دزفول

دزفول صوبہ خوزستان کا ایک شہر ہے۔ عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران یہ شہر بارہا عراقی فوج کے فضائی، میزائل اور توپ خانے کے حملوں کا نشانہ بنا۔

دزفول صوبہ خوزستان میں اہواز کے شمال میں 165 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔⁠[1] جغرافیائی طور پر یہ ایک میدانی علاقہ ہے جو کوہِ زاگرس اور خوزستان کے میدانوں کے سنگم پر واقع ہے۔ دریائے دز اس شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔⁠[2] سرما میں اس شہر کا موسم معتدل رہتا ہے۔ وسطِ بہار سے نومبر تک یہاں شدید گرمی پڑتی ہے اور کبھی کبھار گرد آلود ہوائیں بھی چلتی ہیں۔⁠[3]

ساسانی دورِ حکومت میں دریائے دز پر ایک پل تعمیر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں فوجی مقاصد کے لیے اس دریا کے مغرب میں ایک قلعہ بھی بنایا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب شوش اور جندی شاپور جیسے شہروں کی رونق ماند پڑ گئی تو لوگوں نے اس قلعے کی طرف ہجرت شروع کر دی۔ یوں یہ مقام ترقی کر کے ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا۔

اسلامی دور میں عربی زبان میں 'ژ' اور 'پ' کے حروف نہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کا نام 'دژپل' سے بدل کر 'دزفول' مشہور ہو گیا۔⁠[4] 1986ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی آبادی دو لاکھ انتالیس ہزار (239,000) سے زائد تھی۔ یہاں کے باسیوں کی اکثریت صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے وابستہ ہے۔⁠[5]

1956ء میں دزفول کے شمال مشرق میں 25 کلومیٹر کے فاصلے پر دز ڈیم اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن کی تعمیر کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کا بلند ترین اور دنیا کا چھٹا بڑا ڈیم تعمیر ہوا۔⁠[6] 1957ء میں اس شہر کے قریب تپہ چرمی کے علاقے میں ایک فضائی چھاؤنی کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ منصوبہ 1961ء میں 'وحدتی' نامی شکاری فضائی چھاؤنی (ایئر بیس) کی تکمیل پر منتج ہوا۔⁠[7]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے قبل، دزفول کی سپاہ پاسداران ملک کے مغرب میں کوملہ اور ڈیموکریٹ جیسے انقلاب دشمن گروہوں کے خلاف نبرد آزما تھی۔ یہ سلسلہ جنگ کے آغاز تک جاری رہا۔⁠[8] 22 ستمبر 1980ء کو جب عراق نے حملہ کیا تو ایران کے جنوبی شہروں پر بمباری کی گئی۔ اس موقع پر دزفول، شوش اور اندیمشک کے عوامی رضاکار اور بسیجی دستے سپاہِ دزفول کی نگرانی میں فوج کے شانہ بشانہ محاذِ جنگ پر روانہ ہوئے۔ ڈویژن 7 ولی عصر «عج» سپاہِ دزفول کے جوانوں پر مشتمل تھی۔ اس ڈویژن نے مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران 38 بٹالینز کے ساتھ 14 آپریشنز میں حصہ لیا۔⁠[9]

22 ستمبر 1980ء کو پہلی بار دزفول کی وحدتی فضائی چھاؤنی عراقی مگ طیاروں کی بمباری کا نشانہ بنی۔ اس حملے میں ایک فوجی اہلکاراور دو شہری شہید ہوئے۔⁠[10] شہری شہداء حسین لوافیان اور رضا پیرزادہ سنجری تھے۔ شہید ہونے والے فوجی افسر کا نام فیروز شیخ حسینی تھا جو اس چھاؤنی میں حفاظتی امور کے پائلٹ تھے۔ 24 ستمبر 1980ء کو دشمن کے جنگی طیاروں نے اس چھاؤنی کے قریب فوجی تنصیبات پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں رن وے پر پتھر پھیل گئے اور اسی وجہ سے چھاؤنی کے ایف-5 طیارے جو جوابی کارروائی کرنا چاہتے تھے، پرواز نہ کر سکے۔ تاہم دزفول کے عوام نے چھاؤنی کی طرف پیش قدمی کی او رن وے کو صاف کیا۔ ان کی اس کوشش سے اس دن کا آپریشن ممکن ہو سکا۔

27 ستمبر 1980ء کو عراقی فوج شاورِیہ اور دشتِ عباس کے مشرق میں واقع بلندیوں پر قبضہ کر کے شہر کے قریب پہنچ گئی۔ اس دن عراق نے پہلی بار شہر کو اپنے توپ خانے کا نشانہ بنایا۔ یہ اس شہر پر صدام کے حملوں کا آغاز تھا۔ 3 اکتوبر 1980ء کو پہلی بار رہائشی علاقوں پر فضائی حملہ کیا گیا۔ اس میں 18 افراد شہید اور 64 زخمی ہوئے۔ یہ حملے 4 اور 7 اکتوبر 1980ء کو بھی دہرائے گئے۔ بالاخر 8 اکتوبر 1980ء کو دزفول پر عراق نے فراگ-7 میزائل داغے۔⁠[11] دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی شہر کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔⁠[12] اس حملے میں 105 افراد شہید اور 300 زخمی ہوئے۔ اس خوفناک صورتحال کے باعث کچھ لوگوں نے شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی۔ اگلے روز عراقی طیاروں نے دوبارہ دزفول پر حملہ کیا، مگر ان میں سے ایک طیارہ، فضائیہ کی فائرنگ سے گر تباہ ہو گیا۔ عراق نے دزفول پر دوسرا اور تیسرا میزائل حملہ 15 اور 21 اکتوبر 1980ء کو کیا، تاہم یہ شہر پر سقوط سے بچ گئے⁠[13] لیکن 26 اکتوبر 1980ء کو شہر پر کئی بار میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں 100 افراد شہید اور 250 زخمی ہوئے۔⁠[14]

دزفول پر دشمن کے ان وسیع حملوں اور انسانی جانوں کے تحفظ کی ضرورت کے پیشِ نظر، حکام نے 'شوادون' نامی روایتی تہہ خانوں کی مرمت اور تعمیر کا آغاز کیا۔ شوادون ایک گہرا اور ہموار تہہ خانہ ہوتا تھا جس میں 15 سے 20 سیڑھیاں اتر کر داخل ہوتے تھے۔ ان کے داخلے کا راستہ دو سے ڈھائی میٹر چوڑا ہوتا تھا اور یہ ایک زیرِ زمین راہداری کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے جسے 'تال' کہا جاتا تھا۔⁠[15] شہری انتظامیہ نے جانی نقصان کو کم کرنے اور نقصانات کی فوری تلافی کے لیے شوادون سازی کی تحریک شروع کی اور شہر میں موجود لوگوں کو منظم کیا۔ رات کے وقت دشمن کی نظروں سے بچنے کے لیے بجلی بھی منقطع کر دی جاتی تھی۔ ان دنوں میں دزفول کی وحدتی فضائی چھاؤنی نے شہر کی فضائی حدود کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی۔⁠[16]

6 نومبر 1980ء کو ریڈیو دزفول نے اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہ ریڈیو 1982ء تک عوام کو باخبر رکھنے کے حوالے سے بہت فعال رہا۔ ریڈیو نے دزفول کی ضلعی انتظامیہ اور وہاں موجود فوج کی چوتھی شکاری فضائی چھاؤنی کے تعاون سے ایک ایسا نظام وضع کیا تھا جس کے ذریعے راڈار پر دشمن کے طیارے یا زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل نظر آتے ہی ایک خصوصی ٹیلی فون لائن کے ذریعے ریڈیو کو اطلاع دی جاتی تھی۔ اس اطلاع کے ملتے ہی ریڈیو سے فوری طور پر خطرے کی علامت (ریڈ الرٹ) کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔⁠[17] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ریڈیو دزفول نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ شمالی خوزستان تک پھیلا دیا۔⁠[18] یہ ریڈیو آج بھی فعال ہے۔

16 مارچ 1982ء کو مجاہدین کے آپریشنز کی پشت پناہی کے لیے دزفول کی ضلعی انتظامیہ میں ایک جنگی امدادی مرکز قائم کیا گیا۔⁠[19]

1982ءکے پورے سال کے دوران یہ شہر مسلسل دشمن کے توپ خانے اور جنگی طیاروں کی زد میں رہا۔ دزفول پر دشمن کے میزائل حملوں کی شدت اس قدر تھی کہ اس عرصے میں پورے ملک میں میزائل حملوں کے نتیجے میں ہونے والی 107 شہادتوں میں سے 96 کا تعلق صرف دزفول سے تھا۔⁠[20]

22 مارچ 1982ء کو دزفول کے مغرب میں آپریشن 'فتح المبین' کی کامیابی کے بعد یہ شہر دشمن کے توپ خانے کی زد سے محفوظ ہو گیا۔ اسی سال 26 اکتوبر کو دشمن نے دزفول پر 'اسکاڈ' قسم کا پہلا میزائل فائر کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں 135 افراد شہید ہوئے۔ 19 دسمبر 1982ء کو دزفول کے گنجان آباد علاقے پر دو میزائل داغے گئے۔ اس حملے میں 200 مکانات اور دکانیں تباہ ہوئیں جبکہ 62 افراد شہید اور 287 زخمی ہوئے۔⁠[21]

1983ء میں شہر پر مجموعی طور پر 9 میزائل حملے کیے گئے۔ ان میں 22 اکتوبر کو شہر کی جامع مسجد پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے دوران 57 افراد شہید اور 695 زخمی ہوئے۔⁠[22]

1985ء میں داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ صرف 11 فروری 1985ء کو دشمن کی جانب سے 5 میزائل فائر کیے گئے۔ ان حملوں میں بڑی تعداد میں رہائشی مکانات، ایک پرائمری اسکول اور ایک ہسپتال تباہ ہوا۔ اس روز بہت سے لوگ شہیدہوئے۔ 7 مارچ 1985ء کو بھی ایک ساتھ 8 میزائل شہر پر گرے۔ اس حملے میں 19 افراد شہید اور 66 زخمی ہوئے جبکہ سیکڑوں مکانات اور دکانیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔⁠[23]

2 فروری 1986ء کو امام خمینی کے نمائندے آیت اللہ سید مجد الدین قاضی دزفولی انتقال کر گئے۔ وہ اس شہر کی مزاحمت کا مضبوط ستون تھے۔ انہوں نے بحرانی لمحات میں نہ صرف شہر چھوڑنے سے انکار کیا بلکہ حملوں کے دوران وہ اپنے گھر کے تہہ خانے (شوادون) میں بھی نہیں جاتے تھے۔ وہ شہر کے تمام کٹھن دنوں میں عوام اور مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔⁠[24]

16 اگست 1986ء کو عراق کے ایک میراج طیارے نے دز ڈیم کی تنصیبات پر حملہ کیا جس سے معمولی نقصان پہنچا۔ یہ جنگی طیارہ واپسی کے راستے میں ایرانی فضائیہ کی فائرنگ سے گر کر تباہ ہو گیا۔⁠[25] 25 ستمبر 1986ء کو دشمن کے طیاروں نے شہر کی فضائی حدود میں بہت نیچی پرواز کر کے عوام میں حوف و ہراس پھیلایا۔ 5 اکتوبر کو ایک صنعتی یونٹ پر حملہ کیا گیا جس میں ایک شخص شہید اور 15 زخمی ہوئے۔ اس سال دشمن کے حملوں میں شدت جنوری 1987ء میں آئی۔ دشمن نے آپریشن کربلا-5 میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے 11 جنوری اور 14 سے 20 جنوری تک اس شہر پر فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔⁠[26]

25 مئی 1987ء کو دشمن کے حملوں کے خلاف دزفول کے عوام کی مزاحمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملک کے اعلیٰ سول اور عسکری حکام سمیت شہر کے غیور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر دزفول کے 'فتح المبین' چوک میں ایک سنہری تختی نصب کی گئی اور تب سے یہ دن ایران کے کیلنڈر میں "یومِ مزاحمت و پایداری - یومِ دزفول" کے نام سے درج کر دیا گیا۔⁠[27] اسی سال 19 اور 21 اگست کو 'ہفت تپہ' کے لیبر کمپلیکس پر دشمن کے حملے میں بڑی تعداد میں مزدور شہید اور زخمی ہوئے۔⁠[28] 9 ستمبر 1987ء کو دزفول کی شوگر مل کو دشمن نے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جس سے اسے نقصان پہنچا؛⁠[29] 10 مارچ 1988ء کو شہر کے 'امید' اسکول پر دشمن نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں کثیر تعداد میں طلبہ زخمی ہوئے اور اسکول کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔⁠[30]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران دزفول پر دشمن کا آخری فضائی حملہ 15 جولائی 1988ء کو ہوا۔ اس حملے میں دشمن کی جانب سے گرائے گئے کلسٹر بم کے پھٹنے سے 10 سال اور 3 سال کی دو بچیاں⁠[31] شہید ہو گئیں۔⁠[32]

دزفول کے عوام کی 2700 دنوں پر محیط مزاحمت کے دوران اس شہر پر 176 بار میزائلوں، 489 بار بموں اور راکٹوں جبکہ 2500 بار توپ خانے کے گولوں سے حملہ کیا گیا۔⁠[33] اس طویل جدوجہد میں مجموعی طور پر 2600 شہداء، 4000 زخمی، 452 رہا ہونے والے جنگی قیدی اور 147 لاپتہ افراد اسلام اور انقلاب پر قربان ہوئے۔⁠[34]

مارچ-اپریل 2002ء سے دزفول کی 'وحدتی' فضائی چھاؤنی میں ایرانی فوج کی فضائیہ کی ہمت و شجاعت کی یاد میں "اردو راہِیانِ نور"کے فضائی شعبے کا قیام عمل میں لایا گیا۔⁠[35] مسلط کردہ جنگ کے بعد اس شہر کے عوام کی مزاحمت کی یاد میں جگہ جگہ یادگاریں تعمیر کی گئیں۔ ان میں رودکی روڈ پر واقع "یادمانِ شہدایِ گمنام"، مسجدِ رسولِ اعظم (ص) کے قریب "میدانِ مقاومت" (جسے "میزائل چوک" بھی کہا جاتا ہے) اور کرناسیان حمام کے قریب "یادمانِ الف" شامل ہیں، جو دفاعِ مقدس کے دوران دشمن کی میزائل دھمکیوں کی یاد دلاتے ہیں۔⁠[36]

دزفول کے بارے میں شائع ہونے والی اہم تحریروں میں عبدالرضا سالمی نژاد کی کتاب "الف دزفول" (ناشر: آوان جنوب)، عظیم محمود زادہ شیرازی اور عبدالرحیم سعیدی کی "شب‌های موشک‌باران" (ناشر: آوان جنوب) اور سعید و محمد حسین درچین کی مرتب کردہ "خطبه‌های مقاومت" (ناشر: سروِ دانا) شامل ہے؛ آخری الذکر کتاب اس شہر کے مرحوم امامِ جمعہ، آیت اللہ قاضی دزفولی کے نمازِ جمعہ کے خطبات کا مجموعہ ہے۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] زمان‌رشیدیان، نیره، نگاهی به تاریخ خوزستان، تہران، نشر بوعلی، پہلا ایڈیشن، 1988ء، ص 112۔
  • [2] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، دزفول:گزارشی از شهر مقاوم دزفول در جنگ شهرها 1367-1359، تہران، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی، مرکزِ اسناد و تحقیقاتِ دفاعِ مقدس، 2018ء، ص 26۔
  • [3] زمان‌رشیدیان، نیره، سابق، ص 191۔
  • [4] سابق، 114 تا 116۔
  • [5] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 27 و 28
  • [6] زمان‌رشیدیان، نیره، سابق، ص 118۔
  • [7] ماہنامہ صنایع هوایی، اکیسواں سال، شمارہ 249، مئی 2012ء، ص 46
  • [8] سابق، ص 16۔
  • [9] سابق، ص 10۔
  • [10] لطیف‌پور، احمد، دزفول دژ استوار روزشمار حملات هوایی، توپخانه‌ای و موشکی به شهر مقاوم دزفول در هشت سال دفاع مقدس، تہران، نشر نیلوفران، 2017ء، ص 15۔
  • [11] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص ص 21، 28، 30، 32، 33۔
  • [12] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 153۔
  • [13] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 49 و 50
  • [14] سالمی‌نژاد عبدالرضا، سابق، ص 160۔
  • [15] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 39۔
  • [16] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 168، 171، 239۔
  • [17] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 61۔
  • [18] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 333۔
  • [19] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 129۔
  • [20] سابق، ص 187۔
  • [21] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 191، 195، 194، 200۔
  • [22] سابق، ص 204، 205 و 209۔
  • [23] سابق، ص 223 و 224۔
  • [24] سابق، ص 185۔
  • [25] سابق، ص 195۔
  • [26] سابق، ص 262 و 263۔
  • [27] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 203۔
  • [28] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 275۔
  • [29] سابق، ص 274۔
  • [30] سابق، ص 276۔
  • [31] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 224۔
  • [32] سابق۔
  • [33] سالمی‌نژاد، عبدالرضا، سابق، ص 19 و 277۔
  • [34] سابق، ص 19۔
  • [35] ماہنامہ صنایع هوایی، تیئیسواں سال، شمارہ 272، مارچ/اپریل 2014ء، ص 3۔
  • [36] لطیف‌پور، احمد، سابق، ص 126 و 215۔

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا