خور موسیٰ

خورِ موسیٰ خلیج فارس میں، بندر امام خمینی کی حدود میں ضلع ماہشہر کے پاس خلیج فارس کے شمال مغرب اور جنوب استان خوزستان میں واقع ہے۔

یہ آبی گزرگاہ شمال میں بندر ماہشہر اور مغرب میں دریائے بہمن شیر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا دہانہ تقریباً 150 میٹر اور اوسط چوڑائی 37 کلومیٹر کے قریب ہے، جو بندر امام خمینی کے نزدیک تقریباً 2 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ یہ شمال اور شمال مغرب کی سمت میں 77 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، پھر مشرق کی جانب مڑ کر بندر ماہشہر پر ختم ہوتا ہے۔ اس کی گہرائی 20 سے 40 میٹر تک بدلتی رہتی ہے۔ اس گہرائی کی بدولت سمندر میں چلنے والے بڑے جہاز یہاں باآسانی آمد و رفت کر سکتے ہیں۔ خورِ دورق کے آخر میں واقع بندر بوزی، بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی اس کے ساحل پر موجود اہم بندرگاہیں ہیں۔⁠[1] خورِ موسیٰ میں کچھ غیر آباد جزیرے بھی ہیں، جن میں دارا، بونہ اور قبرِ ناخدا شامل ہیں۔⁠[2] اس کے نام کی وجہِ تسمیہ کے بارے میں تاریخی اور جغرافیائی مآخذ میں مختلف آراء ملتی ہیں، جن میں سب سے مشہور یہ ہے کہ اس کا نام موسیٰ نامی ایک نامور ناخدا کے نام پر رکھا گیا ہے۔⁠[3]

جغرافیائی محلِ وقوع، بندر امام خمینی اور وہاں مال لادنے، اتارنے کی جدید سہولیات اور زیادہ جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی گنجائش کی وجہ سے خورِ موسیٰ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بندر ماہشہر کا ساحل پر ہونا اور وہاں تک پہنچنے کے راستے اس کی اہمیت مزید بڑھاتے ہیں۔⁠[4] عراق نے اپنی ہمہ گیر جارحیت شروع کرنے سے ایک دن پہلے، یعنی 21 ستمبر 1980 کو "آزادی" نامی ایرانی جہاز کو اس آبی گزرگاہ میں نشانہ بنایا۔⁠[5]

 22 ستمبر 1980 کو ایران پر عراقی حملے کے آغاز کے ساتھ ہی دشمن کی فوج شلمچہ-خرمشہر-آبادان کے محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے دریائے کارون عبور کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ انہوں نے آبادان-اہواز سڑک پر قبضہ کر لیا اور پھر آبادان-ماہشہر شاہراہ کو بھی منقطع کر کے پورے علاقے کا گھیراؤ کر لیا۔ اس طرح آبادان کا زمینی رابطہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ ان حالات میں آبادان میں موجود مجاہدین کو رسد پہنچانے کا واحد ذریعہ بندر امام خمینی سے خورِ موسیٰ اور دریائے بہمن شیر کا آبی راستہ تھا، جہاں لنج کے ذریعے سامان پہنچایا جاتا تھا۔ جب تک شہید شہشہانی (وحدت) سڑک تعمیر نہیں ہوئی تھی، یہ راستہ آبادان کے دفاع کے لیے نہایت اہم تھا۔⁠[6]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں جب آبادان اور خرمشہر کی بندرگاہوں کی سرگرمیاں معطل ہوئیں، تو عراق نے خورِ موسیٰ کے راستے کو غیر محفوظ بنانے اور اسے بند کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ عراق کا مقصد بندر امام خمینی تک تجارتی جہازوں کی رسائی روکنا تھا۔ 15 اکتوبر 1980 کو "پیام" نامی رسد پہنچانے والی کشتی اور "نوید" نامی جہاز جب خورِ موسیٰ سے بندر عباس جا رہے تھے، تو دو عراقی مگ طیاروں نے ان پر حملہ کیا۔⁠[7] 25 اکتوبر 1981 کو دو تجارتی جہاز (ایرانی اور بھارتی) مال اتار کر بندر امام خمینی سے نکل رہے تھے کہ عراقی میزائل حملے کا شکار ہو گئے۔ "ایران رضوان" نامی جہاز خورِ موسیٰ کے قریب غرق ہو گیا اور بھارتی جہاز "وش وشوا مترا" میں آگ لگ گئی۔⁠[8] 6 جون 1982 کو 27 ہزار ٹن کھاد لے جانے والے یونانی جہاز "کوڈلاک" پر عراقی طیاروں نے حملہ کیا۔⁠[9] 26 جون 1982 کو خورِ موسیٰ میں ایک یونانی جہاز میزائل حملے سے آگ کی لپیٹ میں آگیا۔⁠[10] 9 اگست 1982 کو یونانی جہاز "لیسٹن پرائیڈ" اور جنوبی کوریا کے کرایے پر لیے گئے جہاز "بینو سامبو" کو، جو بندر ماہشہر میں سامان اتار چکے تھے، ہیلی کاپٹر سے داغے گئے راکٹوں نے نشانہ بنایا اور لیسٹن پرائیڈ غرق ہو گیا۔⁠[11] 1982 میں 4 ستمبر، 8 ستمبر، 9 ستمبر، 11 ستمبر، 13 ستمبر، 17 ستمبر اور 18 دسمبرکے مختلف ایام میں عراق نے خورِ موسیٰ میں گزرنے والے ملکی و غیر ملکی جہازوں پر حملے جاری رکھے۔⁠[12]

2 جنوری 1983 کو بوشہر سے بندر امام خمینی جانے والے 8 تجارتی جہازوں کو خورِ موسیٰ کے دہانے پر نشانہ بنایا گیا، جس سے سنگاپوری جہاز "ایسترن ہانٹر" اور لائبیریا کے جہاز "ارتیت ہورا" اور "یزن" کو نقصان پہنچا۔⁠[13] عراقی فوج یہ حملے ہیلی کاپٹروں، طیاروں اور راس البیشہ میں قائم میزائل چھاؤنی سے کرتی تھی۔⁠[14] ان حملوں کو کم کرنے کے لیے 1983 سے یہ فیصلہ ہوا کہ جو جہاز بندر بوشہر سے بندر امام خمینی جاتے یا وہاں سے نکلتے تھے، انہیں ہر دس سے بیس دن کے وقفے سے ایک فوجی حفاظتی دستے (ایسکورٹ) کے ساتھ روانہ کیا جائے۔ اس دستے میں فضائیہ کے لڑاکا طیارے، زمینی فوج کے طیارے او ر آئل کمپنی کے ہیلی کاپٹر، فوج کی جنگی کشتیاں، سپاہ پاسداران کی مسلح تیز رفتار کشتیاں اور دیگر دفاعی سامان شامل ہوتا تھا۔⁠[15] اس کے باوجود، عراق اپنے جاسوسی نظام سے ان قافلوں کی روانگی کا پتہ لگا لیتا اور حملہ کرتا۔ حفاظتی دستوں کا فضائی دفاعی نظام بھی زیادہ موثر ثابت نہ ہوا اور اکثر جہاز عراقی راکٹوں کا شکار ہو جاتے۔⁠[16] 12 ستمبر 1983 کو 21 جہازوں کے قافلے پر بندر امام خمینی جاتے ہوئے بمباری کی گئی، تاہم زیادہ نقصان نہیں ہوا۔⁠[17] 12 اکتوبر 1983 کو 19 جہازوں کے قافلے پر حملہ ہوا، جس میں "ایران شہادت" نامی جہاز کے انجن روم میں میزائل لگنے سے وہ ڈوب گیا۔⁠[18] 31 اکتوبر 1983 کو بھی ایک قافلے پر تین میزائل داغے گئے، جن میں سے ایک یونانی جہاز "اورا" کو لگا جو 10 ہزار ٹن کیمیائی کھاد سے لدا ہوا تھا، جہاز میں آگ لگ گئی۔⁠[19] 21 نومبر 1983 کو خورِ موسیٰ کے قریب پہنچنے والے دو الگ الگ قافلوں پر حملہ ہوا جس میں دو مال بردار جہازوں کو نقصان پہنچا۔⁠[20] دسمبر 1983 سے اگست 1984 کے درمیان بھی کئی بار جہازوں کے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا۔⁠[21]

ستمبر 1984 میں بندر عباس میں بندر شہید رجائی کے پہلے فیز کے افتتاح اور جنگ کے اختتام تک اس کی توسیع سے خورِ موسیٰ میں جہازوں کی آمد و رفت میں بڑی کمی آگئی۔ اس اقدام سے عراقی حملے عملی طور پر ناکام ہو گئے۔⁠[22] جنگ ختم ہونے کے بعد بندر امام خمینی اور ماہشہر کی جیٹیوں اور تنصیبات کی مرمت کی گئی اور اس آبی گزرگاہ کی رونق بحال ہوگئی۔⁠[23] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کرد ہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران خورِ موسیٰ میں 7 جہاز غرق ہوئے تھے۔ جنگ کے بعد اس راستے کو صاف کرنے اور جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے ان ڈوبے ہوئے جہازوں کو نکالنے کا کام شروع کیا گیا جو 2018 تک جاری رہا۔⁠[24] جنگ کے علاوہ حادثاتی طور پر ڈوبنے والے جہازوں کو بھی نکالا گیا، جیسے نومبر 2021 میں "سارا" نامی جہاز کو نکالا گیا جو 2005 میں حادثے کا شکار ہو کر غرق ہوا تھا۔⁠[25] اب 80 ہزار ٹن وزنی جہازوں کی چوبیس گھنٹے آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے خورِ موسیٰ کی مسلسل صفائی کی جاتی ہے۔ اس کام کا تازہ ترین مرحلہ فروری 2021 میں شروع ہوا جو جنوری 2023 تک 71 فیصد مکمل ہو چکا تھا۔⁠[26]

 

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] حداد عادل، غلام علی (زیر نظر)، دانشنامۀ جهان اسلام، ج 16، تهران: بنیاد دایره‌المعارف اسلامی، 1996، ص 438.
  • [2] امین سبحانی، ابراهیم، خورموسی، مجله علوم انسانی دانشگاه سیستان و بلوچستان، ش 4، بہار و گرما 1997، ص 75.
  • [3] قیم، بهادر، تاریخ هشتاد ساله بندر امام خمینی(ره)، اصفهان: همای رحمت، 2009، ص 67-61.
  • [4] بختیاری، مسعود، بندر امام خمینی(ره) و سیادت دریایی، تهران، ایران سبز، 2012، ص 13.
  • [5] سلیمانی‌خواه، نعمت‌الله، تصمیم صدام به جنگ علیه ایران: لغو یک جانبه معاهده 1975 الجزایر، تهران: مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2015، ص 1175
  • [6] لطف‌الله‌زادگان، علی رضا، هویزه، آخرین گام‌های اشغالگر: زمینگیر شدن و توقف کامل دشمن، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 1994، ص 77-75 ؛ بختیاری، مسعود، سابق، ص 11.
  • [7] صادقی‌گویا، نجات علی، دفاع از آبادان: دفاع از آبادان در سال اول جنگ تحمیلی، تهران: ایران سبز، 2012، ص 61.
  • [8] لطف‌الله‌زادگان، علی رضا، آزادسازی سرزمین‌های ایران- گام دوم : بستان؛ اوج‌گیری ترورهای کور، تشکیل دولت پس از بحران، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2015، ص 309.
  • [9] حبیبی، ابوالقاسم، آزادسازی خرمشهر: پایان رویای تجزیه ایران، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2000، ص 798.
  • [10] لطف‌الله‌زادگان، علی رضا، عبور از مرز: تعقیب متجاوز با عملیات رمضان، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2002، ص 73.
  • [11] سابق، ص 575.
  • [12] لطف‌الله‌زادگان، علی رضا، عملیات مسلم بن عقیل: آزادی ارتفاعات سومار و تهدید مندلی – تصویب قطعنامه 522 شورای امنیت، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2012، ص 203، 252، 267، 295، 317، 371؛ لطف‌الله‌زادگان، علی رضا، والفجر مقدماتی: دستگیری مرکزیت حزب توده و افزایش تیرگی روابط با شوروی، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2013، ص 50.
  • [13] لطف‌الله‌زادگان، علی رضا، سابق، ص 167.
  • [14] لطف‌الله زادگان، علی رضا و ایرج همتی، نخستین عملیات بزرگ در شمال غرب: والفجر 4، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2018، ص 426 .
  • [15] سابق، ص 40-39.
  • [16] نعمتی، یعقوب و دیگران، آماده‌سازی عملیات والفجر4: تجهیز عراق به جنگنده‌های سوپراتاندارد؛ تهدید ایران به بستن تنگه هرمز، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2015، ص 426.
  • [17] سابق
  • [18] سابق، ص 1043.
  • [19] لطف‌الله زادگان، علی رضا و ایرج همتی، سابق، ص 436
  • [20] سابق، ص 811-810
  • [21] سابق، ص 1035؛ یزدانفام، محمود، آغاز جنگ نفتکش‌ها: توافق غیر مستقیم برای قطع حملات به مناطق مسکونی، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2018، ص 100، 791، 875؛ نعمتی وروجنی، یعقوب و حجت‌الله کریمی، رکود در جبهه؛ تحرک در دیپلماسی، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2019، ص 473.
  • [22] قیم، بهادر، تاریخ هشتاد ساله بندر امام خمینی(ره)، اصفهان، همای رحمت، 2009، ص 202؛ بختیاری، مسعود، سابق، ص 23.
  • [23] بختیاری، مسعود، سابق
  • [24] کیهان، ش 21643، 10/06/2017، ص 7؛ https://www.isna.ir/news/97061306604 .
  • [25] https://www.mehrnews.com/news/5357073 .
  • [26] دنیای اقتصاد، ش 1002، 11/07/2006، ص 27؛ رسالت، ش 7128، 09/11/2010، ص 16؛ https://mana.ir/fa/news/94814 .

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا