صوبہ ہمدان

صوبہ ہمدان نے ایران کے خلاف عراق کی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلامی انقلاب کے لیے 8000 شہداء، 27000 جنگی معذور (جانباز) اور 1000 افراد جو عراق میں قید رہے، پیش کیے ہیں۔

صوبہ ہمدان 19,493 مربع کلومیٹر رقبے کے ساتھ ایران کے مغرب میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں صوبہ زنجان اور قزوین، جنوب میں لرستان، مشرق میں صوبہ مرکزی اور مغرب میں کرمانشاہ اور صوبہ کردستان کا کچھ حصہ واقع ہے۔⁠[1] بلند و بالا پہاڑوں، دریاؤں، کثیر چشموں اور جغرافیائی نشیب و فراز کی وجہ سے اس صوبے کی آب و ہوا بدلتی رہتی ہے۔⁠[2]

لفظ "ہمدان" پہلی بار 1100 قبل مسیح میں شاہِ اشور "تگلات پلیسر اول" کے کتبے میں نظر آتا ہے جس میں اسے "امدانہ" یا "ہمدانا" کہا گیا ہے۔ تاہم ہخامنشی دور کے کتبوں میں اسے "ہگمتانہ" اور یونانی مورخ ہیروڈوٹس کی کتاب میں اسے "اکباتان" لکھا گیا ہے۔⁠[3]

2016 کی مردم شماری کے مطابق، صوبے کی آبادی 1,738,234 نفوس پر مشتمل ہے۔ کل آبادی میں سے 1,097,217 افراد شہری علاقوں میں، 639,005 دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، جبکہ 2,012 افراد غیر مستقل رہائشی (خانہ بدوش، مہاجر اور بے گھر افراد) ہیں۔ ہمدان، فامنین، رزن، کبودرآہنگ، بہار، اسد آباد، ملایر، تویسرکان اور نہاوند اس صوبے کے اضلاع ہیں۔⁠[4]

1978 میں پہلوی حکومت کے خلاف ایرانی مسلمانوں کی تحریک کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی، ہمدان کے عوام نے آیت اللہ سید اسد اللہ مدنی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ 21 جنوری 1979 کو ہمدان کے شاہرخی فضائی اڈے (شہید نوژه) کے 2800 ایئرفورس ٹیکنیشنز کی ایک ہفتے کی بھوک ہڑتال اور اس فوجی اڈے کے احاطے میں ان کے اہل خانہ کا احتجاجی مارچ، جس کے نتیجے میں 11 خواتین کو گرفتار کیا گیا، اسلامی انقلاب کی فتح میں ہمدان کے عوام کی جدوجہد کی مثالیں ہیں۔⁠[5]

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد 18 اور 19 مارچ 1979 کو صوبہ ہمدان کے فوجی دستوں نے (جو کردستان کے 28 ویں ڈویژن کا حصہ تھے) سنندج چھاؤنی میں بھرپور مزاحمت کی جو مکمل طور پر ضدِ انقلاب کے محاصرے میں تھی، اور اس چھاؤنی کو بچا لیا۔

 اگست 1979 میں آیت اللہ مدنی کی سرپرستی میں ہمدان میں سپاہ پاسداران تشکیل دی گئی اور اس کے دستے کردستان میں ضدِ انقلاب قوتوں سے نبرد آزما ہوئے۔ صوبے کی سپاہ کے جوانوں نے مریوان اور مہاباد (17 اگست 1979)، قروہ-دہگلان محور (اپریل 1980)، بیجار (اگست 1980)، بانہ (27 مئی 1980)، مریوان (24 جون 1980)، سقز (17 اگست 1979) اور پاوہ (18 اور 19 اگست 1980) جیسے شہروں کو آزاد کرانے کے آپریشنز میں شرکت کی۔⁠[6] نیز 10 جولائی 1980 کو ہمدان کے شہید نوژه فضائی اڈے پر اس صوبے کی سپاہ پاسداران کی موجودگی نے امریکہ اور شاہ پرستوں کی بغاوت کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ کے پہلے ہی دن (22 ستمبر 1980) سے، شہید نوژه بیس کے پائلٹوں نے پروازیں بھریں اور عراق کی سرزمین کے اندر دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ ان پائلٹوں نے صوبے کی فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے، نوژه بیس کے دفاعی نظام اور شکاری طیاروں کے بروقت ردعمل کے ذریعے ایک ہفتے کے اندر دشمن کے 10 طیاروں کو صوبے کی فضاؤں میں مار گرایا۔⁠[7]

1981 میں مغربی محاذ پر سپاہ پاسداران کے متعدد کمانڈروں کو جنوبی محاذ پر ایک نئے بریگیڈ کی تشکیل کے لیے بھیجا گیا۔ ہمدان سپاہ کے بانیوں میں سے ایک، حسین ہمدانی نے محمود شہبازی (جو اس وقت ہمدان سپاہ کے کمانڈر تھے) کے ساتھ مل کر اس نئی بریگیڈ کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کیا، جسے "27 محمد رسول اللہ" کا نام دیا گیا۔⁠[8] اس کے علاوہ ہمدان کے بسیجی رضاکاروں نے نبی اکرم (ص) بریگیڈ، لشکر 3 اسپیشل شہدا اور سپاہ پاسداران کے لشکر 43 انجینئرنگ امام علی (ع) میں بھی شرکت کی۔

فروری 1983 میں "بریگیڈ 32 انصار الحسین (ع)" کی تشکیل کے ساتھ ہی، جس کی قیادت شہید حسین ہمدانی کر رہے تھے، جنگی علاقوں میں صوبے کے مجاہدین کی موجودگی منظم ہو گئی۔ دفاع مقدس کے دوران، صوبے کی سپاہ اور بسیج کے دستوں نے 30 جارحانہ آپریشنز اور 20 سے زائد دفاعی مشنز میں حصہ لیا۔⁠[9]

صوبہ ہمدان کے نڈرشہید آرمرڈ بریگیڈ کے فوجی جوانوں نے بھی 1979-1980 کے دوران کردستان کے علاقے میں خدمات انجام دیں اور جنگ کے آغاز سے ہی مختلف آپریشنز میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ جنوب اور جنوب مغربی علاقوں کے کئی دفاعی مشنز میں شرکت کی۔⁠[10]

شہید نوژه بیس کے پائلٹوں نے بھی جنگ کے دوران دشمن کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں؛ جن میں عراق کے "الولید" بیس پر فضائی حملہ (H3 آپریشن) شامل ہے جس کے نتیجے میں عراق کے 50 فیصد طیارے تباہ ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ بغداد کی فضاؤں میں پرواز اور "الدوره" ریفائنری پر بمباری، جو شہید پائلٹ عباس دوران نے انجام دی، اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔⁠[11]

آٹھ سالہ جنگ کے دوران صوبہ ہمدان پر 300 بار فضائی حملے کیے گئے، جن میں سے 130 بار رہائشی، تجارتی اور صنعتی علاقوں کو دشمن کے دو ہزار راکٹوں، بموں اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں، جن میں ہمدان کے قدس اسٹیڈیم میں نمازِ جمعہ کے اجتماع پر بمباری اور صوبے کے جنوب میں واقع شہر "نہاوند" پر بمباری شامل ہے، 786 افراد شہید ہوئے اور 16 ہزار رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتیں تباہ ہوئیں۔⁠[12]

صوبہ ہمدان کی جہاد سازندگی نے بھی انجینئرنگ اور سپورٹ کی سرگرمیوں کے ذریعے جہادِ سازندگی (تعمیر وطن)کی سپورٹ (پشتیبانی) اور انجینئرنگ کے دستوں نے مسلط کردہ جنگ کے دوران انتہائی مؤثر خدمات سرانجام دیں۔ صوبہ ہمدان کے مجاہدین نے مختلف آپریشنز میں شرکت کی اور دفاعِ مقدس کے دوران انجینئرنگ کے اقدامات کے ذریعے اپنی موجودگی درج کروائی۔ کرمانشاہ کی "بازی دراز" کی بلندیوں پر سڑکوں کی تعمیر اور ایران و عراق کے صوبہ سلیمانیہ کی سرحد پر واقع چومان دریا پر "پلِ سید الشہداء" کی تعمیر انہی اقدامات کی مثالیں ہیں۔⁠[13]

1983ء کے بعد سے "جنگ کی امدادی کمیٹی" (ستادِ پشتیبانیِ جنگ) تشکیل دی گئی اور صوبہ ہمدان کے عوامی عطیات کو منظم کرنے کی ذمہ داری اس کمیٹی کے سپرد کی گئی۔ یہ کمیٹی فوج، سپاہِ پاسداران، جہادِ سازندگی، گورنر ہاؤس ،کمیٹیِ امدادِ امام خمینی، تنظیمِ بہزیستی اور دفترِ امام جمعہ کے نمائندوں پر مشتمل تھی اور 1988ء تک جنگی علاقوں اور محاذوں تک امداد پہنچانے کی ذمہ دار رہی۔ صوبہ ہمدان کے عوامی عطیات میں 10 ارب ریال کی نقدی، 10 ہزار ٹرک اور پک اپ لوڈر غیر نقدی امداد اور ملک کے مغربی و جنوبی محاذوں کے لیے تقریباً 10 کلو گرام سونا اور زیورات شامل ہیں۔ مغربی صوبہ گیلان، دزفول اور اہواز کے مرکزی اور جنگی علاقوں میں دو بڑے باورچی خانے قائم کیے گئے تھے جو روزانہ تقریباً 70 ہزار فوجیوں کے لیے کھانا تیار کرتے تھے۔ کمیٹی کے دیگر اقدامات میں سرپلِ ذہاب کے گرد و نواح میں 5 ہزار رہائشی، دفتری، تجارتی اور صنعتی عمارتوں کی تعمیر و نو سازی اور جنگی زخمیوں کے لیے 80 ہزار یونٹ خون کا عطیہ دینا شامل تھا۔⁠[14]

ایران کے خلاف عراق کی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اس صوبے سے 80 ہزار سے زائد افراد نے بسیج اور سپاہ میں، اور 20 ہزار سے زائد افراد نے جہادِ سازندگی، ہلالِ احمر اور (حکومتی) امدادی کمیٹی میں رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔ ان میں سے 8000 شہداء، 16 ہزار جنگی معذور۔۔ جانباز اور 970 اسیرانِ جنگ نے انقلابِ اسلامی کی راہ میں قربانی پیش کی۔⁠[15]

 حاج محمد طالبیان، آیت اللہ محمد علی حیدری، علی چیت سازیان، تقی بہمنی، محمد رضا فراہانی، حاج ستار ابراہیمی، حسن تاجوک، محسن عین علی، ابراہیم علی معصومی، حسین علی نوری، یونس گنجی، علی رضا حاجی بابائی، حاج رضا شکری پور، رسول حیدری اور مصیب مجیدی اس صوبے کے نامور شہداء ہیں۔⁠[16] ہمدان کے سب سے نمایاں شہید سردار حسین ہمدانی ہیں۔ شہید ہمدانی، سپاہِ ہمدان کے بانیوں میں سے تھے، وہ ڈویژن 32 انصار الحسین (ع) کے پہلے کمانڈر، ڈویژن 16 قدس گیلان کے کمانڈر، ڈویژن 27 محمد رسول اللہ (ص) کے کمانڈر، سپاہ کے قرارگاہِ ثار اللہ (ع) کے ڈپٹی کمانڈر، بسیج کے ڈپٹی کمانڈر اور شام میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار فورسز کے سینئر کمانڈر تھے۔ وہ اکتوبر 2015ء میں حلب کے مضافات میں مشاورتی مشن کے دوران داعشی دہشت گردوں کی ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے۔⁠[17]

کتابیں "دخترِ شینا"، "گلستانِ یازدهم" اور "آب ہرگز نمی میرد" دفاعِ مقدس کی وہ کتب ہیں جو صوبہ ہمدان کے شہداء کے گرد گھومتی ہیں اور رہبرِ انقلاب نے ان پر تقریظ لکھی ہے۔

صوبہ ہمدان کا "باغ موزہ دفاعِ مقدس" (یعنی وار میوزیم) عباس آباد کی پہاڑی کے علاقے میں سن 2010ء میں کھولا گیا تھا۔⁠[18]

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] اکبری، منوچہر، وصیت‌نامہ کامل شہدای استان ہمدان، ج 1، تہران، 2016، انتشارات شاہد، ص 25۔
  • [2] سابق
  • [3] سابق
  • [4] مرکزِ شماریاتِ ایران، نتائج تفصیلی سرشماری عمومی نفوس و مسکن 2016، تہران، 2018، ص 90۔
  • [5] ویب سائٹ 'مرکز اسناد انقلاب اسلامی'۔
  • [6] اکبری، منوچہر، سابق ، ص 28۔
  • [7] سابق
  • [8] ویب سائٹ 'مرکز اسناد انقلاب اسلامی'، نیوز کوڈ: 7207۔
  • [9] اکبری، منوچہر، سابق ، ص 28-29۔
  • [10] سابق ، ص 29۔
  • [11] سابق
  • [12] نیوز ایجنسی ارنا (IRNA) اور نیوز ایجنسی آئی آر آئی بی (IRIB)
  • [13] اکبری، منوچہر، سابق ، ص 29-30۔
  • [14] نیوز ایجنسی ایسنا (ISNA)، اکتوبر 2007 (مہر 1386)۔
  • [15] اکبری، منوچہر، سابق ، ص 30۔
  • [16] سابق
  • [17] ویب سائٹ 'مرکز اسناد انقلاب اسلامی'،گذری بر حیات سیاسی-اجتماعی سردار شہید حاج حسین ہمدانی، ( سردار ہمدانی کی سیاسی و سماجی زندگی پر ایک نظر)، نیوز کوڈ: 5231۔
  • [18] نیوز ایجنسی تسنیم ، https://tn.ai/1360616

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا