وحدتی شکاری بیس نمبر 4

وحدتی نامی، چوتھی شکاری ایئر بیس، شمالی خوزستان میں دزفول شہر کے مغرب میں واقع ہے اور یہ دفاعِ مقدس کے دوران صوبہ خوزستان کے اہم ترین فوجی مراکز میں سے ایک تھی۔

وحدتی ایئر بیس کی تاریخ دوسری جنگ عظیم سے ملتی ہے۔ اس جنگ کے دوران اتحادی افواج نے سوویت یونین (روس) کی مدد کے لیے دزفول میں ایک اڈہ تعمیر کیا تھا، جو اتحادیوں کے انخلاء کے بعد ایرانی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ 1956 میں اس مقام پر ایک فضائی اڈے کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی گئی۔ دو سال بعد اڈے کے کچھ حصے تیار ہو گئے اور 26 نومبر 1959 کو ایرانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں کے پہلے دستے نے یہاں لینڈنگ کی۔ مزید دو سال بعد تعمیراتی کام مکمل ہونے پر یہ اڈہ باقاعدہ طور پر فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا۔⁠[1]

مارچ 1961 میں دزفول ایئر بیس کا نام باقاعدہ طور پر تبدیل کر کے " وحدتی" رکھ دیا گیا۔ " وحدتی" فضائیہ کے ان دو پائلٹ بھائیوں کا خاندانی نام (Surname) تھا جو دو مختلف حادثات میں جاں بحق ہوئے تھے۔⁠[2]   شروع میں یہاں F-84 اور پھر F-86 جنگی طیارے تعینات کیے گئے۔⁠[3]   1968 سے وحدتی بیس نے F-86 طیاروں کی جگہ جدید F-5 طیاروں کی وصولی شروع کی اور دسمبر 1970 تک تمام تنظیمی F-5 طیارے اس اڈے کے حوالے کر دیے گئے۔⁠[4] 1971 میں ملک میں نئے فضائی اڈوں کی تعمیر کے ساتھ، فضائیہ کی نئی تقسیم بندی میں اس کا نام تبدیل کر کے " پایگاہِ چہارمِ شکاری وحدتی" یعنی " وحدتی   شکاری ایئر بیس نمبر 4" رکھ دیا گیا۔⁠[5]

ستمبر 1980 میں وحدتی بیس کے پاس 76 عدد F-5 جنگی طیارے اور 63 پائلٹ موجود تھے۔⁠[6] عراق کے حملے کے آغاز کے ساتھ ہی اس اڈے نے دشمن کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دشمن کے خلاف دفاعی کارروائیاں ستمبر 1980 میں سرحدی جارحیت کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھیں۔ پائلٹ محمد زارع نعمتی 18 ستمبر 1980 کو فکہ کے سرحدی علاقے کے جنوب میں عراقی افواج کی فضائی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا طیارہ گرنے کے باعث شہید ہو گئے۔ اسی دن حسین لشگری بھی مہران کے قریب سرحدی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے طیارہ نشانہ بننے کے باعث دشمن کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرے اور اسیر ہو گئے، وہ 18 سال بعد رہا ہوئے۔⁠[7]

23 ستمبر 1980 کو ایران کا پہلا بڑے پیمانے پر فوجی ردِعمل سامنے آیا۔ " آپریشن البرز" (جو کمان 99 کے نام سے مشہور ہوا) کے دوران مجموعی طور پر 343 پروازیں کی گئیں، جن میں سے 217 سرحد پار (دشمن کے علاقے میں) مشن تھے، جبکہ 128 پروازیں مسلح فضائی نگرانی، قریبی فضائی مدد (Close Air Support) اور فضائی فوٹو گرافی کے لیے تھیں۔ اس آپریشن میں وحدتی بیس کا حصہ 55 سرحد پار مشن تھے۔⁠[8]

جنگ کے پہلے مرحلے میں ایرانی فضائیہ (نہاجا) کے کمانڈروں اور ڈیزائنرز نے وحدتی بیس کی زیادہ تر پروازوں اور جنگی مشنوں کو شمالی خوزستان میں دشمن کی گراؤنڈ بٹالینز کی پیش قدمی روکنے، انہیں وہیں ٹھہرانے اور دریائے کرخہ کے مغرب میں دزفول کے علاقے میں بعثی فوج کی بمباری کے لیے مختص کیا۔ ان کارروائیوں پر فضائیہ کو سنگین نتائج اور بھاری نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 5 عدد F-5 طیارے تباہ ہوئے اور 5 پائلٹ شہید ہوئے۔ یہ دورانیہ تقریباً چالیس دن تک جاری رہا، جس میں دشمن کی بڑی افواج نے بارہا حملے کیے تاکہ پلِ نادری اور دریائے کرخہ کو عبور کر کے شوش اور اندیمشک جیسے شہروں پر قبضہ کر لیں اور خوزستان کی " شہ رگ" کو بند کر دیں۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ملک کے دیگر حصوں سے خوزستان تک امداد پہنچانا انتہائی دشوار ہو جاتا۔ اسی لیے ایرانی افواج نے اس علاقے کو پہلی ترجیح دی۔⁠[9]   اس صورتحال کے پیشِ نظر، پائلٹوں نے مسلسل پروازوں اور دشمن پر بمباری کے ذریعے انہیں دریائے کرخہ عبور کرنے سے روک دیا۔ اس دوران وحدتی ایئر بیس خود بھی فضائی بمباری، توپ خانے کی آگ اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے نشانے پر رہا۔ دشمن کی فرنٹ لائن سے وحدتی بیس کا فاصلہ اتنا کم تھا کہ ایک جنگی طیارے کو اڑان بھرنے کے بعد بمباری کے مقام تک پہنچنے میں صرف چند منٹ لگتے تھے۔⁠[10] بہرحال، ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر 31 اکتوبر کو جارح افواج شمالی خوزستان میں رکنے اور پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں۔⁠[11]

جنگ کے تسلسل کے ساتھ ہی، خوزستان سے دشمن کو نکالنے کے لیے وحدتی بیس نے فضائی مدد (Air Support) میں مزید فعال کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر آپریشن ثامن الائمہ (اکتوبر 1981 میں آبادان کا محاصرہ ختم کرنے کے لئے کئے جانے والے آپریشن) میں وحدتی بیس نے دو اسکواڈرن (41 اور 42) کے ساتھ شرکت کی۔ آپریشن طریق القدس (دسمبر 1981 میں بستان اور مغربی خوزستان کی آزادی) میں ایک انٹرسیپٹر اسکواڈرن اور ایک F-5 بمبار گروپ کے ساتھ، اور آپریشن بیت المقدس (مئی 1982 میں خرم شہر اور جنوب مغربی خوزستان کی آزادی) میں سکواڈرن 41 کے F-5 طیاروں کے ذریعے حصہ لیا۔⁠[12]

وحدتی بیس نے مسلط شدہ جنگ کے دوران طیاروں کے 65 فیصد نقصانات کے ساتھ سب سے زیادہ پائلٹ شہید دیے۔⁠[13]

دفاعِ مقدس کے دوران وحدتی ایئر بیس کے نمایاں شہداء میں تورج یوسف، سید شہاب الدین طباطبائی، فیروز شیخ حسنی، غلام حسین عروجی، چنگیز سپہر، نصراللہ اصیل ادب، حسین بہرام، ہادی جوریکی، منصور ناظریان، محمد علی فرزین، حمید فضیلت، محمد زارع نعمتی، کامبخش ضیائی، حسین مقیمی، جہاں بخش منصوری، مصطفی مرتضائی، فتح علی غلام رضائی اور اصغر صدری نوشاد کے نام شامل ہیں۔⁠[14]

وحدتی بیس کا ہسپتال بھی دفاعِ مقدس کے دوران مسلح افواج کے زخمیوں کے علاج اور انہیں دیگر طبی مراکز منتقل کرنے کے حوالے سے بہت فعال رہا۔ 22 ستمبر 1980 سے جنگ کے خاتمے تک اس ہسپتال میں 19 ہزار زخمیوں کا علاج کیا گیا۔⁠[15]

دفاعِ مقدس کے دوران بالترتیب محمد رضا تابش فرد، عباس عابدین، علی گیلانی، علی رضوانی، سید اسماعیل موسوی اور حبیب بقائی جنگ کے اختتام تک وحدتی بیس کی کمان سنبھالتے رہے۔ اس وقت (ایئر کموڈور) بریگیڈیئر جنرل پائلٹ جواد ولدی بیس کمانڈر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔⁠[16]

مسلط شدہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی وحدتی بیس نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور آلات و ساز و سامان کی تعمیرِ نو کو ترجیح دی گئی۔ " آذرخش" نامی پروجیکٹ (F-5 جنگی طیاروں کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن) کے تحت متعدد F-5 طیاروں کی مرمت اور انہیں جدید بنایا گیا۔ اس وقت وحدتی بیس F-5 طیاروں کے تین ٹیکٹیکل اور ٹریننگ سکواڈرنز کے ساتھ صوبہ خوزستان کا اہم ترین فضائی اڈہ ہے۔⁠[17]   2002 سے، نوروز کی تعطیلات کے دوران وحدتی بیس میں " راہِیانِ نور" ایئر شو منعقد کیا جاتا ہے، جس میں مختلف اقسام کے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور فضائی آلات کی نمائش کے ساتھ ساتھ F-5 طیاروں کی پروازوں کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔⁠[18]

 

 


حوالہ جات

  • [1]. نمکی، علی رضا اور حسین خلیلی، " تاریخِ نبردہائے ہوائیِ دفاعِ مقدس - جنگ با تانک ہا"، جلد 5، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا (ایئر فورس پبلشنگ سینٹر)، 2017 (1396)، ص 31 اور 32۔
  • [2]. طلوعی، مرتضی، " تاریخِ نیرویِ ہوائیِ شاہنشاہی - از افسانہ تا حقیقت"، تہران، ستاد فرماندهی نیروی هوایی (سٹاف ہیڈ کوارٹرز ایئر فورس)، 1976، ص 52
  • [3]. نمکی، علی رضا اور حسین خلیلی، ایضاً، ص 32
  • [4]. دہباشی، حسین، " فرماندہی و نافرمانی - خاطراتِ سپہبد خلبان شاپور آذر برزین"، تہران، سازمان اسناد و کتابخانه ملی ایران, (نیشنل لائبریری اینڈ آرکائیوز آف ایران)، 2014، ص 37 اور 38
  • [5]. نمکی، علی رضا اور حسین خلیلی، ایضاً، ص 32۔
  • [6]. گروہِ مؤلفین، " تاریخِ دفاعِ مقدسِ ہوائی"، تاریخِ نبردہائے ہوائی، جلد 1، ص 391
  • [7]. شیر محمد، محسن، " پایداریِ وحدتی: تاریخِ پایگاہِ چہارمِ شکاری دزفول"، جلد 1، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2022، ص 105-110؛ گروہِ مؤلفین، " تاریخِ نبردہائے ہوائی"، جلد 1، تہران، مرکزِ مطالعاتِ راہبردی نہاجا، 2014، ص 312 تا 318
  • [8]. هیئت تدوینِ تاریخِ دفاعِ مقدس، " تقویمِ مستندِ عملکردِ نیرویِ ہوائیِ ارتشِ جمہوری اسلامی ایران"، جلد 3، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2018، ص 63
  • [9]. شیر محمد، محسن، ایضاً، ص 14 اور 15؛ نمکی، علی رضا، " نیرویِ ہوائی در دفاعِ مقدس"، تہران، ایرانِ سبز، 2010، ص 161۔
  • [10]. شیر محمد، محسن، ایضاً، ص 14 اور 15۔
  • [11]. شیر محمد، محسن، ایضاً، ص 14 اور 15۔
  • [12]. نمکی، علی رضا، ایضاً، ص 177، 178، 212 اور 251
  • [13]. تقوائی، بابک، " پایگاہِ وحدتی و گزارش تصویریِ نمایشگاہِ ہوائیِ راہِیانِ نور"، ماہنامہ صنایعِ ہوائی، شمارہ 249، مئی 2012، ص 49۔
  • [14]. شیر محمد، محسن، ایضاً، ص 425-429۔
  • [15]. محمد زادہ سلحشور، مجید، " اطلسِ جامعِ نقشِ ادارہ بہداشت، امداد و درمانِ نہاجا در دفاعِ مقدس"، تہران، سورہ سبز، 2016 (1395)، ص 52
  • [16]. تسنیم نیوز ایجنسی، 28 جولائی 2021، " دزفول ایئر بیس کے نئے کمانڈر کا تقرر"، www. tasnimnews. com/fa/news/1400/05/06/2545370
  • [17]. تقوائی، بابک، ایضاً، ص 49 اور 50
  • [18]. ایضاً، ص 45

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع