شام
جمہوریہ عربی شام، ایران پر مسلط کردہ عراقی جنگ کے دوران اپنے اسلحے اور سفارتی تعاون کی بدولت ایران کے اہم ترین حامیوں میں سے رہا۔
شام کا کل رقبہ 185,180 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی 22 ملین سے زائد ہے۔ یہ ملک مغربی ایشیا اور بحیرہ روم کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا دارالحکومت دمشق ہے۔ شام کی سرحدیں شمال میں ترکی، مغرب میں لبنان اور بحیرہ روم، جنوب میں اردن اور مقبوضہ فلسطین (صہیونی ریاست) اور مشرق میں عراق سے ملتی ہیں۔ اس خطے کا ایک حصہ 635ء میں مسلمانوں کے زیرِ اثر آیا اور 636 میں معرکہ یرموک کے بعد پورا شام اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا۔ پہلی جنگ عظیم تک یہ ملک سلطنتِ عثمانیہ کے قبضے میں رہا، جس کے بعد عثمانیہ دور ختم ہوا اور یہاں دو حکومتیں قائم ہوئیں: ساحلی علاقوں میں فرانسیسی حمایت یافتہ حکومت اور اندرونی حصوں میں امیر فیصل کی سربراہی میں عرب حکومت۔[1]
ستمبر 1941 میں شام نے آزادی حاصل کی اور اگست 1943ء میں پہلے صدارتی انتخابات کے بعد شکری القوتلی صدر منتخب ہوئے۔ 5 جون 1967ء کو صہیونی ریاست نے شام پر حملہ کر کے دمشق سے 40 میل دور جنوب میں واقع شہر قنیطره اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔[2] 16 نومبر 1970 کو حافظ اسد نے " صلاح جدید" کی حکومت کے خلاف بغیر کسی خون خرابے کے بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھال لیا۔[3] اکتوبر 1973ء میں شام اور مصر نے 1967ء کی جنگ میں کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کے لیے اسرائیل پر حملہ کیا؛ اگرچہ مصر نے بعد میں اس ریاست سے مصالحت کر لی، مگر شام قنیطره شہر واپس لینے میں کامیاب رہا۔[4]
ایران میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی پر حافظ اسد نے ایرانی حکام کو مبارکباد دی اور انقلاب کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔[5] جنگ شروع ہونے سے چند ماہ قبل جدہ میں ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس میں، جب اکثر عرب ممالک عراق کے حامی تھے، شام اور لیبیا نے ایران کا ساتھ دیا۔[6]
ایران عراق جنگ کے آغاز میں شام کا موقف کچھ تذبذب کا شکار تھا، اسی لیے ابتدائی دو ہفتوں تک اس نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ حافظ اسد نے اردن اور سعودی عرب سے رابطہ کر کے جنگ روکنے کا راستہ نکالنے کی کوشش کی، لیکن دو ہفتے گزرنے کے بعد انہوں نے عراق کو جارح قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔[7] جنگ شروع ہونے کے ڈیڑھ ماہ بعد حافظ اسد نے چھاتہ بردار فوجیوں (Paratroopers) کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں شام کا پہلا باضابطہ اور واضح موقف بیان کرتے ہوئے کہا: " یہ جنگ بغداد حکومت کی تمام عربوں کے خلاف ایک سازش ہے۔"[8] اس واضح موقف کے نتیجے میں 12 اکتوبر 1980ء کو عراق اور شام کے تعلقات منقطع ہو گئے۔ شام نے اپنی سرزمین سے عراقی تیل کی ترسیل روک دی اور تمام سرحدیں عراق کے لیے بند کر دیں۔ بدلے میں، شام نے ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے اپنی تیل کی ضروریات ایران سے پوری کیں۔ یہ عراق کے لیے، جو جنگی اخراجات کے لیے تیل کی آمدنی پر انحصار کرتا تھا، ایک کاری ضرب تھی کیونکہ شام کے اس اقدام سے عراق کی نصف آمدنی ختم ہو گئی۔ سفارتی محاذ پر بھی شام کی کوششوں نے اس جنگ کو " عرب بمقابلہ ایران" جنگ بننے سے روکا اور ایران کو خطے میں تنہا نہیں ہونے دیا۔ اسی دور میں شام نے عراقی اپوزیشن کی حمایت کی جس سے عراق کے اندر ایک دوسرا محاذ کھل گیا اور عراقی فوج کا ایک بڑا حصہ اندرونی بغاوت کو کچلنے میں مصروف ہو گیا۔[9]
8 اکتوبر 1980 کو حافظ اسد نے " دوستی اور تعاون" کے معاہدے پر دستخط کے لیے ماسکو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اور سوویت رہنما برژنیف نے مشترکہ اعلامیے میں عراق کی مذمت کی۔ سوویت یونین نے شام کو فوجی امداد دینے اور سوویت ساختہ ہتھیار ایران کو پہنچانے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد سے شام، ایران کے لیے فوجی ساز و سامان کی فراہمی کا ایک اہم راستہ بن گیا۔ ایران کو سوویت ساختہ ہتھیار لیبیا اور الجزائر جیسے ممالک سے بھی مل رہے تھے۔ شام نے عراق کے فوجی منصوبوں اور صلاحیتوں کے بارے میں اہم انٹیلی جنس معلومات بھی ایران کو فراہم کیں۔[10] ایران کے ساتھ شام کے تعاون کی ایک بڑی مثال عراق کے " الولید" (H-3) فضائی اڈوں پر ایرانی حملہ تھا۔ 4 اپریل 1981ء کو ہونے والے اس کامیاب ترین آپریشن میں شام کا کردار کلیدی تھا[11]، کیونکہ ایرانی طیاروں نے شام کی فضائی حدود میں ایندھن بھرا تھا اور ایک خراب ہونے والا ایرانی " فینٹم" طیارہ بھی شام ہی کے ہوائی اڈے پر اترا تھا۔[12]
جون 1982 میں اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے کے بعد، ایران نے لبنان اور شام کی حمایت کے لیے اپنی افواج بھیجیں، لیکن عراق کی جارحیت روکنے کی ترجیح کے باعث وہ واپس آ گئیں۔ جب ایرانی افواج عراقی سرزمین میں داخل ہوئیں، تو شامی حکام نے ایران کی حمایت جاری رکھی اور خلیجی ممالک کو یقین دلایا کہ ایران کا مقصد علاقائی توسیع نہیں بلکہ صرف جارح عراق یعنی عراقی صدر کو سبق سکھانا ہے۔[13]
اگست 1984 میں ایرانی سپاہ پاسداران کے حکام پر مشتمل پچیس افراد کا ایک وفد شام اور لیبیا گیا[14] اور اسی سال نومبر 1984 میں سپاہ پاسداران کی پندرہ رکنی ٹیم اسکڈ میزائل کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے شام بھیجی گئی۔ اس طرح سپاہ کا میزائل یونٹ تشکیل پایا۔ فاؤ کی فتح سے لے کر قرارداد 598 کی منظوری تک کے عرصے میں شام کا موقف ایران پر محتاط تنقید اور ثالثی کی کوشش کرنا تھا۔ تیل اور مادی امداد جیسے شام کے اہم مفادات اور اردن، سعودی عرب اور سوویت یونین کی جانب سے دباؤ کے باوجود شام عراق کے حمایتی دھڑے میں شامل نہیں ہوا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایک طرف ایران عراقی سرزمین میں داخل ہونے پر اصرار کر رہا تھا۔ اس عمل نے شام کے لیے ان عرب ممالک کے سامنے ایران کے اقدام کا جواز پیش کرنا مشکل بنا دیا تھا جو عراق کی حکومت گرنے سے خوفزدہ تھے۔ دوسری طرف لبنان میں جنگ اور اندرونی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ وہاں حزب اللہ لبنان، جس کی ایران حمایت کر رہا تھا اور وہ لبنان میں ایک طاقتور قوت بن چکی تھی، اور امل موومنٹ کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔ امل موومنٹ کی حمایت شام کر رہا تھا اور حزب اللہ کے ابھرنے سے اس کی پوزیشن کمزور ہو گئی تھی۔ ان معاملات کی وجہ سے ایران اور شام کے درمیان تعلقات کی سطح میں کمی آگئی۔ اس کے باوجود اگرچہ ایران کی جانب سے فاو کی فتح کے بعد شام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی لہر دوڑ گئی تھی، لیکن شام ایران کی اس کامیابی پر خوش تھا۔ شام خطے میں اپنا اصل دشمن صیہونیت اور سامراج کو سمجھتا تھا۔ وہ ہر اس اقدام کی مخالفت کرتا تھا جس سے عرب اور ایران ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں اور عربوں کی توجہ صیہونیوں سے ہٹ جائے۔[15]
1986 میں حافظ اسد نے اجلاس میں شرکت کے لئے کویت روانگی سے پہلے اعلان کیا کہ ایران کا عراق پر قبضے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے[16] 1987 میں عرب ممالک نے عمان اجلاس میں شام کو ایران سے دور کرنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے۔[17] شام کی مسلسل یہی کوشش تھی کہ دیگر عربی ممالک سمیت عراق اور ایران کے درمیان ثالثی کے فرایض سر انجام دے۔[18]
18 جولائی 1988 کو " قرارداد 598" کی منظوری پر حافظ اسد نے ایران کے فیصلے کو سراہا اور یہ اعلان کیا کہ ایران کا یہ فیصلہ خطے میں امن کے لئے بہتر ثابت ہوگا۔[19] اس جنگ کے بعد شام نے ایران کےساتھ نیک نیتی پر مبنی ہمہ جانبہ سیاسی کو جاری رکھا۔[20] حافظ اسد کی وفات (10 جون 2000) کے بعد ان کے بیٹے بشار اسد صدر بنے۔[21] انہوں نے حزب اللہ کے ساتھ برابری کا تعلق رکھا جس سے ایران اور شام کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ اگرچہ بشار اسد کا شروع میں جھکاؤ سعودی عرب کی طرف تھا، لیکن 11 ستمبر 2001 (نائن الیون) اور 14 فروری 2005 کو رفیق حریری کے قتل کے واقعات بعد امریکہ کے جارحانہ رویے نے شام کو ایران کے بہت قریب کر دیا۔[22] 2011 میں شمالی افریقا کے ممالک میں اسلامی بیداری کی تحریک چلی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو شام میں پر امن احتجاجات شروع ہوگئےجو وقت کے ساتھ ناامنی کی طرف چلے گئے اور بشار اسد کے حکومت کی مخالفت تک نوبت آ گئی اور خانہ جنگی پیدا ہو گئی۔ شام کی سرحدوں پر حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر امریکہ کی تخلیق کردہ دہشت گرد تنظیم " داعش" نے شام میں نفوذ حاصل کرنا شروع کیا جو بہت جلد ایک نئے محاذ جنگ کے طور پر سامنے آیا۔[23] داعش کی جڑیں عراق کے القاعدہ گروپ اور ابومصعب الزرقاوی کے انتہا پسند نظریات میں تھیں۔ ابومصعب الزرقاوی جسے2006 میں امریکی فورسز اور عراقی انٹیلی جنس نے قتل کر وا دیا تھا۔ زرقاوی کے بعد ابو ایوب المصری عراق میں القاعدہ کا سربراہ بنا۔ 2010 میں اس کی ہلاکت کے بعد ابوبکر البغدادی کو اس گروہ کا نیا قائد منتخب کیا گیا۔ البغدادی نے 2013 میں باضابطہ طور پر ' داعش' کی بنیاد رکھی اور اس تکفیری گروہ کا مخصوص پرچم اور نعرہ متعارف کرایا۔ اس نے ایک آڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ داعش اور شام میں ابومحمد جولانی کی قیادت میں سرگرم دہشت گرد گروہ ' جبهه النصره'، دونوں باقاعدہ طور پر القاعدہ کی ہی شاخیں ہیں۔[24] ایران نے شام کو اپنی " تزویراتی گہرائی" (Strategic Depth) اور اہم دفاعی ڈھال سمجھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام کا ساتھ دیا۔[25] سپاہ قدس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی (شہید) کی قیادت میں داعش کا مقابلہ کیا گیا اور بلاآخر 21 نومبر 2017 کو خطے سے داعش کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔[26]
حوالہ جات
- [1]. سعیدی، ابراہیم، سوریہ، تہران، وزارت امور خارجہ، 1995، ص97، 98اور 1
- [2]. سابق، ص 118، 100
- [3]. سابق، ص 100
- [4]. سابق، ص 118، 119
- [5]. سابق، ص 137
- [6]. درویشی، فرہاد، جنگ ایران و عراق – پرسشہا و پاسخہا، تہران، مرکزِ مطالعہ و تحقیقِ جنگِ سپاہِ پاسداران، پہلا ایڈیشن، 2007ء، ص 179۔
- [7]. سلطانی نژاد، احمد، سیاست خارجی سوریہ در جنگ ایران و عراق جنگ (1980-1988)، تہران، صفحہ جدید، 2013ء، ص 154 اور 155۔
- [8]. سعیدی، ابراہیم، سابقہ مآخذ، ص 140۔
- [9]. سلطانی نژاد، احمد، سابقہ مآخذ، ص 158 تا 162۔
- [10]. سابقہ مآخذ، ص 162
- [11]. مہرنیا، احمد، حملہ ہوائی بہ الولید (ایچ-3)، تہران، سورہ مہر، پہلا ایڈیشن، 2010ء، ص 78 اور 88
- [12]. سابقہ مآخذ، ص 166 تا 168
- [13]. سلطانی نژاد، احمد، سابقہ مآخذ، ص 166-168
- [14]. غفار حدادی، فایضہ، خط مقدم مبارزہ: روایت داستانی و مستند از تشکیل یگان موشکی در ایران با محوریت زندگی حسن تہرانی مقدم، قم، منظومہ شمسی، 2015ء، ص 26 اور 43
- [15]. سلطانی نژاد، احمد، سابقہ مآخذ، ص 174-178۔
- [16]. سابقہ مآخذ، ص 180
- [17]. سابقہ مآخذ، ص 183
- [18]. سابقہ مآخذ، ص 188
- [19]. سعیدی، ابراہیم، سابقہ مآخذ، ص 141
- [20]. نوروزی فرد، علی رضا و دیگران، «بررسی آیندہ روابط ایران و سوریہ و تأثیر آن بر ژئوپلتیک منطقه ای»، فصل نامہ آمایش سیاسی فضا، جلد 3، شمارہ 1، سرما 2020ء، ص 49۔
- [21]. قربان زادہ سوار، قربان علی و دیگران، «سناریوهای فراروی بحران ژئوپلیتیک سوریہ»، فصل نامہ محیط راهبردی، سال چہارم، شمارہ 13، سرما 2020ء، ص 166-167
- [22]. درویشی سہ تلانی، فرہاد، «کنکاشی در روابط تاریخی ایران و سوریہ (1946-2011)»، تاریخ نامہ انقلاب، سال اول، دفتر اول، بہار و تابستان 2017ء، ص 136-137
- [23]. احرامی، سجاد و دیگران، «بحران سوریہ میانجی گری بین المللی و جایگاه ج. ا در حل آن»، فصلنامہ علمی رہیافت انقلاب اسلامی، سال 15، شمارہ 54، بہار 2021ء، ص 187
- [24]. حاتمی، محمدرضا، «شکل گیری داعش در کانون پویش جهانی شدن»، پژوہش نامہ روابط بین الملل، تابستان 2015ء، شمارہ 30، ص 154-155
- [25]. صادقی، سید شمس الدین و دیگران، «تحلیل مواضع جمہوری اسلامی ایران در قبال بحران سوریہ»، نشریہ جستارهای سیاسی معاصر، سال ششم، شمارہ اول، بہار 2015ء، ص 140
- [26]. امین آبادی، سید محمد، «پایان خلافت شیطانی داعش/ وعدہ صادق سردار چگونه محقق شد؟»، روزنامہ کیہان، جمعرات 29 نومبر 2017ء، شمارہ 21781