سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 522

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 522، مورخہ 4 اکتوبر 1982 کو عراق کی درخواست پر منظور کی گئی تھی۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی جب میدانِ جنگ میں ایران کو نمایاں فوجی برتری حاصل ہو رہی تھی اور ایرانی افواج عراقی سرزمین میں نئے محاذ کھول رہی تھیں۔

1982 میں آپریشن بیت المقدس میں ایرانی افواج کی فیصلہ کن فتح، خرم شہر کی آزادی اور 5000 مربع کلومیٹر سے زائد مقبوضہ علاقوں کی واگزاری کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ عراق پر اس فوجی برتری کے نتیجے میں ایک باوقار امن کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم، مغرب اور اس کی قیادت میں امریکہ نے بعثی حکومت کو بچانے اور اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی کوششیں شروع کر دیں۔ عراق کے حامی ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتی تھیں جس میں امن مذاکرات کے دوران ایران کو بالا دستی حاصل نہ ہو۔ دوسری جانب، بعثی حکومت اب بھی اپنے پرانے مؤقف، بشمول 1975 کے معاہدہ الجزائر کی منسوخی پر بضد تھی۔ مزید برآں، عراق نے ایران کے بعض اہم سرحدی مقامات، جن کی جیو اسٹریٹجک اہمیت تھی، اب بھی اپنے قبضے میں رکھے ہوئے تھے (جیسے شلمچہ، طلائیہ، حمرین کی سرحدی بلندیاں، مہران کی بلندیاں، قصرِ شیریں اور نفت شہر) تاکہ دوبارہ فوجی حملے اور خطرے کا امکان برقرار رہے۔⁠[1]

اس صورتحال میں، اسلامی جمہوریہ ایران جو کہ ایک باوقار امن، جارح کے تعین اور اسے سزا دینے، تاوان کی وصولی اور " نہ جنگ، نہ امن" کی کیفیت سے چھٹکارے کا خواہاں تھا، اپنے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے دفاع جاری رکھنے پر مجبور ہوا۔ ان اہداف کی تکمیل کے لیے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے دفاع کو جاری رکھنے کی نئی فوجی حکمتِ عملی ترتیب دی۔ اس حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ " بصرہ کے علاقے پر قبضہ" کرنا تھا تاکہ اسے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس حکمتِ عملی کو " جارح کی سزا" کا نام دیا گیا، جسے جون 1982 میں امام خمینیؒ (بطور سپریم کمانڈر) کی موجودگی میں اعلیٰ عسکری قیادت نے منظور کیا۔⁠[2]

اس اسٹریٹجی کے مطابق، ایرانی افواج کو بصرہ کے شمال اور مشرق کے علاقوں پر قبضہ کر کے، دریائے دجلہ اور دریائے اروند (شط العرب) کے کناروں پر مستقر ہونا تھا تاکہ بصرہ شہر تک رسائی کے راستوں کو کنٹرول اور مستحکم کیا جا سکے۔ اس حکمتِ عملی کے کئی مقاصد تھے، جن میں سب سے اہم، کامیابی کی صورت میں مذاکرات میں برتری حاصل کرنا تھا۔⁠[3]

اہواز کے جنوب اور جنوب مغربی محور پر " آپریشن رمضان" (14 جولائی 1982) کے ذریعے ایرانی فوجی کارروائیوں میں شدت، " آپریشن مسلم بن عقیل" (1 اکتوبر 1982) میں سومار کے وسیع علاقوں کی آزادی اور مندلی شہر پر تسلط حاصل ہونے کے بعد، عراقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اپنی شکست روکنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔

صدام حکومت نے مغرب اور عرب ممالک کے تعاون سے یکم اکتوبر 1982 کو سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تاکہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے ایک " زبردستی کی مصالحت" پر مجبور کیا جا سکے۔ اس اجلاس میں عراق کے وزیر خارجہ سعدون حمادی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف مؤثر اقدامات کرے کیونکہ ایران " امن کو مسترد" کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں قرارداد نمبر 522 کی منظوری کا زمینہ ہموار ہوا اور سلامتی کونسل نے 4 اکتوبر 1982 کو متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کر لی۔⁠[4]

سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 522 کا متن کچھ یوں تھا:

«سلامتی کونسل، ایران اور عراق کی صورتحال کے عنوان کو دوبارہ زیرِ بحث لاتے ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے تسلسل اور پھیلاؤ پر افسوس کا اظہار کرتی ہے جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان اور قابلِ ذکر مالی نقصانات ہوئے ہیں اور امن و سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے:

اس بات پر دوبارہ زور دیتے ہوئے کہ خطے میں امن و سلامتی کی دوبارہ بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل کریں؛ قرارداد نمبر 479 (1980) کو یاد کرتے ہوئے جو 28 ستمبر 1980 کو متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی، اور کونسل کے صدر کے 5 نومبر 1980 کے بیان، نیز قرارداد نمبر 514 جو 12 جولائی کو متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اور کونسل کے صدر کے 15 جولائی 1982 کے بیان کو یاد کرتے ہوئے:

سیکرٹری جنرل کی 15 جولائی 1982 کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے: 1. پرزور طریقے سے دوبارہ فوری جنگ بندی اور تمام فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔

2. بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں تک واپسی کے اپنے مطالبے پر دوبارہ زور دیتی ہے۔

3. اس بات کا خیر مقدم کرتی ہے کہ ایک فریق (عراق) نے قرارداد نمبر 514 پر عمل درآمد کے لیے اپنے تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے، اور دوسرے فریق سے بھی ایسا ہی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

4. جنگ بندی کی نگرانی، تصدیق اور افواج کی واپسی کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مبصرین  بھیجنے کے اپنے فیصلے پر بلا تاخیر عمل درآمد کی ضرورت کی توثیق کرتی ہے۔

5. ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر دوبارہ زور دیتی ہے۔

6. دیگر ممالک سے اپنے اس مطالبے کو دہراتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کے تسلسل میں مددگار ثابت ہوں، اور درخواست کرتی ہے کہ اس قرارداد پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کریں۔

7. مزید برآں، سیکرٹری جنرل سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ 72 گھنٹوں کے اندر اس قرارداد پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی رپورٹ کونسل میں پیش کریں۔»⁠[5]

سلامتی کونسل کا وہ اجلاس جس میں قرارداد 522 منظور کی گئی، ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ایران کے نمائندے نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، اس کے باوجود سلامتی کونسل کے تمام پندرہ اراکین نے اس کی حمایت کی۔ اس قرارداد کا متن اردن کی جانب سے تیار کیا گیا تھا جو یکم اکتوبر 1982 سے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے ہوئے تھا، اور اسے عراق کی درخواست پر ایک مختصر مشاورتی اجلاس کے بعد منظور کر لیا گیا۔ اس قرارداد میں وہی نکات شامل تھے جو 12 جولائی 1982 کو قرارداد نمبر 514 میں منظور کیے گئے تھے، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔⁠[6]

عراق کے وزیر خارجہ سعدون حمادی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا: «عراق کی امن کوششوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ایران کی جانب سے مسترد کرنا اور اس ملک کا یہ اصرار کہ عراقی سپاہی اب بھی ایرانی سرزمین پر قابض ہیں، جنگ جاری رکھنے کے بہانے ہیں۔ اس کے باوجود، عراق ایک منصفانہ اور باوقار حل کا خواہاں ہے، جس کے حصول کے لیے اس نے کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کا عہد کیا ہے۔ امن و سلامتی کو مزید خطرات سے بچانے کے لیے کونسل کو اس فریق کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں جو امن کو مسترد کر رہا ہے۔»⁠[7]

مراکش کے وزیر خارجہ محمد بوستا نے بھی، جنہوں نے ووٹ ڈالنے کے حق کے بغیر کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تھی، عراق کی حمایت کرتے ہوئے اور سیکرٹری جنرل، ان کے خصوصی نمائندے، غیر وابستہ تحریک (NAM) اور اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) کی امن کمیٹی کی ثالثی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر عرب ممالک کے گروپ کے مطالبے پر زور دیا اور فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کوششوں کا " حسنِ نیت" کے ساتھ جواب دیں۔ بوستا نے کہا کہ یہ تنازع سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ فریقین حسنِ نیت اور امن کی خواہش رکھتے ہوں۔ مراکش کے وزیر خارجہ نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے عراقی حکومت کے حالیہ اقدامات کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ عراق کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان ایک بہادرانہ اور ذمہ دارانہ عمل ہے اور امن کی بین الاقوامی کوششوں کے لیے ایک گراں قدر تعاون ہے۔ ان کا خیال تھا کہ کونسل کو چاہیے کہ وہ ایران کو امن کی بحالی کے لیے کونسل کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دے۔⁠[8]

سلامتی کونسل کے ووٹ کے اعلان کے بعد، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل خاویر پیریز ڈی کوئیار نے کونسل کو بتایا: «اقوامِ متحدہ کی مبصر افواج کی تعیناتی ایران اور عراق دونوں ممالک کی منظوری سے مشروط ہے۔» انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر انہیں ایسی منظوری مل جاتی ہے تو وہ 48 گھنٹوں کے اندر مبصر دستے علاقے میں بھیج دیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔⁠[9]

سلامتی کونسل کے اجلاس کی تشکیل سے پہلے، چونکہ اس کا نتیجہ پہلے سے ہی واضح تھا، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اس اعلامیہ میں سلامتی کونسل کی صدارت اردن (جو جنگ میں عراق کے اہم اتحادیوں میں سے ایک تھا) کے پاس ہونے، اور عراق کی جارحیت اور ایرانی علاقوں پر قبضے کے خلاف کئی ماہ تک کونسل کی خاموشی پر شدید احتجاج کیا گیا۔⁠[10]

اس قرارداد میں کونسل نے کسی نئی پہل کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایران کی جانب سے اس قرارداد کو مسترد کیے جانے کے یقین کے ساتھ، اس کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ درحقیقت، سلامتی کونسل کی یہ لفاظی محض ایک سیاسی اقدام تھا جس کے مقاصد جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے بجائے کچھ اور تھے۔⁠[11]

سلامتی کونسل کے اجلاس اور اس کے فیصلے کے بعد، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے اجلاس کی تشکیل کے طریقے، عراق کی جانب کونسل کے سیاسی جھکاؤ اور سلامتی کونسل کے ساتھ تعاون کے لیے ایران کی شرائط کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں سلامتی کونسل کی جانبدارانہ کارکردگی اور 479، 514 اور 522 جیسی بے سود قراردادوں کے اجراء پر احتجاج کیا گیا اور اس قرارداد کو صدام حسین کی حکومت کے زوال کو روکنے کے لیے ایک جلد بازی میں کیا گیا اقدام قرار دیا گیا۔⁠[12]

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے سعید رجائی خراسانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی اور اس اجلاس کی صدارت اردن کے پاس ہونے پر احتجاج کیا۔ انہوں نے اس انٹرویو میں متعدد ایسے نکات کی نشاندہی کی جو عراق کے حق میں سلامتی کونسل کی جانبداری کا ثبوت تھے۔ ایران کے مستقل نمائندے نے قرارداد 522 کو مسترد کرتے ہوئے سفارتی ذرائع سے ایران کے قانونی مطالبات پورے کرنے پر زور دیا اور کہا کہ بصورتِ دیگر جدوجہد جاری رہے گی۔ رجائی خراسانی نے جارح کے تعین اور اسے سزا دینے، ایران کو جنگی تاوان کی ادائیگی اور عراقی جارحیت کے دوبارہ نہ ہونے کی کافی ضمانت کو امن کے قیام کے لیے ایران کی شرائط قرار دیا۔⁠[13]

آخر کار، ایران کے تین بنیادی مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس قرارداد کو ایرانی حکومت نے قبول نہیں کیا۔

 


حوالہ جات

  • [1]. درّی، حسن، " راهبرد عملیات محدود ایران پس از عملیات رمضان (29 جولائی 1982 تا 22 نومبر 1982) "، سہ ماہی مجلہ نگینِ ایران، دسواں سال، شمارہ 37، موسمِ گرما 2011، صفحہ 22۔
  • [2]. ایضا
  • [3]. ایضاً
  • [4]. سوداگر، احمد، جنگ و قطعنامه‌ های سازمان ملل متحد، قم، انتشارات ولاء منتظر، 2012، صفحہ 148۔
  • [5]. ایضاً، صفحات 148-149
  • [6]. لطف اللہ زادگان، علی رضا، روزشمار جنگ ایران و عراق، ج 21ـ عملیات مسلم‌ بن‌ عقیل، تہران، مرکزِ اسناد و تحقیقاتِ دفاعِ مقدس (سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی)، 2012، صفحہ 659۔
  • [7]. ایضاً
  • [8]. ایضاً
  • [9]. ایضاً، صفحہ 660
  • [10]. ایضاً، صفحہ 660۔
  • [11]. سوداگر، احمد، ایضاً، صفحات 149-150۔
  • [12]. لطف اللہ زادگان، علی رضا، ایضاً، صفحات 661 اور 663۔
  • [13]. ایضاً، صفحہ 665

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع