چالیسویں انفنٹری بریگیڈ سراب
40 ویں انفنٹری بریگیڈ ایران کے صوبہ اردبیل میں فوج کے زمینی دستوں کا ایک یونٹ ہے، جس نے عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں شرکت کی۔
سراب بریگیڈ 40 کی تشکیل کی تاریخ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام سے ملتی ہے۔ 1981میں سراب[1] کے مقام پر 199، 152، 175 اور 755 نمبر کی بٹالینز اور ایک بکتر بند سوار بٹالین کے الحاق سے بریگیڈ 40 کا قیام عمل میں آیا۔[2] اس کے بعد اس بریگیڈ کو جنوبی محاذ پر روانہ کیا گیا اور اپریل 1982 کے وسط تک یہ خوزستان میں دریائے کارون کے مشرقی کنارے پر بہمن شیر سے سلیمانیہ تک کے علاقے میں تعینات رہی اور وہاں دفاعی فرائض انجام دیے۔[3]
آپریشن فتح المبین مارچ/اپریل 1982 کے اختتام پر بریگیڈ 40 سراب کو قزوین کے 16 ویں ڈویژن کی دوسری بکتر بند بریگیڈ کی جگہ تعینات کیا گیا اور اس نے بستان اور چزابہ کے علاقوں کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالی۔[4]
آپریشن بیت المقدس مئی اور جون 1982 کے بعد آزاد شدہ علاقوں کی حفاظت اور اگلے آپریشن کی تیاری کے لیے[5] 31 مئی 1982 کو قائم «عج» آپریشنل ہیڈ کوارٹر فعال کیا گیا۔ اس مرکز کو دزفول کے مغرب، شوش اور موسیان سے لے کر آبنائے چزابہ تک کے علاقے کے دفاع کا کام سونپا گیا۔ خرم آباد کی 84 ویں بریگیڈ، 55 ویں ایئربورن بریگیڈ، شیراز کی 37 ویں بکتر بند بریگیڈ اور سراب کی 40 ویں انفنٹری بریگیڈ اس مرکز کے ماتحت کام کرنے والے یونٹس تھے۔[6]
11 اگست 1983 کو آپریشن والفجر-2 میں فتح کیے گئے علاقوں اور حاج عمران کے مغرب میں دفاعی پوزیشنوں کی حفاظت کے لیے بریگیڈ 40 سراب کا انتخاب کیا گیا۔ اس وقت تک یہ بریگیڈ خوزستان کے محاذ پر برسرِ پیکار تھی۔ اس بریگیڈ کی 708 ویں انفنٹری بٹالین کو اس علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔[7] نومبر/دسمبر 1986 میں بریگیڈ 40 سراب کو فوج کے 28، 30، 64 اور 23 ویں اسپیشل فورسز ڈویژنز کے ساتھ شمال مغربی ہیڈ کوارٹر کے ماتحت کر دیا گیا۔[8]
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے تسلسل میں بریگیڈ 40 سراب نے 1987 میں میمک کے مقام پر ایک آپریشن کی منصوبہ بندی کی۔ میمک کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے دشمن کی کوششوں کو ناکام بنانے اور دیگر محاذوں پر عراقی فوج کی توجہ منتشر کرنے کی خاطر 3 جون 1987 کو آپریشن نصر-2 شروع کیا گیا۔[9] اس آپریشن میں بریگیڈ 40 سراب نے 199 اور 152 ویں انفنٹری بٹالینز اور 175 ویں بٹالین کی ایک کمپنی (ریزرو) کے ساتھ حصہ لیا۔ اس کے علاوہ 348 ویں آرٹلری بٹالین، ایک انجینئرنگ کمپنی اور شہید طاہری بیس کی ایک جینڈرمیری بٹالین بھی کارروائی میں شامل ہوئی۔ اس آپریشن میں بریگیڈ 40 سراب کی کمانڈ کرنل سیا بخش نصیری زیبا کر رہے تھے۔[10]
