ٹوپولوف طیارہ

ٹوپولوف بمبار طیارہ سابق سوویت یونین میں بنایا گیا تھا جس کے دو ماڈل، یعنی ٹی یو-16 اور ٹی یو-22، کی صورت میں تھے اوراسے عراق نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کے فوجی اور غیر فوجی اہداف پر بمباری کے لیے استعمال کیا۔

ٹوپولوف بمبار طیارہ ٹی یو-16نے، جو باجر کے نام سے معروف ہے، اپنی پہلی آزمائشی پرواز 1952ء میں کی اور 1954ء سے عملی خدمات میں آ گیا۔⁠[1] باجر کی ایک قسم خصوصی آلات کے ساتھ بحری شناسائی اور سمندری کھوج کے مشنوں کے لیے بھی بھیجی جاتی ہے۔⁠[2] ٹی یو-16 کی لمبائی تقریباً 36 میٹر، چوڑائی تقریباً 32 میٹر اور اونچائی 14 میٹر ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 992 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کی پرواز کی بلندی تقریباً 40 ہزار فٹ اور پرواز کی حد 5900 کلومیٹر ہے۔ یہ 9000 کلوگرام تک اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔⁠[3]

ٹوپولوف بمبار طیارے ٹی یو- 22نے، جو بلائنڈر کے نام سے معروف ہے، اپنی پہلی آزمائشی پرواز 1961ء میں کی اور 1963ء سے عملی خدمت میں آ گیا۔ یہ سوویت یونین کا پہلا مافوق الصوت بمبار طیارہ تھا اور فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔⁠[4] اس طیارے کی ایک قسم خصوصی آلات کے ساتھ بحری شناسائی اور سمندری اہداف کی تلاش کے مشنوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔⁠[5] بلائنڈر کی لمبائی تقریباً 40.5 میٹر، چوڑائی 23.7 میٹر اور اونچائی 10.6 میٹر ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 1.4 ماک، پرواز کی بلندی 60 ہزار فٹ اور پرواز کی حد 6500 کلومیٹر ہے۔⁠[6] یہ طیارہ 8000 کلوگرام تک اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔⁠[7]

عراق نے 1961ء میں ٹوپولوف ٹی یو-16 طیارے حاصل کیے۔⁠[8] ٹی یو-22 طیارے بھی 1974ء میں عراقی فضائیہ کا حصہ بنے۔⁠[9] ٹی یو-22 کی پہلی جنگی کارروائی بھی اسی سال عراق کے ناراض کردوں کے خلاف کی گئی۔

ایران پر جنگ مسلط کرنے سے پہلے، عراق کے پاس 8 عدد ٹی یو-16جہاز اور 14 عددٹی یو-22 جہاز تھے۔⁠[10] عراق میں موجود ٹوپولوف بمبار طیاروں کی فنی معاونت سوویت مشیروں پر منحصر تھی۔⁠[11] عراق کے وسیع حملے کے پہلے ہی روز یعنی 22 ستمبر 1980ء کو چار ٹوپولوف ٹی یو-22 جہاز وں نے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور پہلے شکاری اڈے پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دو فوجی طیارے تباہ ہوئے اور تین ترسیلی طیاروں اور بعض ہینگرز کو نقصان پہنچا۔⁠[12] دو عدد ٹی یو-22 جہازوں نے شیراز ایئرپورٹ پر حملہ کیا اور تین جہاز ٹی یو-16 اصفہان پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔⁠[13] ان میں سے ایک کوایلام کے قریب ایرانی فضائیہ نے مار گرایا جس میں اس کے عملے کے تمام افراد ہلاک ہو گئے۔⁠[14]

 7 نومبر 1980ء کو دو ٹوپولوف ٹی یو-22 جہاز اصفہان اور تہران پر بمباری کے ارادے سے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوئے؛ ان میں سے ایک نجف آباد، اصفہان کے نزدیک ہائی وولٹیج بجلی کے تاروں سے ٹکرا کر گر گیا، جبکہ دوسرا قم کی چھاونی منظریہ میں نصب فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔⁠[15]

والفجر-8 آپریشن کے دوران فروری 1986ء میں ٹوپولوف ٹی یو-16 اور ٹی یو-22 بمبار طیارے ایرانی افواج کے مورچوں پر بمباری کے لیے استعمال کیے گئے۔ 16 فروری 1986ء کو ایک ٹی یو-22 جہاز آبادان⁠[16] میں نصب ہاگ میزائل نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔⁠[17]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ٹی یو-16 اور ٹی یو-22 طیاروں کو سابق سوویت یونین کے ساختہ اے۔ایس-6 اینٹی شپ میزائلوں سے بھی لیس کیا گیا تھا۔⁠[18] عراق نے ٹوپولوف ٹی یو-16 بمبار طیاروں سے داغے جانے والے بھاری بم بھی حاصل کیے تھے جن کا وزن تقریباً 9000 کلوگرام تھا اور ان میں 4000 کلوگرام ٹی این ٹی موجود تھا۔⁠[19]

مجموعی طور پر عام جنگی کارروائیوں میں ٹی یو-22 بمبار طیاروں کی باربرداری کی صلاحیت اور بمباری کی درستگی دوسرے جدید جنگی بمبار طیاروں سے زیادہ مختلف نہ تھی۔ البتہ ٹی یو-16 بمباری طیارے اس قدر کمزور تھے کہ عراقی فوج انہیں شاذ و نادر ہی نفوذی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی تھی۔⁠[20]

سن 1987ء میں عراقی فضائیہ نے چین سے چار عدد بی-6 بمبار طیارے، جو ٹی یو-16 کا چینی نمونہ تھے، اور 30 سے 50 عدد "کرم ابریشم" اینٹی شپ میزائل ایران کے تیل بردار جہازوں اور تجارتی کشتیوں کے خلاف استعمال کے لیے خریدے۔⁠[21] یہ "کرم ابریشم" فضا سےزمین پر مار کرنے والا میزائل تھا، جسے سی-601 کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔⁠[22] 5 فروری 1988ء کو عراق کے پہلے حملے میں سی-601 میزائل کے ذریعے “ایران انتخاب” نامی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔⁠[23] مجموعی طور پر ایران کے 14 تیل بردار بحری جہاز سی-601 میزائلوں، یعنی بی-6 طیاروں کا نشانہ بنے۔⁠[24]

آٹھ سالہ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران، چار عدد بلائنڈر ٹی یو-22 طیارے ایران کے ٹامکیٹ طیاروں، یعنی ایف-14، اور ہاگ میزائلوں کی فائرنگ سے تباہ کیے گئے، اور تین عدد ٹی یو-16 جہاز بھی راپیر میزائلوں، یعنی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے منہدم ہوئے۔ تین جہازوں کو شدید نقصان پہنچا، تاہم وہ عراق میں ہنگامی لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔⁠[25]

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] نمازی، محمود و دیگران، هواپیماشناسی، تهران، چاپخانه نیروی هوایی ارتش، 1992، ص 252
  • [2] سابق، ص 253.
  • [3] سابق، ص 254 و 255.
  • [4] سابق، ص 257.
  • [5] سابق، ص 258
  • [6] سابق، ص 259
  • [7] سابق، ص 260.
  • [8] بابامحمودی، مهدی، «داستان یک کانوپی، بخش دوم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 241، August and September 2011، ص 13
  • [9] بابامحمودی، مهدی، «هشت سال جنگ تحمیلی در آسمان، بخش سیزدهم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 242، October 2011، ص 23.
  • [10] تاریخ نبردهای هوایی دفاع مقدس، ج 1: تا آغاز تهاجم سراسری، تهران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، چاپ اول، 2014، ص 333.
  • [11] بابا محمودی، مهدی، «داستان یک کانوپی، بخش سوم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 242، October 2011، ص 46.
  • [12] هیئت تدوین تاریخ دفاع مقدس، تقویم مستند عملکرد نیروی الهی هوایی ارتش جمهوری اسلامی ایران، ج 3، October 1980، تهران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2018، ص 10 و 11
  • [13] ترابی، مجید، «میراژهای عراقی در نبرد: بخش سوم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 327، April 2020، ص 41.
  • [14] السامرایی، وفیق، ویرانه دروازه شرقی، مترجم: عدنان قارونی، تهران، مرکز فرهنگی سپاه، 1998، ص 57.
  • [15] موسوی، اسماعیل و دیگران، تقویم مستند عملکرد نیروی الهی هوایی ارتش جمهوری اسلامی ایران، ج 4، November 1980، تهران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2018، ص 104 و 105.
  • [16] زاهدی مطلق، ابراهیم، شلیک به آسمان، تهران، سوره مهر، 2017، ص 209 تا 213.
  • [17] بابامحمودی، مهدی، «داستان یک کانوپی، بخش چهارم»، ماهنامه صنایع هوایی، ش 243، November 2011، ص 20.
  • [18] کردزمن، آنتونی و ابراهام واگنر، درس‌های جنگ مدرن، جنگ ایران و عراق، مترجم حسین یکتا، ج 2، تهران، نشر مرز و بوم، 2011، ص 512.
  • [19] سابق، ص 407 و 408.
  • [20] سابق، ص 397.
  • [21] بابامحمودی، مهدی، «داستان یک کانوپی، بخش چهارم»، ص 21.
  • [22] ناویاس، مارتین اس و ای.آر هوتن، جنگ نفت‌کش‌ها، ترجمه از پژمان پورجباری و رحمت قره، تهران، بنیاد حفظ آثار و ارزش‌های دفاع مقدس، 2013، ص 312
  • [23] سابق، ص 315.
  • [24] سابق، ص 315 و 316.
  • [25] بابامحمودی، مهدی، «داستان یک کانوپی، بخش چهارم»، ص 22

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا