صوبہ ہرمزگان

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران، خلیج فارس کے اسٹریٹجک جزائراور آبنائے ہرمز کی موجودگی کے باعث ہرمزگان صوبہ ملک کی معیشت کے لیے رسد فراہم کرنے اور جنگی پشت پناہی انجام دینےکے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا تھا۔

صوبہ ہرمزگان ، جس کا مرکز بندرعباس ہے، ایران کے جنوب میں، خلیج فارس کے شمالی کنارے اور بحرِ عمان کے ایک حصے میں واقع ہے۔⁠[1] شمال میں اس کی سرحد صوبہ کرمان سے، مشرق میں دو صوبوں کرمان اور سیستان بلوچستان سے، اور مغرب میں صوبہ بوشہر سے ملتی ہے۔ جنوب مشرق میں بحیرہ مکران اور جنوب و جنوب مغرب میں خلیج فارس اس صوبے کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھتے ہیں۔⁠[2]

1390 کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی پندرہ لاکھ سے زیادہ تھی۔ اس صوبے کی آب و ہوا شمال اور شمال مشرق میں گرم و خشک، اور جنوب اور جنوب مغرب میں گرم و مرطوب ہے۔ اس صوبے میں تیرہ شہر ہیں جن کے نام یہ ہیں: ابوموسی، قشم، بستک، بشاگرد، سیریک، جاسک، میناب، رودان، خمیر، پارسیان، بندرعباس، بندرلنگہ اور حاجی‌آباد۔ نیز اس میں چودہ جزائر شامل ہیں جن کے نام قشم، ہرمز، لارک، هنگام، کیش، لاوان، سیری، فارور بزرگ و کوچک، ہندورابی، شتور، ابوموسی اور تنب بزرگ و تنب خورد ہیں اور یہ سب خلیج فارس میں واقع ہیں۔⁠[3] ہرمزگان کے لوگوں کے عام روزگار میں زراعت، ماہی گیری اور تجارت شامل ہیں۔ اس صوبے میں تیل، گیس، کرومائٹ، فولاد، ایلومینیم، سرخ مٹی اور دیگر معدنیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری نقل و حمل اور ماہی پروری کے میدان میں بھی ہرمزگان کو خاص اقتصادی حیثیت حاصل ہے۔⁠[4] 1967 میں خلیج فارس و بحرِ عمان کے ساحلوں پر واقع جزائر اور بندرگاہوں کی سرپرستی، بندرعباس کو دے دی گئی اور پھر 27 ستمبر 1976 کو آبنائے ہرمز کی مناسبت سے اس صوبے کا نام “ہرمزگان” رکھا گیا۔⁠[5]

22 ستمبر 1980 کوعراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ہرمزگان کی اہمیت اس لیے بھی مزید بڑھ گئی کہ اس کے پاس بحرِ مکران سے لے کر خلیج فارس تک ڈیڑھ ہزار کلو میٹر ساحلی پٹی موجود تھی، اور اس میں سیری، ہرمز، ابوموسی اور تنب بزرگ و خورد جیسے اہم جزائر شامل تھے۔ خرمشہر اور آبادان کی بندرگاہیں، جو ایران کی اصلی بندرگاہیں تھیں، دشمن کے حملوں کی زد میں آگئیں؛ اسی وجہ سے بندرعباس نے شہید باہنر اور شہید رجائی جیٹیوں کے ذریعے ملک میں سامان کی درآمد کی ذمہ داری سنبھال لی اوریہ خوزستان کی دونوں بندرگاہوں کا متبادل ذریعہ بن گیا۔ محاذِ جنگ سے دور ہونے کے باعث یہ صوبہ خود جنگی محاذ کی پشتپناہی کے لیے بھی بہت مناسب قرار پایا اور یہ امر اوائلِ جنگ میں اس وقت عملی صورت اختیار کر گیا جب جزیرہ ہرمز پر جہاد سازندگی(ادارہ تعمیر وطن) کے جنگی پشتیبانی ہیڈ آفس کی جانب سے ایک معاون شعبہ قائم کیا گیا ۔

ہرمزگان کے مجاہدین کا پہلا دستہ 14 نومبر 1980کو محاذ پر روانہ ہوا۔⁠[6] ہرمزگان کا سپاہ ڈیپارٹمنٹ ملک کے چھٹے علاقے کی سپاہ کا حصہ تھا، جو صوبہ کرمان کی مرکزیت کے ساتھ ڈویژن 41 ثاراللہ کے قالب میں سرگرم تھا⁠[7] یہاں تک کہ 21 مارچ 1986 کو بٹالین 422 الزہرا سلام اللہ علیہا، یعنی ہرمزگان کے مجاہدین کی مخصوص بٹالین، منصور نبی‌زاده نے قائم کی۔⁠[8] ہرمزگان کے مجاہدین پانی سے واقف ہونے کے باعث آبی-خاکی آپریشنز میں شریک رہے۔ اس صوبے کے ملاحوں نے خیبر اور والفجر 8 عملیات میں اور اس صوبے کے غوطہ خوروں نے کربلا 4 اور 5 آپریشنز میں مؤثر کردار ادا کیا۔⁠[9] اسی طرح زمینی آپریشنز میں وہ ڈویژن 41 ثاراللہ علیہ‌السلام، 19 فجر، امام حسین علیہ‌السلام اوربریگیڈ 33 المہدی عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مجاہدین کی صورت میں شریک رہے⁠[10] اور فتح المبین اور طریق‌القدس جیسے اہم آپریشنز میں بھی حصہ لیا۔ اس صوبے کے مجاہدین اکثر آپریشنل علاقوں میں موجود رہے، جن میں زید چھاونی، خرمشہر، آئل رجز، جزیرہ خارک، فکہ، شرق دجلہ، زبیدات، بستان، دشت عباس، کرخه نور، چزابه، ام‌الرصاص، الصخره، شط‌علی، جزایر مجنون، مریوان، قصرشیرین اور سقز شامل ہیں۔

سمندری محاذ پر ہرمزگان صفِ اوّل میں تھا۔ صوبے کے مجاہدین آبنائے ہرمز میں، جہاں بعثی حکومت کے تجارتی بیڑے اور اس کے علاقائی حامیوں جیسے کویت اور سعودی عرب، نیز امریکی جارح بحری بیڑے کی آمد و رفت ہوتی تھی، تیز رفتار ہلکی کشتیوں کے ذریعے سمندری کارروائیاں کرتے اور دشمن اور اس کے حامیوں کے لیے ماحول کو غیر محفوظ بنا دیتے تھے۔⁠[11] ان اقدامات کی انتہا 18 اپریل 1988 کو ہوئی۔ اس روز امریکی بحری بیڑے نے لاوان جزیرے کے جنوب میں واقع سلمان تیل پلیٹ فارم اور سیری جزیرے کے جنوب مشرق میں واقع نصر تیل پلیٹ فارم پر حملہ کیا۔ یہ دونوں پلیٹ فارم ہرمزگان صوبے کی حدود میں تھے۔⁠[12] جواب میں صوبے کی سپاہِ پاسداران بحریہ کی تیز رفتار کشتیوں نے ابوموسی جزیرے سے مبارک تیل پلیٹ فارم اور چند دیگر اہداف پر حملہ کیا⁠[13] اور بحری فوج کے پہلے زون سے وابستہ جنگی بحری بیڑے جیسے سہند اور سبلان، نیز جوشن نامی جنگی کشتی دشمن سے الجھ گئے۔ اس معرکے کے دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، جوشن کشتی اور بحری بیڑا سہند غرق ہو گئے، جبکہ سبلان نامی بحری بیڑے کو نقصان پہنچا۔⁠[14] اس کارروائی کے شہدا میں جنگی کشتی جوشن سے شہید علی زارع نعمتی اور ابراہیم حرآبادی، اور سہند بحری بیڑے سے شہید عباس عفیفه، حمید قهرمانی ارجاسی اور رضا سلطانی شامل ہیں۔⁠[15] اسی طرح سپاہِ پاسدارانِ بحریہ کے شہید اسدالله رئیسی اور اسحاق دارا کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے امریکی کوبرا ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا تھا۔⁠[16] 12 جولائی 1988کو 10:22 بجے ایران کا ایک مسافر بردار طیارہ، جو بندرعباس سے دبئی جارہا تھا، آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہاز وینسنس کے حملے کا نشانہ بنا، اور عملے سمیت اس کے تمام 290 مسافر شہید ہو گئے۔⁠[17] شہدا کے اجساد نیوی اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ، فوج کی بحریۂ اور عوامی حلقوں نے سمندر سے نکالا اور بندر عباس منتقل کر دیا۔⁠[18]

دفاعِ مقدس کے دوران بندرعباس جنگ زدہ مہاجرین کی بھی میزبانی کرتا رہا۔ یہ مہاجرین، جن کی اکثریت خوزستان سے تھی، محلہ 22 بہمن میں آباد کیے گئے۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران 1248 شہدا، 2476 جنگی معذور اور 341 آزاد شدہ قیدیوں کی میزبانی کا سہرا صوبہ ہرمزگان کے سر ہے ۔ جزیرہ ہرمز 39 شہدا کے ساتھ آبادی کے تناسب سے ملک بھر میں سب سے زیادہ شہدا رکھنے والا جزیرہ ہے۔⁠[19] ہرمزگان کے شہدا میں شہیدہ فاطمہ نیک کا نام قابل ذکر ہے۔ ان کے نو رشتہ دار، جن میں ان کے تین بیٹے بھی شامل تھے، جنگی محاذوں پر شہید ہوئے۔ خود وہ بھی 1987 میں خانۂ کعبہ کے زائرین پر سعودی حکومت کے حملے کے المیے میں، مشرکین سے براءت کے جلوس کے دوران شہید ہوئیں، اور انہیں “ام الشہداۓ ایران” کا لقب ملا۔⁠[20] اسی طرح شہید علی رضا آرمات، میناب کے بسیجی مجاہد؛ شہید علی حاجبی، ڈویژن ثاراللہ کے نائب ہیڈ؛ شہید غلام شاه ذاکری، جزیرہ قشم میں سپاہ کے کمانڈر اور پائلٹ شہید مسعود محمدی، بندرعباس ایئر بیس کے اسکواڈرن 91 کے کمانڈر، قابلِ ذکر ہیں۔⁠[21]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ہرمزگان صوبے کی ترقی کا عمل شروع ہوا۔ 1992 میں قشم میں اسفنجی لوہے(sponge iron) کے کارخانے کی تعمیر شروع ہوئی، اور 1993 میں بندرعباس آئل ریفائنری کو استعمال میں لایا گیا۔⁠[22] ہرمزگان ایلومینیم اور سیمنٹ فیکٹری، نیز ایران شپ‌سازی و صنایع فراساحل (offshare)کمپنی، اُن دیگر صنعتوں میں شامل ہیں جو جنگ کے بعد قائم ہوئیں۔ بندرعباس کے مغربی حصے میں قائم صنعتیں اور اس صوبے کی اسٹریٹجک حیثیت ہرمزگان کو ایران کا اقتصادی مرکز بنا چکی ہیں۔ جولائی 2019 میں بندرعباس بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام "یادمانِ شهدای پرواز 655" رکھا گیا، اور جون 2020 میں جزیرہ ہرمز کی سرحدی محافظت کے شہدا کی یادگار کی رونمائی کی گئی۔ بندرعباس کے مشرقی ساحل پر ، شہر کے ایئر پورٹ کے قریب مسافر بردار طیارے کے شہدا کی یادگار کی تعمیر کا کام ابھی جاری ہے۔⁠[23]

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] سائبانی، احمد، جغرافیای تاریخی ہرمزگان، بندرعباس: نسیم بادگیر، 2020، ص20
  • [2] افشار سیستانی، ایرج، استان ہرمزگان، تهران: ہیرمند، ص69۔
  • [3] سائبانی، احمد، سابق، ص26-21
  • [4] محمدیان کوخردی، محمد، شهرستان بستک و بخش کوخرد، ج1، دبئی، 2005۔
  • [5] افشار سیستانی، ایرج، سابق، ص111 و 112۔
  • [6] روزنامه صبح ساحل، سال بیست‌وپنجم، شمارہ 4144، ہفتہ،26 ستمبر 2020، ص2
  • [7] میرزایی، عباس، اطلس یگانی لشکر 41 ثاراللہ علیہ‌السلام در 8 سال دفاع مقدس، تهران: مرکز چاپ اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2016، ص8۔
  • [8] کیخا، علی، نبرد فاوالبحار، بندرعباس: رسول، 2021، ص37
  • [9] فصلنامہ خط‌شکنان خلیج فارس، سال اول، شمارہ 2، زمستان 2015، ص12 و 14۔
  • [10] روزنامه صبح ساحل، سابق
  • [11] دفتر پژوهش‌های فرهنگی بنیاد شہید و امور ایثارگران، فرهنگ اعلام شہدا استان ہرمزگان، تهران: شاهد، 2014، ص43۔
  • [12] دانشنامه عملیات‌های ماندگار نیروی دریایی راهبردی ارتش جمهوری اسلامی ایران در دوران دفاع مقدس، تهران: سوره مهر، 2019، ص213 با اضافات
  • [13] اقدامات و نتایج عملیات نیروی دریایی ارتش جمهوری اسلامی ایران در مقابله با تجاوزات و مداخلات عراق و نیروهای فرامنطقه‌ای در خلیج فارس، سلیمانی سوادکوهی، شاهرخ، تهران: دافوس، 2018، ص326۔
  • [14] دانشنامه عملیات‌های ماندگار نیروی دریایی راهبردی ارتش جمهوری اسلامی ایران در دوران دفاع مقدس، ص208 و 212 و 213 با اضافات۔
  • [15] سابق، ص400 و 403۔
  • [16] فصلنامہ خط‌شکنان خلیج فارس، سابق، ص14 با اضافات۔
  • [17] ماہنامہ صنایع هوایی، سال بیست و ششم، شمارہ 298، July 2016، ص26 و 27۔
  • [18] فصلنامہ خط‌شکنان خلیج فارس، سابق، ص33۔
  • [19] دفتر پژوهش‌های فرهنگی بنیاد شہید و امور ایثارگران، سابق
  • [20] بغلانی، محسن، متولد ماہِ مهر، قصہ دخترای خوب، ج1، تهران: قدر ولایت، 2018، ص33 و 34
  • [21] فصلنامہ خط‌شکنان خلیج فارس، شمارہ 8، پاییز 2017، ص23
  • [22] افشار سیستانی، ایرج، سابق، ص396۔
  • [23] فصلنامہ خط‌شکنان خلیج فارس، پیوستِ راهیان نور دریایی

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا