دریائے کارون
دریائے کارون ایران کا سب سے بڑا دریا ہے جو صوبہ خوزستان میں واقع ہے۔ یہ دریا عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران فریقین کے درمیان نبرد آزمائی کا میدان رہا ہے۔
دریائے کارون 850 کلومیٹر طوالت کے ساتھ ایران کا طویل ترین دریا اور خوزستان کی ایک اہم قدرتی دفاعی رکاوٹ ہے۔ اس کی اہم شاخوں کے سرچشمے یعنی رود ارمند، بازفت اور چشمہ دیمہ، زرد کوہ بختیاری (صوبہ چہار محال اوربختیاری) میں واقع ہیں جبکہ اس کی ذیلی شاخیں مختلف پہاڑوں سے نکلتی ہیں۔ یہ دریا پہاڑی علاقوں سے گزرنے کے بعد گتوند کے مقام پر خوزستان کے میدانوں میں داخل ہوتا ہے۔ شوشتر کے شمال میں یہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور اس شہر کے جنوب میں دوبارہ ایک دوسرے سے مل جاتا ہے۔ کارون کی سب سے اہم ذیلی شاخ دریائے دز ہے جو اہواز کے شمال میں اس سے آ ملتی ہے۔
کارون پہلے اروند رود کے شمال میں 4 کلومیٹر کے فاصلے سے براہ راست خلیج فارس میں گرتا تھا۔ تاہم خرم شہر میں عضدی نامی (عضد الدولہ دیلمی324-372 ق) نہر کی کھدائی کے بعد یہ دریا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔[1] ایک شاخ بہمنشیر کے نام سے آبادان کے شمال میں اروند رود کے متوازی خلیج فارس سے جا ملتی ہے اور دوسری شاخ کارون کے نام سے خرم شہر کے جنوب سے اروند رود میں گرتی ہے۔ اس دریا کی چوڑائی مختلف مقامات پر 150 سے 250 میٹر کے درمیان ہے۔
دریائے کارون ایران اور عراق کی سرحد پر دریائے اروند سے مل کر خلیج فارس کی طرف بہتا ہے۔ اس کے راستے میں موجود پیچ و خم نے خوزستان کو ایک بڑے زرخیز میدان میں بدل دیا ہے۔ اس دریا پر مختلف بند تعمیر کیے گئے ہیں جن میں کارون 1، کارون 3، کارون 4 اور مسجد سلیمان کے بند اہم ہیں۔ شہید چمران نامی نہر کے ذریعے روزانہ بیس ہزار مکعب میٹر پانی دریائے کرخہ سے کارون میں منتقل کیا جاتا ہے۔ کارون اب سابقہ دور کی طرح پر آب نہیں رہا اور اس میں جہاز رانی ممکن نہیں ہے۔ خرم شہر سے اہواز تک اس کی لمبائی 180 کلومیٹر ہے جسے " کارون سفلی" کہا جاتا ہے۔
عراقی فوج نے 22 ستمبر 1980 کو جنگ کے آغاز پردریائے اروند عبور کرنے میں ناکامی اور خرم شہر کے محافظوں کی مزاحمت کی وجہ سے آبادان پر قبضے کے لیے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت عراقی فوج نے مارد کے علاقے میں دریائے کارون عبور کر کے بہمنشیر کی طرف پیش قدمی کرنی تھی۔[2] 11اکتوبر 1980 کو عراقی فوج کے چھٹے بکتر بند بریگیڈ نے دریائے کارون سے اہواز خرم شہر شاہراہ تک 2 کلومیٹر چوڑا پل قائم کر کے دریا پر ایک متحرک پل نصب کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے کارون کے مشرقی علاقے کو مزید مضبوط کیا۔ تین دن بعد یعنی 14 اکتوبر 1980 کی رات دشمن نے مارد گاؤں پر قبضہ کر لیا۔ اگلی صبح انہوں نے ماہشہر آبادان شاہراہ کی طرف پیش قدمی کی اور اس پر قبضہ کر کے آبادان کے جزیرے کا مکمل زمینی محاصرہ کر لیا۔ اگرچہ عراق کا مقصد آبادان تک رسائی تھا لیکن پلوں کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ شمالی حصے میں بھی اپنے قدم جمائے جائیں۔ اسی لیے عراقی فوج نے شمال میں سلمانیہ گاؤں کے قریبی علاقوں تک اپنی پوزیشنیں پھیلا دیں۔[3] اس طرح دشمن نے کارون کے مشرق میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا تاکہ آبادان تک رسائی ممکن ہو سکے۔[4]
چند روز بعد عراقی فوج نے آبادان کے ریگستانوں، دارخوین اور ماہشہر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سلمانیہ اور دارخوین کے درمیان کارون پر دو مزید پل نصب کیے۔[5] اکتوبر 1980 میں دشمن کے دریا عبور کرنے اور آبادان کے محاصرے کے بعد اس دریا کے مشرق میں تین دفاعی لائنیں بن گئیں جن میں آبادان محاذ پر چودہ کلومیٹر لمبی، دارخوین محاذ پر پچاس کلومیٹر اور ماہشہر محاذ پر سات کلومیٹر لمبی دفاعی لاینیں تھیں۔[6]
26 اکتوبر 1980 کو خرم شہر کے سقوط اور کارون پر موجود پل کی تباہی کے بعد یہ دریا آبادان میں موجود ایرانی دستوں اور خرم شہر میں موجود عراقی فوج کے درمیان ایک قدرتی رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر گیا۔[7]
جنوری 1981 میں خوزستان کی گورنری اور محکمہ آب و برق نے دشمن کو روکنے کے لیے مصنوعی سیلاب جاری کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے نہریں کھود کر دریائےکارون کا پانی پمپ کیا گیا۔[8] اہواز- اندیمشک چوکی کے شمال میں ایک وسیع نہر کھودی گئی اور نو بڑے پمپوں کے ذریعے کارون کا پانی اس میں ڈالا گیا۔ یہ پانی اہواز کے جنوب مغرب میں دب حردان کے قریب میدانی علاقے میں پھیل گیا اور اس نے علاقے کے ایک حصے کو دلدل میں بدل دیا۔[9]
فروری 1981 میں فوج کے 77 ویں ڈویژن نے آبادان اور خرم شہر کے علاقے کی کمان سنبھالی اور آبادان کا محاصرہ توڑنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔[10] اس منصوبے کے تحت، جسے آپریشن ثامن الائمہ کا نام دیا گیا، 77 ویں ڈویژن اور سپاہ پاسداران کے دستوں کو دریائے کارون کے مشرق میں مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کی ذمہ داری دی گئی۔[11]
27 ستمبر 1981 کی صبح جب اس آپریشن کا آغاز ہوا تو ایرانی فوجیوں نے ذوالفقاریہ، فیاضیہ اور دارخوین کے علاقوں سے دشمن پر حملہ کیا اور دو دن کی لڑائی کے بعد انہوں نے آبادان کا محاصرہ توڑ دیا۔[12] اس آپریشن میں عراق کی جانب سے دریائے کارون پر نصب کردہ قصبہ اور حفار کے دو پلوں کو ایرانی دستوں نے تباہ کر دیا۔[13] اس طرح دشمن کو مکمل طور پر کارون کے مشرقی ساحل سے نکال باہر کیا گیا۔[14]
عراقی فوج کو 1982 میں یہ خیال تک نہ تھا کہ ایران خرم شہر کی واپسی کے لیے دریائے کارون کو پار کر پا سکے گا۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ حملے کا مرکزی محور کارون سے گزرے گا۔ کارون کے مغربی ساحل کا کچھ حصہ سرکنڈوں اور جھاڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس وجہ سے دشمن کی دید وہاں کم تھی۔ کارون سے لے کر اہواز خرم شہر شاہراہ پر دشمن کی دفاعی لائنوں تک کا درمیانی علاقہ خالی تھا۔ وہاں دشمن کا کوئی دستہ موجود نہ تھا۔ دشمن صرف گشتی دستوں سے علاقے کی نگرانی کرتا تھا۔ وہاں دشمن کی کوئی منظم دفاعی لائن موجود نہ تھی۔[15]
29 مارچ 1982 کو جب آر ایف 4 طیارے کی لی گئی تصویروں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ طیارہ ہور العظیم کی تصویریں نہیں لے سکا۔ مگر واپسی پر کارون کے اوپر سے گزرتے ہوئے اس کے کیمروں نے دریا کے مغربی ساحل کی واضح تصویریں لے لیں۔ یہ تصویریں دارخوین کے شمال سے لے کر خرم شہر کے شمال تک کے علاقے کی تھیں۔ کربلا ہیڈ کوارٹر میں ان تصویروں کے جائزے سے پتا چلا کہ دریائے کارون کے مغربی ساحل کے ایک حصے میں دشمن موجود نہیں ہے۔ یہ قیمتی تصویر دشمن کی لائنوں میں ایک خالی جگہ کی نشاندہی کا سبب بنی۔ اس سے آپریشن بیت المقدس کی منصوبہ بندی تبدیل ہوئی اور اس بڑی جنگ میں کامیابی کی امید پیدا ہوئی۔[16]
آپریشن بیت المقدس کی منصوبہ بندی میں یہ طے پایا کہ دو ہیڈ کوارٹرز، جن میں پانچ ڈویژن شامل ہوں، دریائے کارون کے چالیس کلومیٹر چوڑے راستے سے دریا پار کریں گے۔[17] دریا پار کرنے اور متحرک پلوں کی تنصیب کے لیے پانچ مقامات منتخب کیے گئے۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں فوج کی برّی قوت نے فتح اور نصر نامی دو ہیڈ کوارٹرز کے گزرنے کے لیے دریائے کارون پر پانچ متحرک پل نصب کیے۔[18]
30 اپریل 1982 کو دارخوین کے علاقے میں کارون پر پیروزی پل نصب کیا گیا۔ اس کے ذریعے ایرانی فوجیوں کے دریا پار کرنے سے خرم شہر کی آزادی اور دریائے کارون کے شمالی ساحل کی بحالی کے راستے ہموار ہوئے۔ بالآخر 24 مئی 1982 کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔[19]
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد بہمن شیر کے پانی کا معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ اس کا مقصد دریا میں نمکین پانی کی آمیزش روکنا اور آبادان کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی بہتر بنانا تھا۔ جولائی 2021 میں مارد کے مقام پر کارون پر ایک مٹی کا بند تعمیر کیا گیا۔ اس بند کی لمبائی 190 میٹر، چوڑائی 11 میٹر اور اونچائی تقریباً 19 میٹر ہے۔ اس بند کی تعمیر سے دریائے کارون کا راستہ بند کر دیا گیا۔ اس سے دریا کا خلیج فارس سے رابطہ ختم ہو گیا اور نمکین و میٹھے پانی کے الگ ہونے سے آبادان کے پانی کا معیار بہتر ہو گیا۔[20] مزید برآں حالیہ برسوں میں کارون کے بالائی حصوں سے پانی کا رخ صوبہ اصفہان کی طرف موڑنے کی وجہ سے دریائے کارون میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے۔[21]
حوالہ جات
- [1]. پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی 1: خوزستان در جنگ، تہران، صریر، 2010، ص 194۔
- [2]. ایضاً، ص 194 اور 195
- [3]. بنی لوحی، سید علی و دیگران، نبردهای شرق کارون به روایت فرماندهان، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2000، ص 54
- [4]. ایضاً، ص 55
- [5]. سلیمانی خواہ، نعمت اللہ، این سوی اروند جایی برای دشمن نیست، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2014، ص 368
- [6]. بنی لوحی، سید علی و دیگران، ایضاً، ص 75 اور 76۔
- [7]. پورجباری، پژمان، ایضاً، ص 195
- [8]. شیر محمد، محسن، چشمان عقاب: حماسه گردان 11 شناسایی تاکتیکی نیروی هوایی و عملیات عکس برداری هوایی در دفاع مقدس، تہران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2017، ص 179؛ حسینی، یعقوب، سیل مصنوعی برای پدافند در خوزستان، تہران، ایران سبز، 2013، ص 33
- [9]. حسینی، یعقوب، ایضاً، ص 34
- [10]. سروری، روح اللہ و ابوالقاسم جاودانی، عملیات ثامن الائمه، تہران، نشر آجا، 2011، ص 88، 89 اور 124۔
- [11]. روزشمار جنگ ایران و عراق، نبردهای شرق کارون به روایت فرماندهان، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه پاسداران، 1994، ص 175
- [12]. جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، تہران، سوره سبز، پینتیسواں ایڈیشن، 2014، ص 64
- [13]. اردستانی، حسین، تاریخ شفاهی دفاع مقدس، روایت سید یحیی صفوی، از سنندج تا خرمشهر، ج 1، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2018، ص 336 اور 337؛ سلیمانی خواہ، نعمت اللہ، ایضاً، ص 473 تا 475۔
- [14]. پورجباری، پژمان، ایضاً، ص 195
- [15]. حیدری مقدم، عباس، هندسه در رزم، تاریخ شفاهی مهندسی رزمی دفاع مقدس، ج 2، تہران، انتشارات موزه انقلاب اسلامی و دفاع مقدس، 2019، ص 294
- [16]. ابوعلی، زهرا، افسر دالسین: خاطرات سرهنگ محمدجواد انشایی، تہران، نشر آجا، 2010، ص 211 اور 2
- [17]. پرونده خرمشهر:1- میزگرد بررسی نقش نیروهای پشتیبانی و خدماتی رزم در عملیات بیت المقدس»، فصلنامه فرهنگ پایداری، ش 4، بهار 2009، ص 36.
- [18]. سابق، ص 39
- [19]. پورجباری، پژمان، سابق، ص 195
- [20]. «فرماندار: ساخت سد مارد کیفیت آب آبادان را افزایش داد»، ایرنا، 30 جون 2021ء، www. irna. ir/news/84389178
- [21]. «آورد کارون 50 درصد کاهش یافت»، خبرآنلاین، 25 جولائی 2021ء