آپریشن بیت المقدس 5
محدود آپریشن بیت المقدس 5 کا آغاز 10 اپریل 1988 کو " یا اباعبداللہ الحسین (ع) " کے کوڈ کے ساتھ پنجوین کے عمومی علاقے میں ہوا۔ اس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ذریعے دشمن کی جنگی تنظیم کو ضرب لگانا تھا۔
آپریشن بیت المقدس 5 کا منصوبہ ایرانی زمینی فوج کی " 28 انفنٹری ڈویژن کردستان" نے تیار کیا تھا۔[1] اس آپریشن کا ہدف پنجوین کے علاقے[2] میں سنگِ معدن کی بلندیوں، کلہ قندی (زلہ)، کوہِ شیخ عبدالکریم اور چوٹی نمبر 1830 پر قبضہ کرنا تھا۔[3]
یہ آپریشن 10 اپریل 1988 کو پنجوین کی بلندیوں پر تین محوروں سے شروع ہوا۔
پہلے محور میں، 28 ڈویژن کی بریگیڈ 1 نے تین بٹالینز کے ساتھ، کلہ قندی کی دائیں جانب سے سنگِ معدن کی بلندیوں کے دائیں حصے تک کارروائی کی۔ اس کی ذمہ داری قولنجان، کلہ قندی (زلہ) اور کوری کوبلہ کی بلندیوں پر قبضہ کرنا تھا۔ دوسرے محور میں، بریگیڈ 2 نے تین کمانڈو بٹالینز کے ذریعے آپریشن کے سب سے اہم ہدف یعنی کوہِ شیخ عبدالکریم اور سنگِ معدن کی بلندیوں پر قبضے کا بیڑا اٹھایا۔ تیسرے محور میں مشن کی ذمہ داری بریگیڈ 3 کو سونپی گئی۔ اس بریگیڈ نے تین بٹالینز کے ساتھ چوٹی نمبر 1830 اور اس کی بائیں جانب کی ڈھلوان پر قبضہ اور بارودی سرنگوں سے کلیئرنس کرنی تھی۔ ان 9 مانوری بٹالینز کے علاوہ، 55 ایئر بورن بریگیڈ کی تین بٹالینز بھی 28 کردستان ڈویژن (سنندج) کے پاس ریزرو میں موجود تھیں۔
آپریشن شروع ہونے کے بعد، پہلے محور میں فورسز نے علاقے کی گہرائی میں پیش قدمی کرتے ہوئے رات گئے 2:30 بجے دشمن کے ساتھ مقابلہ شروع کیا۔ کلہ قندی اور بارڈر پوسٹ (میلہ مرزی) کی پہاڑی پر قبضے کے بعد انہوں نے عراقی افواج کو جنگلی پہاڑی پر تباہ کر دیا؛ لیکن کوری کوبلہ کی بلندیوں پر دشمن کی مزاحمت صبح ہونے تک جاری رہی، جس کی وجہ سے ایرانی فورسز کو مجبوراً کلہ قندی کی بلندیوں تک پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرے محور میں، ایرانی افواج کا آدھی رات 1:45 بجے دشمن سے ٹکراؤ ہوا اور سنگِ معدن کی بلندیوں کے کچھ حصوں پر قبضے کے بعد انہوں نے تیزی سے اس کی ڈھلوانوں پر پیش قدمی کی اور اہداف پر مکمل قابو پا لیا۔[4] صبح 4:30 بجے تک کلہ قندی، سنگِ معدن، میلہ مرزی اور گردونواح کی دیگر بلندیوں پر قبضے کے بعد، بریگیڈ 1 اور 2 کی فورسز کا آپس میں الحاق ہو گیا، تاہم سنگِ معدن کے مغربی حصوں اور اس کے مغرب میں واقع کانی شوکت کی بلندیوں پر پہلے دن قبضہ نہ ہو سکا۔
بریگیڈ 3 کے محور میں بھی فورسز کا رات گئے 2:25 بجے دشمن سے مقابلہ ہوا، لیکن دشمن کی ہوشیاری، سخت مزاحمت اور اپنی افواج کی غیر متوازن پیش قدمی کی وجہ سے یہ بریگیڈ اہداف حاصل نہ کر سکی۔ صبح 6 بجے، جب کئی ایرانی فوجی شہید اور زخمی ہو چکے تھے، فورسز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
صبح 7 بجے دشمن کا جوابی حملہ شروع ہوا جسے ایرانی فوجیوں نے اپنی مزاحمت سے ناکام بنا دیا۔ آپریشن کے پہلے دن دشمن کا دباؤ تاریکی چھانے تک مسلسل جاری رہا۔ دوسری جانب ایرانی توپ خانے نے بھی دشمن کے پیچھے والے علاقوں پر مسلسل اور بھاری گولہ باری جاری رکھی۔ شام تقریباً 5 بجے اپنی پوزیشنز کو مضبوط کرنے اور اندھیرا ہونے کے بعد آپریشن جاری رکھنے کے لیے، سنگِ معدن اور کانی شوکت کے قبضے کو مکمل کرنے کی خاطر ایک تازہ دم بٹالین علاقے میں پہنچی، لیکن اس یونٹ کے بٹالین کمانڈر اور تینوں کمپنی کمانڈرز، جو صورتحال سمجھنے کے لیے فرنٹ لائن پر آئے تھے، توپ کا گولہ پھٹنے سے شہید ہو گئے اور اس مشن کی تکمیل رک گئی۔ دوسری طرف، جہادِ سازندگی کی جانب سے جنگی علاقے تک رابطہ سڑک پہنچانے کی کوششیں بھی دشمن کی شدید گولہ باری کی وجہ سے روک دی گئیں اور انہیں حالات بہتر ہونے تک ملتوی کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ دشمن نے آپریشن کے ابتدائی گھنٹوں ہی سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور ایرانی افواج کی پوزیشنز پر توپ خانے کے تقریباً 30 اور مارٹر کے 40 کیمیائی گولے فائر کیے، جس سے 176 فوجی متاثر ہوئے۔
آرمی کی فضائیہ نے صبح 5:30 بجے روشنی ہوتے ہی اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا اور شام 7 بجے تک مجموعی طور پر 41 مرتبہ عراقی افواج کے مراکز اور پوزیشنز پر بمباری کی۔ آرمی ایوی ایشن نے بھی سپلائی پہنچانے کے علاوہ کوبرا ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کئی بار دشمن کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس کے مقابلے میں عراقی طیارے صرف تین بار کارروائی کرنے میں کامیاب ہو سکے۔[5]
آپریشن کے دوسرے دن عراق کے شہر پنجوین کے سامنے سرحدی بلندیوں پر عراقی فوج کا دباؤ برقرار رہا اور سنگِ معدن پر موجود فورسز دشمن کے دباؤ کی وجہ سے سنگِ معدن کی بلندی کے آخر میں واقع تین بڑی پہاڑیوں یعنی چوٹی نمبر 1830، 1810 اور 1806 تک پیچھے ہٹ گئیں۔ دوپہر کے بعد چھینی گئی جگہوں کو واپس لینے کے لیے دشمن کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس پر رلایرانی دستوں کی پوزیشنز کو مضبوط کرنے کے لیے ایک تازہ دم کمپنی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور 2 کمپنیاں گاڑیوں کے
ذریعے علاقے میں پہنچائی گئیں اور دفاعی پوزیشنز کو مضبوط کر کے دشمن کے حملے پسپا کر دیے گئے۔ آرمی کی فورسز نے اپنی پوزیشنز کو برقرار رکھا اور توپ خانے نے بھی ابزرویشن کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا اور اسے کچل دیا۔[6]
جنگ کے تیسرے دن (12 اپریل 1988)، کھوئی ہوئی بلندیوں کو واپس لینے کے لیے دشمن کا دباؤ جاری رہا۔ آرمی نے ایک ریزرو بٹالین کو فرنٹ لائن پر بھیجا اور وہ فورسز جو مسلسل 3 راتوں اور 2 دنوں سے اپنی پوزیشنز کے دفاع کے لیے لڑ رہی تھیں، صبح 9:30 بجے پیچھے ہٹ گئیں۔ تاہم دشمن، جس نے اس دوران اپنے توپ خانے کو منظم اور مترکز کر لیا تھا، صبح کے ابتدائی اوقات سے کلہ قندی کی بلندی کے اس حصے پر دباؤ ڈالا جو ایرانی فورسز کے قبضے میں تھا اور وہاں رخنہ ڈالنے میں کامیاب ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایرانی فورسز اپنی پوزیشنز چھوڑ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں۔[7]
اس طرح آپریشن بیت المقدس 5، تین شب و روز کی جنگ کے بعد اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل نہ کر سکا[8] اور بالآخر پسپائی کے ساتھ ختم ہوا۔[9]
کلہ قندی کی بلندی خالی کرنے کے باوجود، 28 ڈویژن کے آرٹلری آبزرور کی علاقے میں موجودگی اور عراقی پوزیشنز پر فائر گائیڈ کرنے کی وجہ سے دشمن کی افواج رات 8 بجے تک کلہ قندی پر مستقر نہ ہو سکیں۔ رزمندگان کی جنگ کے ساتھ ساتھ، جہادِ سازندگی کی ٹیمیں بھی دشمن کی بھاری گولہ باری کے سائے میں اور اپنی 2 انجینئرنگ مشینوں کے تباہ ہونے کے باوجود، ان بلندیوں کی طرف تین سڑکیں تعمیر کرنے میں مصروف تھیں۔ شام 5:30 بجے تک ایک سڑک کی تعمیر کلہ قندی کی بلندی کے 200 میٹر کے فاصلے تک مکمل ہو چکی تھی، لیکن بلندی خالی ہونے کی وجہ سے جہادِ سازندگی کا کام ادھورا رہ گیا۔ فورسز کے پیچھے ہٹنے پر جہادِ سازندگی نے اپنے لوڈر اور بلڈوزر پیچھے ہٹا لیے تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔[10]
اس آپریشن میں آرمی ایوی ایشن نے مریوان کے مغرب میں واقع مسجد سلیمان بیس کے 17 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 487 گھنٹے کی پروازیں کیں، جس کے دوران 1714 فوجیوں، 780 زخمیوں اور 20 ٹن گولہ بارود کو منتقل کیا گیا۔[11]
اس معرکے میں عراقی فوج کی 27 ویں ڈویژن کی بریگیڈز 96 اور 424، بریگیڈ 86 کی بٹالین نمبر 1، 2 اور 3، اسی ڈویژن کی 36 ویں انفنٹری بریگیڈ کی پہلی اور تیسری بٹالین، 8 ویں ڈویژن کی الحارثہ نامی 2 بٹالینز، صلاح الدین نقشبندی بٹالین اور 27 ویں ڈویژن کی 8 ویں اور 18 ویں آرٹلری بٹالینز کو اوسطاً 30 سے 80 فیصد تک نقصان پہنچا اور 45 ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ عراق کے 3,500 فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ 310 افراد کو جنگی قیدی بنا لیا گیا۔[12]
حوالہ جات
- [1]. جعفری، مجتبی، اطلسِ نبردہائے ماندگار، پچاسواں ایڈیشن، تہران، سورہ سبز پبلیکیشنز، 2019، صفحہ 150۔
- [2]. ایزدی، یداللہ، روز شمار جنگ ایران و عراق - کتاب 54 (آپریشن والفجر 10)، تہران، مرکزِ دستاویزات و تحقیقاتِ دفاعِ مقدس، 2013، صفحہ 25
- [3]. ایضاً، صفحہ 25۔
- [4]. ایضاً، صفحہ 796
- [5]. ایضاً، صفحہ 797
- [6]. ایضاً، صفحہ 821
- [7]. ایضاً، صفحہ 845۔
- [8]. ایضاً، صفحہ 25۔
- [9]. ہاشمی، علی رضا، کارنامه و خاطرات هاشمی رفسنجانی - سال 1988 (پایان دفاع آغاز بازسازی)، تہران، دفترِ نشرِ معارفِ انقلاب، 2011، صفحہ 80۔
- [10]. ایزدی، یداللہ، ایضاً، صفحہ 845۔
- [11]. اردشیر زادہ، کریم، حماسه های ماندگار هوانیروز در دفاع مقدس، تہران، نویدِ طراحان، 2009، صفحات 157 اور 158۔
- [12]. بیت المقدس 5 و رزم دلاورانه ارتش، خبرگزاری جمهوری اسلامی (ارنا)، 11 اپریل 2018، www. irna. ir/news/82883630