 ملی میٹر توپیں اور ریڈار شامل تھے۔اس[34] اسکائی گارڈ کی رینج 4000 میٹر[35]تھی اور یہ عراقی طیاروں کے خلاف انتہائی تیز رفتار تھا۔ اس نظام نے 23 اور 35 ملی میٹر کی پرانی توپوں کی ان کمزوریوں کو دور کر دیا جو دشمن کے تیز رفتار جہازوں اور محدود بصارت کی وجہ سے درپیش تھیں۔[36]
اسکائی گارڈ سسٹم جزیرہ خارک میں عراق کے ایگزوسیٹ میزائلوں کو مار گرانے میں بھی کامیاب رہا۔[37] بلغاریہ سے خریدی گئی 23 ملی میٹر کی توپیں بھی تیل کی مختلف اہم تنصیبات اور کنوؤں پر تعینات کی گئیں، کیونکہ ان مقامات کو دشمن سے زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ مارچ اور اپریل 1984 میں 23 ملی میٹر کی 120 توپیں اور اورلیکن کے 8 یونٹس خلیج فارس کے جزائر کی طرف بھیجے گئے۔ یہ جزائر عراقی طیاروں کے نشانے پر تھے، اس لیے وہاں دفاعی حصار مضبوط کرنا ضروری تھا۔[38]
سن 1984 کے آخری مہینوں میں عراقی طیارے مکمل ریڈیائی خاموشی کے ساتھ پروازیں کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں ایئر ڈیفنس سسٹم کو معلومات بروقت نہ مل پاتی تھیں۔ چنانچہ بحری جہازوں بالخصوص تیل بردار ٹینکروں کو بچانے کے لیے ان کے عرشوں پر 23 اور 35 ملی میٹر کی توپیں نصب کر دی گئیں، تاکہ دشمن کے جہازوں کو قریب آنے سے روکا جا سکے۔[39]
بحری آئل ٹینکروں کی جنگ کے آغاز کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کے لیے 23 ملی میٹر کی طیارہ شکن توپیں کشتیوں پر نصب کیں اور انہیں جنگی کارروائیوں میں استعمال کیا۔[40]
سن 1986 میں بری فوج کے اسکائی گارڈ سسٹم کے 22 یونٹس، ایئر ڈیفنس سسٹم کے حوالے کیے گئے۔ اس سے پہلے یہ یونٹس جنوبی محاذوں پر ریڈار کے بغیر استعمال ہو رہے تھے، مگر اب انہیں متعلقہ ریڈاروں کے ساتھ جوڑ کر ایک مکمل سسٹم کے طور پر فعال کر دیا گیا۔[41]
اس کے علاوہ جزیرہ خارک کے فضائی دفاع کے لیے اسکائی گارڈ کے 8 مکمل یونٹس تعینات کیے گئے۔ ان کے ساتھ فوج اور پاسدارانِ انقلاب کی 23 اور 35 ملی میٹر کی توپوں کو بھی شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں پورے جزیرے کی فضا پر گولہ باری کا ایک ناقابلِ تسخیر حفاظتی حصار قائم ہو گیا۔[42]
جنگ کے دوران ایران اور عراق دونوں کو یہ اندازہ ہوا کہ طیارہ شکن توپیں پیدل فوج کے خلاف بھی نہایت موثر ثابت ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی بڑی تعداد اگلی صفوں یعنی فرنٹ لائن پر تعینات کر دی گئی۔[43]
سن 1988 تک ایران کے 645 اہم مراکز کو فضائی دفاعی چھتری فراہم کی جا چکی تھی۔ ان مقامات کی اہمیت کے لحاظ سے وہاں 23 ملی میٹر کی 4 توپوں سے لے کر اسکائی گارڈ کے 8 یونٹس اور مختلف اقسام کی 40 توپوں تک کا پہرہ لگا دیا گیا تھا۔[44]
آٹھ سالہ جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب نے دشمن سے مختلف اقسام کی 446 طیارہ شکن توپیں غنیمت میں حاصل کیں۔[45]چنانچہ جنگ کے خاتمے پر ایران کے پاس کل 2800 طیارہ شکن توپیں موجود تھیں۔[46]
دوسری طرف عراق کے پاس 1988 میں جنگ کے اختتام پر سام-2 کے 120، سام-3 کے 150 اور سام-6 کے 25 میزائل سسٹم موجود تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس 60 رولینڈ میزائل لانچرز بھی تھے۔[47]
دفاع مقدس کے خاتمے کے بعد ملک کے اندر ہی مختلف میزائل اور طیارہ شکن توپیں بنانے کا کام شروع کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر 2010 میں مصباح-1[48] اور 2011 میں سعیر نامی توپیں تیار کی گئیں۔[49] اس کے علاوہ صیاد، باور 273 اور طائر جیسے طیارہ شکن میزائل بھی ایران کی اپنی دفاعی صنعت کی پیداوار ہیں۔[50]
حوالہ جات
- [1]. گروه اساتید معارف جنگ، معارف جنگ، تهران، انتشارات ایران سبز، 2014، ص 362۔
- [2]. ازغندی، علی رضا، روابط خارجی ایران 1320-1357، تهران، قومس، چ اول، 1997، ص 324
- [3]. غلامی، برات علی، پدافند هوایی- سیر توسعه و تکامل، ج 1، تهران، انتشارات ایران سبز، 2020، ص 81
- [4]. اصلانی، یعقوب، راکت و موشک های استراتژیک-موشک های سطح به هوا، ج 6، تهران، انتشارات سازمان عقیدتی سیاسی ارتش، 2001، ص 33
- [5]. زاهدی مطلق، ابراهیم، شلیک به آسمان، تهران، سوره مهر، 2017، ص 246۔
- [6]. کُردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، درس های جنگ مدرن-جنگ ایران و عراق، ج 2، مترجم حسین یکتا، نشر مرزوبوم، 2011، ص 383
- [7]. احمدی، محمدعلی، اطلس پدافند هوایی سپاه در دوران دفاع مقدس، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2021، ص 178
- [8]. سابق، ص 182 و 184۔
- [9]. سابق، ص 190
- [10]. کُردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، سابق، ص 381
- [11]. سابق، ص382
- [12]. سابق، ص381
- [13]. اسدی، هیبت الله، آتش توپخانه، تهران، انتشارات دافوس آجا، 2015، ص 298
- [14]. غلامی، برات علی، سابق، ص 44۔
- [15]. نجفی راشد، محمد، توپخانه در عملیات های آفندی و مأموریت های ویژه، تهران، ایران سبز، 2018، ص 644
- [16]. گروه اساتید معارف جنگ، سابق، ص 362
- [17]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 22۔
- [18]. غلامی، برات علی، سابق، ص 50
- [19]. سابق، ص 51
- [20]. اسدی، هیبت الله، سابق، ص 308
- [21]. نجفی راشد، محمد، سابق، ص 645 و 446
- [22]. گروه اساتید معارف جنگ، سابق، ص 364
- [23]. غلامی، برات علی، سابق، ص 44
- [24]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 33
- [25]. غلامی، برات علی، سابق، ص 81
- [26]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 33۔
- [27]. غلامی، برات علی، سابق، ص 121
- [28]. نجفی راشد، محمد، سابق، ص 448
- [29]. گروه اساتید معارف جنگ، سابق، ص 362
- [30]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 46
- [31]. غلامی، برات علی، سابق، ص 123 و 124
- [32]. سابق، ص 124
- [33]. جهان فر، رضا و اصغر محمدی فاتح، «شناسایی دستاوردها و نوآوری های پدافند هوایی..».، فصلنامه علمی مطالعات دفاع مقدس، ش 19، خزاں 2019، ص 128
- [34]. غلامی، برات علی، سابق، ص 126۔
- [35]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 22
- [36]. جهان فر، رضا و اصغر محمدی فاتح، سابق، ص 135
- [37]. «تفکیک وحدت آفرین»، ماهنامه صف، ش 369، ستمبر 2011، ص 29
- [38]. غلامی، برات علی، سابق، ص 180
- [39]. سابق، ص 183
- [40]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 60
- [41]. غلامی، برات علی، سابق، ص 138۔
- [42]. سابق، ص 185
- [43]. ص387
- [44]. غلامی، برات علی، سابق، ص 139
- [45]. احمدی، محمدعلی، سابق، ص 328 و 329
- [46]. کُردزمن، آنتونی و آبراهام واگنر، سابق، ص 390
- [47]. سابق، ص 381۔
- [48]. «شکارچی ایرانی موشک های دشمن را بشناسید»، وب سایت روزنامه دنیای اقتصاد، 23 فوریه 2020
- [49]. «تصاویر | انواع توپ های ضدهوایی ایرانی..».، همشهری آنلاین، 13 ژوئن 2021
- [50]. «موشک های پدافندی ایران از مرزهای انحصاری قدرت های مشهور جهان گذشتند»، مشرق نیوز، 12 ژوئیه 2022