آپریشن نصر-2 کے نتیجے میں عراق کی چوتھی ماؤنٹین بریگیڈ کی دو انفنٹری بٹالین مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ مجموعی طور پر چوتھی بریگیڈ 60 فیصد، کمانڈو بٹالین 40 فیصد اور 661 ویں و 663 ویں آرٹلری بٹالینز 50 فیصد تک تباہ ہوئیں۔ ٹینکوں کی ایک کمپنی مکمل ختم ہو گئی جبکہ 800 عراقی فوجی ہلاک و زخمی اور 22 قیدی بنا لیے گئے۔[11] اس آپریشن میں 400، 404 اور 396 نمبر کی بلندیوں سمیت عراق کی بیس مربع کلومیٹر زمین ایران کے قبضے میں آ گئی۔[12]
24 جولائی 1987 کو عراقی فوج نے 9 کمانڈو بریگیڈز، ٹینکوں کی دو بٹالینز اور آرٹلری کی 13 بٹالینز کی مدد سے حملہ کیا۔ دشمن نے 40 ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اپنے کمانڈو دستے میمک کی بلندیوں پر اتارے۔ آرٹلری کی 10 بٹالینز کی گولہ باری اور عراقی فضائیہ کی بمباری نے بریگیڈ 40 سراب کے لیے بحرانی صورتحال پیدا کر دی، جو وہاں دفاع کرنے والا واحد یونٹ تھا۔ آٹھ دن تک اس بریگیڈ نے بھرپور مزاحمت کی۔ میجر جنرل حسین حسنی سعدی کے حکم پر ہوابازی کے تین فائٹر اسکواڈ بریگیڈ 40 کی مدد کے لیے آئے۔ ہوابازی کی ان ٹیموں نے مسلسل پروازوں کے ذریعے دشمن پر ضربات لگائیں اور انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ انہوں نے زخمیوں کو طبی امدادی مراکز (اورنجس) منتقل کیا اور تازہ دم دستوں کو ہیلی برن کے ذریعے میدانِ جنگ پہنچا کر فوجیوں کی اسلحہ اور رسد سے تقویت کی۔[13] البتہ آخر کار دشمن میمک کی بلندیوں کے ایک حصے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔[14]
آپریشن نصر-6، یکم اگست 1987 کو شروع کیا گیا جس میں بریگیڈ 40 سراب سمیت فوج کی چھ بریگیڈز نے عراق کی 15 سے زائد بریگیڈز کا مقابلہ کیا۔ ابتدائی گھنٹوں میں ہی ایرانی فوجیوں نے بارودی سرنگوں کو عبور کر کے پہاڑی نمبر 670، پہاڑی نمبر 643، کلہ قندی اورٹیلہ شہداء پر قبضہ کر لیا۔ عراق نے 42 بار شدید جوابی حملے کیے لیکن 13 دن کی شدید لڑائی کے بعد آپریشن نصر-6، بریگیڈ 40 سراب اور دیگر یونٹس کی کامیابی اور میمک کی آزادی پر ختم ہوا۔[15]
بعد ازاں اس بریگیڈ نے شمال مغرب اور جنوب کے علاقوں میں 17 سے زائد آپریشنز میں شرکت کی۔[16] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اس بریگیڈ کے 1603 اہلکار شہید، 2 ہزار زخمی اور 1400 قیدی بنے۔[17] نائب بٹالین کمانڈر کے طور پر محمد باقر روحی کاشیکلائی اس بریگیڈ کے ممتاز شہداء میں سے ہیں جنہیں نشانِ فداکاری ملا۔[18]
جنگ کے بعد "طرحِ ثامن" کے تحت یہ بریگیڈ صوبہ اردبیل کے لیے مختص ہوئی۔ اب یہ "40 مستقل پیادہ بریگیڈ" کے نام سے اردبیل اور آذربائیجان شرقی میں تعینات ہے۔ اس کے ذمہ ملک کے شمالی ترین حصے اور بحیرہ خزر تک کی سرحدوں کا دفاع ہے۔[19] یہ بریگیڈ عوامی فلاحی کاموں، جیسے سیلاب، زلزلہ اور کرونا کی وباء کے دوران بھی پیش پیش رہی ہے۔[20] برگیڈیئر جنرل سیا بخش نصیری زیبا[21] اور برگیڈیئر جنرل محمد جوادی[22] اس کے نامور کمانڈر رہے ہیں، جبکہ اب اس کی کمانڈ کرنل سید علی نباتی کے پاس ہے۔[23]
منابع و ارجاعات:
- [1] «10 ہزار نیروی ارتشی در قالب طرح مردم یاری در مناطق سیل زدہ حضور دارند...»، پایگاہ خبری سبلان ما، 16 اپریل 2019، www.sabalanema.ir/news/80966.
- [2] اکبری پاک رو، سلمان، «تیپ 40 سراب»، ماہنامہ صف، شمارہ 426، اکتوبر/نومبر 2016، ص 39.
- [3] بختیاری، مسعود، عملیات بیتالمقدس و آزادسازی خرمشہر، تہران، ایران سبز، ویراست دوم، 2008، ص 26.
- [4] سابق، ص 82 و 83.
- [5] سابق، ص 155.
- [6] سابق، ص 138
- [7] اصلانی، علیاکبر، فرماندہ تکاور، تہران، ایران سبز، 2020، ص 221 و 222.
- [8] سابق، ص 337.
- [9] جعفری، محمد، اطلس نبردہای ماندگار، تہران، سورہ سبز، چاپ سی و پنجم، 2014، ص 139.
- [10] «شمشیر پیروزی برای تیپ 40 سراب»، خبرگزاری دفاع مقدس، 20 اکتوبر 2013، www.defapress.ir/fa/news/4807.
- [11] سابق
- [12] لطفاللہزادگان، علیرضا، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب چہل و نہم: تصویب قعطنامہ 598، تہران، مرکز اسناد دفاع مقدس، 2008، ص 50
- [13] اردشیرزادہ، کریم، حماسہهای ماندگار ہوانیروز در دفاع مقدس، تہران، نودید طراحان، چاپ اول، 2009، ص 144 و 145.
- [14] جعفری، محمد، سابق، ص 141.
- [15] «شمشیر پیروزی برای تیپ 40 سراب».
- [16] اکبری پاک رو، سلمان، سابق، ص 40.
- [17] «تیپ 40 ارتش در 16 عملیات دفاع مقدس مشارکت داشتہ است»، خبرگزاری مہر، 29 ستمبر 2021، www.mehrnews.com/news/5316555/.
- [18] «آیین اہدای نشان فداکاری بہ شہدای گردان 22 بہمن برگزار شد»، خبرگزاری مہر، 15 جون 2023، www.mehrnews.com/news/5811174/.
- [19] اکبری پاک رو، سلمان، سابق، ص 38.
- [20] «ارتش برای مھار کرونا ہمچنان در صحنہ است»، خبرگزاری مہر، 17 اپریل 2021، www.mehrnews.com/news/5191423
- [21] «پیکر جانباز شہید نصیری زیبا با حضور فرماندہ نیروی زمینی ارتش تشییع شد»، باشگاه خبرنگاران جوان، 27 جولائی 2013، www.yjc.ir/fa/news/448616.
- [22] «تجلیل از امیر سرتیپ محمد جوادی یادگار دفاع مقدس»، برگزاری دانشجویان ایران، 25 مئی 2017، www.isna.ir/news/hamedan-48528
- [23] «فرماندہ جدید تیپ 40 ارتش منصوب شد»، خبرگزاری بسیج، 26 فروری 2023، www.basijnews.ir/fa/news/9495237 ؛ «ارتش در اوج اقتدار و صلابت است»، خبرگزاری مہر، 18 اپریل 2023، www.mehrnews.com/news/5757823