7 ویں ولی عصر ڈویژن

7 ویں ولی عصر ڈویژن، دفاع مقدس کے دوران سپاہ پاسداران کی اسپیشل فورسز میں سے ایک تھی جس کے زیادہ تر فوجی صوبہ خوزستان کی سپاہ اور بسیج سے تعلق رکھتے تھے۔ سپاہ پاسداران کی اس ڈویژن کا ابتدائی ڈھانچہ آٹھ سالہ جنگ سے پہلے صوبہ خوزستان میں تشکیل دیا گیا تھا۔ البتہ اس سے بھی پہلے دزفول شہر کے فوجیوں اور سپاہ پاسداران دزفول نے اس کے ابتدائی خدو خال پیش کئے تھے⁠[1]۔

یہ ڈویژن مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ سے پہلے سپاہ دزفول کے ہمراہ ملک کےمغربی علاقے میں کوملہ اور ڈیموکریٹ جیسے ضدانقلاب گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پیش پیش تھی اور اس کی یہ فعالیت جنگ کے آغاز تک جاری رہی⁠[2]۔

عراق نے جب ایران پر زمینی اور فضائی حملہ کیا تو اس حملے میں ایران کے جنوبی شہروں پر بمباری کی گئی جس پر سپاہ دزفول کے ماتحت رضاکارانہ طور پر تیار ہونے والےعام افراد میں دزفول، شوش اور اندیمشک کے لوگ بھی شامل ہوگئے جو ایرانی افواج کے شانہ بشانہ دشمن سے مقابلہ کرتے رہے۔ کرخہ کے مغربی علاقے میں بھی دوسرے صوبوں کے لوگوں کو جنگی تربیت دے کر روانہ کیا گیا تا کہ دشمن کی پیش قدمی کو روکا جا سکے، لیکن فوجیوں کی تعداد میں کمی اور سرحدی علاقے میں ضروری جنگی وسایل نہ ہونے کے باعث دشمن پل نادری (کرخہ پل) تک آگے بڑھنے میں کامیاب ہوا اور کرخہ چھاؤنی تباہ کر دی، جس کے نتیجے میں سپاہ دزفول کی آپریشنل یونٹ کو کرخہ چھاؤنی سے دزفول شہر منتقل ہونا پڑا⁠[3] ۔

اس کے بعد سپاہ دزفول کے ان فوجی دستوں کو جو ضدانقلاب گروہوں سے لڑنے کے لئے ایران کی مغربی جانب گئے تھے، جنوبی خطے میں بلا لیا گیا اور دشت عباس میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد غیر منظم آپریشن کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ دزفول بٹالین اور دزفول مزاحمت کی بریگیڈ7 کی تشکیل عمل میں لائی گئی⁠[4]۔

دزفول بٹالین دراصل اندیمشک، شوش اور دزفول کے سپاہیوں پر مشتمل تھی جو طریق القدس آپریشن (29 نومبر 1981) سے قبل پہلی بار سامنے آئی اور "خط شکن بٹالین" (Assault Battalion)کے عنوان سے اس آپریشن میں شریک رہی۔ یہ اس بٹالین کا پہلا منظم تجربہ تھا اور اس نے دزفول بریگیڈ بننے کا زمینہ فراہم کیا⁠[5]۔

1981 کے اواخر (1982 کے آغاز )  میں سپاہ پاسداران کے ٹاسک یونٹ کے ادارے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ٹاسک برگیڈز بنانے کا فیصلہ کیا گیا؛ سپاہ دزفول کی یونٹ ان بٹالینز میں سے تھی جو سب سے پہلے 22 دسمبر 1981 کو بریگیڈ کی صورت میں سامنے آئیں، اس بریگیڈ کو جنوری 1982 کے اوائل میں 7 ویں دزفول مزاحمت بریگیڈ کا نام دیا گیا؛ عبد المحمد رؤوفی اور محمد حسن کوسہ چی اس 7 ویں بریگیڈ کے کمانڈر اور جانشین مقرر ہوئے⁠[6]۔

7 ویں ولی عصر بریگیڈ کے فوجی دستے فتح المبین آپریشن سے پہلے تک "دوکوہہ سفید" چھاونی میں کربلا مرکزی کیمپ کے ماتحت تھے اورڈویژن کے تربیتی معاملات اسپیشل بٹالینز کی چھاونی میں دریائے کرخہ کے کنارے پر انجام پاتے تھے، اسی طرح دزفول کے مغرب میں اور پلاژ اندیمشک میں واقع شہید مصطفی خمینی (رح) چھاونی میں بھی یہ تربیتی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں⁠[7]۔

شروع میں 7 ویں بریگیڈ، فتح المبین آپریشن کے دوران (22 مارچ 1982 میں ) تپہ چشمہ، کرخہ، صالح مشطط اور مالح کے محاذوں پر سرگرم رہی اور اس آپریشن میں دشمن کی افواج کو بین الاقوامی سرحدوں تک عقب نشینی کرنا پڑی⁠[8]۔ نیز اس بریگیڈ نے مذکورہ آپریشن میں ابو صلیبی خات کی پہاڑیوں میں نصب شدہ سایٹ 4 اور 5 پر قبضہ بھی کر لیا⁠[9]۔

مذکورہ آپریشن کے بعد دزفول کی اس بریگیڈ کا نام، "حضرت ولی عصرعج" کے مبارک نام پر رکھ دیا گیا؛ اور پھر اس بریگیڈ کو ڈویژن کا رتبہ ملا اور یوں آج بھی یہ "7 ویں ولی عصرڈویژن" کے نام سے موسوم ہے⁠[10]۔

دوسرا اور سب سے اہم آپریشن کہ جس میں 7 ویں ولی عصر ڈویژن شریک تھی، (30 اپریل 1982 سے 24 مئی 1982 تک) بیت المقدس آپریشن تھا جو دیائے کارون کے مغرب میں کیا گیا۔ اہواز-خرم شہر ہائی وے کا کچھ حصہ، بین الاقوامی سرحد کی دیکھ بھال اور شلمچہ-خرم شہر ہائی وےکو آزاد کرانا 7ویں بریگیڈ کے ان اہداف میں سے تھا جو اس نے سب مکمل کئے۔ اس بریگیڈ نے 13 جولائی 1982میں بھی رمضان آپریشن میں شرکت کی⁠[11]۔

مقدماتی آپریشن والفجر(فروری 1983) سے پہلے 7 ویں بریگیڈکو ڈویژن میں بدل دیا گیا اور صوبہ خوزستان ور لرستان کے شہروں کی بٹالینز بھی اس سے ملحق ہو گئیں⁠[12]۔ ڈویژن کا رتبہ پانے کے بعدیہ ڈویژن مقدماتی آپریشن والفجر(17 اپریل 1983)، آپریشن والفجر-1 (17 اپریل 1983) اور آپریشن خیبر (22 فروری 1984)میں شریک رہی⁠[13]۔

7 ویں ولی عصر ڈویژن نے خیبر آپریشن میں اہواز کی تین بریگیڈز (دزفول، شوشتر اور اندیمشک)کے ساتھ شرکت کی۔ یہ شہر اس ڈویژن کی جنگی معاونت میں پیش پیش تھے، لیکن خیبر آپریشن کے بعد ڈویژن کے ڈھانچے کو بریگیڈز سے بٹالینز میں بدل دیا گیا⁠[14]۔

توپ خانے کی یونٹیں،آپریشنز کی معلومات، جنگی ساز و سامان، ملٹری انجینئرنگ، میڈیکل یونٹ، مواصلات، افرادی قوت، اسلحے کے صندوق، لوڈرز، بکتر بند، ڈیفینس سسٹم اور تبلیغات ، پروپیگنڈا سیکشن 7ویں ڈویژن کی یونٹوں کا حصہ تھا⁠[15]۔

16 ستمبر 1986 کو کربلا- 4 آپریشن سے کچھ پہلے بہبہان شہر کی امام حسن مجتبی (علیہ السلام) 15 ویں بحری – بری بریگیڈ کو منحل کر کے تمام فورسز کو 7ویں ولی عصر ڈویژن کی بٹالینز میں شامل کر دیا گیا۔

7 ویں ولی عصر ڈویژن، کربلا-4 آپریشن24 دسمبر 1986میں اور پھر کربلا-5 آپریشن 9 جنوری 1987میں شریک رہی۔ اس آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ بصرہ کے مشرق میں مچھلیوں کے تالاب کے کنارے ہلال کی صورت میں موجود دو محاذوں کا تصرف اور انہیں کلیئر کرنا تھا۔ 7 ویں ڈویژن نے آپریشن کی دوسری رات قمر بنی ہاشم (علیہ السلام) بٹالین اور مالک اشتر بٹالین کو ٹیکٹیکل کیمپ میں رکھا، پھر قدس کیمپ سے نکل کراور کربلا کیمپ کے ماتحت میدان جنگ میں اتری۔ کربلا کیمپ کی کمان نے سب سے پہلے جو ذمہ داری اس ڈویژن کو سونپی وہ ان پانچ مقامات، کہ جن میں مختلف پل شامل تھے، میں سے بائیں طرف والے بالائی حصے پر قبضہ کرنا تھا۔ اگلی رات 7 ویں ڈویژن کی بٹالین کے ستر افراد اور مالک اشتر بٹالین کے کچھ افراد، دشمن کی جانب سے شہید صفوی روڈ پر کیمیکل بم حملوں کی زد میں آکر زخمی ہو گئے۔ آخرکار بیس شب و روز کی جنگ اور مزاحمت کے بعد ایرانی فوجی مچھلیوں کے تالاب اور "دوعجیبی" اور "جاسم" نامی دو نہروں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بصرہ کے مشرق میں چھ کلو میٹر کے فاصلے پر پڑاؤ ڈال لیا اور اس کے علاوہ کئی علاقوں پر اپنا قبضہ مضبوط کر لیا جن میں بوبیان چھاونی، شلمچہ، کوت سواری، خین، جزیرہ بوارین، جزیرہ فیاض، جزیرہ ام الطویل اور مچھلیوں کے تالاب کا کچھ حصہ شامل تھا اور یوں آپریشن کربلا-5 اپنے اختتام کو پہونچا⁠[16]۔

 آپریشن کربلا-5کے بعد 7 ویں ولی عصر ڈویژن نے نصر-4 آپریشن(21 جون 1987)، نصر-8(17 نومبر 1987)، والفجر-10 (14 مارچ 1988)اور بیت المقدس-7(13 جون 1988) آپریشن میں بھی شرکت کی⁠[17]۔

اس کے بعد عراقی فوج نے 25 مئی اور 25 جون 1988 کو بڑے پیمانے پرکیمیکل جنگی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پوری طاقت کے ساتھ شلمچہ، جزائر مجنون اور جفیر کے علاقے پر حملہ کر دیا اور ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا جو آپریشن کربلا-5، آپریشن خیبر اور آپریشن بدر میں ایرانی فوج نے آزاد کروائے تھے اور 7 ویں ولی عصر ڈویژن کے کئی فوجیوں بھی قیدی بنا لیا جو آپریشنل ایریا والفجر-10، نصر-4، بدر اور جزائر مجنون میں دفاعی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھے⁠[18]۔

22 جولائی 1988 کو جمعے کی فجر کے وقت اور ایران کی جانب سے 598 قرارداد 598 کو تسلیم کرنے کے تین دن بعد، عراق نے دوبارہ "کوشک" اور شلمچہ کے محاذوں سے ایرانی سرزمین میں پیش قدمی کی اور اہواز-خرم شہر روڈ کا تیس کلو میٹر حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ 7 ویں ولی عصر7 ڈویژن نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے اپنی اسپیشل بٹالینز کو حمید چھاونی کے مثلث پر بھیجا اور دشمن پر حملے کے لئے تیار کیا اور دشمن کے ساتھ بنا کسی جھڑپ کے سرحد تک پہونچ گئے اور دفاعی لائن تشکیل دے دی⁠[19]۔

7 ویں ولی عصرڈویژن نے آٹھ سالہ جنگ میں 38 بٹالینز کے ساتھ14 آپریشنز میں حصہ لیا ہے⁠[20]۔

اس مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد اور سپاہ پاسداران کی پانچ فورسز کی تشکیل کے ساتھ،3 نومبر 1988 کو ایک بار پھر 7 ویں ولی عصر ڈویژن، بریگیڈ میں تبدیل ہوگئی اور انتظامی  لحاظ سے صوبہ خوزستان کی چھٹی سپاہ کے ماتحت آ گئی۔ تین بریگیڈز:پہلی حضرت حجت «عج» آرمرڈ بریگیڈ(اہواز)، دوسری امام حسن (ع) پیادہ بریگیڈ(بہبہان) اور تیسری حضرت مہدی «عج» پیادہ بریگیڈ (دزفول)نے ملک کے مکمل جنوبی خطے کی سرحدوں کی حفاظت اور دفاعی پوزیشن پر رہنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔

2008 میں صوبائی سپاہ کی تشکیل کےبعد، ڈویژن کی تیسری بریگیڈمستقل طور پر نیم عسکری ادارے کی حیثیت اختیار کر گئی جس کا نام "ولی عصر سپاہ صوبہ خوزستان" رکھا گیا اور دوسری اور تیسری بریگیڈ بھی سپاہ کی زمینی فورسز کی تشکیل میں ضم ہو گئیں⁠[21]۔

7 ویں ولی عصرڈویژن کے کمانڈروں میں ابتدا سے لے کر ابھی تک، عبد المحمد رؤوفی نژاد ؛فتح المبین سے نصر 8 تک، مہدی کیانی؛ والفجر10 اور بیت المقدس 7، محمد نبی رودکی، احمد سوداگر ؛ جو کیمیکل حملے میں زخمی اور پھر انہی زخموں کے نتیجے میں شہید ہو گئے، محسن کاظمینی، حسن شاہوارپور، عبد الرحمان پور جوادی اور حسین نژاد تھے⁠[22]۔

اکبر منصوری (1982- بیت المقدس، سلمان بٹالین کے کمانڈر)،جعفر حیدریان (1982- فتح المبین، ابو ذر بٹالین کے کمانڈر) اور مصطفی عسکری (1985- والفجر8، علی ابن ابی طالب بٹالین کے کمانڈر)بھی 7 ویں ولی عصر ڈویژن کی بٹالینز کے کمانڈر رہے اور مسلط کردہ جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔

آٹھ سالہ جنگ میں 7 ویں ولی عصر ڈویژن کے شہدا کی تعداد تئیس ہزار تھی جب کہ زخمی پینتیس ہزار اور قید سے رہائی پانے والے ساڑھے تین ہزار افراد تھے،ا س کے علاوہ مذکورہ شہدا کی گنتی میں پانچ سو گمنام شہید بھی شامل ہیں⁠[23]۔

آج بھی 7 ویں ولی عصر ڈویژن،سپاہ ولی عصر صوبہ خوزستان کی آپریشنل یونٹ ہے اور سپاہ پاسداران کی زمینی فورس کے ماتحت خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] کوچک، عبد المحمد، اطلس لشکر7 ولی عصر«عج» در دوران دفاع مقدس، تہران، مرکش اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاہ پاسداران امقلاب اسلامی، 2019، ص16
  • [2] سابق
  • [3] سابق
  • [4] سابق، ص 16، 20
  • [5] سالمی نژاد، عبدالرضا، فاتحان سایت و رادار- گزارش عملیات فتح المبین، ج1، تہران، نیلوفران، 2016، ص13، 14
  • [6] کوچک، عبد المحمد، سابق، ص 16
  • [7] سابق، ص 20، 21، 23
  • [8] سابق، ص 48
  • [9] سالمی نژاد، عبد الرضا، نبرد در رمل ہای جنگل عمقر- گزارش عملیات والفجر مقدماتی، ج4، تہران، نیلوفر، 2018، ص14
  • [10] کوچک، عبد المحمد، سابق، ص10، 17
  • [11] سابق، ص 48، 114، 126
  • [12] سابق، ص 10
  • [13] سابق، ص 48، 136، 144 اور 152
  • [14] سابق، ص 20۔ 21
  • [15] سابق، ص 42-30
  • [16] سابق، ص 205، 214، 190 اور 48
  • [17] سابق، ص 48
  • [18] سابق، ص 258
  • [19] سابق، ص259
  • [20] سابق، ص 10
  • [21] سابق، ص 21
  • [22] سابق، ص 27 اور 273
  • [23] سابق، ص 266- 262

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا